تحریک عدم اعتماد 31مارچ تک آر یا پار ہوجائے گی

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہےکہ تحریک عدم اعتماد 31 مارچ تک آر یا پار ہو جائے گی اور عدم اعتماد کا فیصلہ آجائے گا،72 گھنٹو کا ٹائم دیتا ہوں ، اس دوران جہاں فیصلے ہونے ہیں ہو جائیں گے جبکہ سیاسی تجزیہ ہے کہ صورتحال ایک گھنٹہ پہلے بھی بدل سکتی ہے اور میں عمران خان کے ساتھ ہوں۔
شیخ رشید کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے کہنا تھا خرید و فروخت کی منڈی لگی ہوئی ہے، آصف علی زرداری خرید و فروخت کے ماہر ہیں، انہوں نے حاکم زرداری کے زمانے میں ضمانتیں ضبط ہونے کے بعد بھٹو خاندان کو ایک ایک کر کے سیاست سے الگ کردیا،موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کہیں 5 سے 6 ہزار سے زائد لوگ جمع نہیں کر پائی ہے۔
انہوں نے کہامیرا خیال ہے کہ 72 گھنٹوں یعنی 29 سے 31 مارچ تک تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ ہوجائے گا، ڈھائی بجے کے اجلاس (پارلیمانی پارٹی) میں علم ہوجائے گا کہ قرارداد اسمبلی میں کب پیش کی جارہی ہے،اگر تحریک عدم اعتماد آج پیش ہوگی تواس کا مطلب ہے کہ 72 گھنٹوں میں فیصلہ ہوجائے گا اور میں عمران خان کے ساتھ ہوں۔
شیخ رشید نے کہا ہمیں علم نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کہاں سے اسلام آباد میں داخل ہوگی، ہم ان کو سیکیورٹی دینا چاہتے ہیں ،مسلم لیگ (ن) مولویوں سے خطاب کرنے آرہی ہے کیونکہ ان کے پاس اپنے لوگ تو موجود نہیں ہیں، جی ٹی روڈ پر بھی میری توقع سے بہت کم لوگ تھے،میں نے بلاول کے جلسے میں بھی یہ غلطی کی تھی، 2 ہزار 900 لوگوں کی سیکیورٹی فراہم کی لیکن حلفاً کہنے کو تیار ہوں کہ جلسے میں اتنے لوگ نہیں تھے، میں وہاں موجود تھا،فضل الرحمٰن کے مدرسوں کی چھٹیاں ہیں، تو یہ لوگ جائیں مولویوں سے خطاب کریں گے۔جے یوآئی کے پاس آج کے جلسے اوردھرنےکی اجازت نہیں ہے، ان کا این او سی ختم ہوچکا ہے، مسلم لیگ (ن)ٌ کوآج کےجلسے کی اجازت ہے.
انہوں نے کہاعمران خان ایک آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھ رہا ہے، ہم عمران خان کےساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں، عمران خان اقتدار میں ہو نہ ہو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔کسی حکومت کو وقت پورا کرتے نہیں دیکھا، میرے خیال میں 29 کی شام سے 31 کی شام آریا پار ہو جائے گا، میرا سیاسی وجدان کہتا ہے ایک گھنٹہ پہلے تک صورتحال بدل سکتی ہے کیونکہ 172بندے اپوزیشن نے لانے ہیں، سیاستیں انٹرنیشنل ہوتی ہیں لیکن مجھے اس خط کا علم نہیں جس کا ذکر کیا گیا، اسٹیبلشمنٹ صرف پاکستان کے ساتھ ہے، میں عمران خان کو پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ حج کے بعد انتخابات کرادیں اور پنجاب اسمبلی توڑی جائے، میں ملک میں ایمرجنسی اور سندھ میں گورنر راج چاہتا تھا کیونکہ لوگ بک رہے ہیں۔
