تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی گرفتار

تحریک لبیک پاکستان کے مطابق جماعت کے سربراہ صاحبزادہ سعد حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم لاہور پولیس نے ابھی تک گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ترجمان تحریک لبیک پاکستان نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اوچھے ہتھکنڈے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور لانگ مارچ ضرور ہوگا۔ ترجمان تحریک لبیک پاکستان کے مطابق پیر کو لاہور میں سعد رضوی ایک نماز جنازہ پڑھانے کے بعد واپس گھر آ رہے تھے کہ پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ تاہم دوسری طرف لاہور پولیس نے ابھی تک ان کی گرفتارکی تصدیق نہیں کی ہے۔ ترجمان لاہور پولیس کے مطابق ’ہم ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ لاہور میں اس طرح کی کوئی گرفتاری ہوئی ہے۔ اگر اس طرح کا کوئی معاملہ ہوتا ہے تو میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا‘
خیال رہے کہ اس سے قبل سعد رضوی نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے فرانسیسی سفیر کے حوالے سے ان وعدوں سے انحراف کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان فرانس سے تعلقات کا از سر نو جائزہ لے گا۔ انہوں بیس اپریل کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال بھی دی تھی۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک نے حکومت کو فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے 20 اپریل تک کا وقت دیا تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ملک گیر مظاہروں اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کی جانب سے ممکنہ مظاہروں کو مدنظر رکھتے ہوئے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سعید رضوی کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تحریک لبیک کے رہنما نے کہا کہ کہ حکومت 20 اپریل کو فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے وعدے سے مکر گئی ہے اور سعد رضوی کو گرفتار کر لیا ہے۔خالد اعوان نے کہا کہ سعد رضوی کی گرفتاری کے باوجود وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک پولیس نے وضاحت نہیں کی کہ سعد رضوی کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ 2020 میں فرانس میں سرکاری سطح پر پیغمبر اسلام ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں سخت ردعمل آیا تھا خاص طور پر پاکستان میں بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی اور تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر کو معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔اس معاہدے کے 2 روز بعد 19 نومبر 2020 کو ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے تھے۔
نومبر میں ہوئے اس معاہدے میں کہا گیا تھا کہ حکومت فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق 3 ماہ میں پارلیمنٹ سے فیصلہ لے گی، فرانس میں اپنا سفیر مقرر نہیں کرے گی اور ٹی ایل پی کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کرے گی، مزید یہ کہ حکومت دھرنا ہونے کے بعد ٹی ایل پی رہنماؤں یا کارکنان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کرے گی۔اگرچہ آخری 2 مطالبات فوری طور پر مان لیے گئے تھے لیکن پہلا مطالبہ زیر التوا تھا۔
بعد ازاں ٹی ایل پی نے جنوری میں خبردار کیا تھا کہ حکومت نے اگر 17 فروری تک توہین رسالت ﷺ کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو وہ اپنا احتجاج دوبارہ شروع کرے گی۔خادم حسین رضوی کے چہلم پر ان کے صاحبزادے اور ٹی ایل پی کے نئے سربراہ سعد رضوی نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ’اگر آپ اپنا معاہدہ بھول گئے ہیں تو ہماری تاریخ دیکھ لیں، اب ہم (حضور ﷺ کی ناموس کے لیے) مرنے کو مزید تیار ہیں، آپ کے پاس فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے لیے 17 فروری تک کا وقت ہے‘۔مطالبات کی عدم منظوری پر تحریک لبیک نے 16 فروری کو اسلام آباد میں مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا تھا ۔
تاہم 11 فروری کو حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر ایک اور معاہدہ طے پا گیا تھا۔اس حوالے سے معاہدے کی دستیاب نقل کے مطابق حکومت پاکستان اور تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے مذاکرات جاری تھے، جس میں حکومت نے اپنے عزم کو دوہرایا اور معاہدے کی شقوں کو 20 اپریل 2021 تک پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا اور فیصلے پارلیمنٹ کی منظوری سے طے پائیں گے۔
دونوں فریقین کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق ’تحریک لبیک پاکستان کے جو لوگ فورتھ شیڈول پر ڈالے گئے ہیں ان کے نام نکال دیے جائیں گے، مزید یہ کہ 20 اپریل 2021 تک معاہدے کی روح کے منافی کوئی سرگرمی پر معاہدہ منسوخ سمجھا جائے گا‘۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک لبیک نے 16 فروری کو ہونے والا اسلام آباد مارچ مؤخر کردیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کو ملک بدرکرنے کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ حکومتی کی جانب سے مطالبات کی عدم منظوری اور معاہدے پر عملدرآمد نہ کیے جانے پر تحریک لبیک نے 20اپریل کو ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔
