تحریک لبیک کا دباو: فلم ’’زندگی تماشا‘‘ لٹکی ہوئی ہے

تحریک لبیک کے دباؤ پر سنسر بورڈ کی طرف سے ریلیز روکے جانے کے بعد سرمد کھوسٹ کی فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کا مستقبل تاریک نظر آتا یے کیونکہ نہ تو اس حوالے سے فلم سنسربورڈ کوئی فیصلہ کر پایا ہے اور نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل جسے کے سنسر بورڈ نے فلم دیکھ کر ااپنی رائے دینے کو کہا تھا۔ یاد رہے کہ تحریک لبیک نے اس فلم پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس میں علامہ خادم حسین رضوی کے کردار کو مسخ کرکے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

فلم کے مستقبل سے مایوس اسکے ہدایتکار سرمد کھوسٹ نے "زندگی تماشہ” کی ریلیز رکوانے کے بعد سے کوئی پیشرفت نہ ہونے پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے ایک طنزیہ ٹویٹ کی ہے۔ سرمد کھوسٹ ایک ماہ سے فلم کی ریلیز کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی جائزہ رپورٹ کے منتظر ہیں۔ فلم کی ریلیز میں حائل رکاوٹوں پر اپنے ساتھیوں کی جانب سے خاطر خواہ ساتھ نہ دینے پر سرمد نے ایک ٹویٹ کی صورت میں دل کی بھڑاس نکالی۔

یاد رہے کہ سندھ اور پنجاب کے سنسر بورڈ نے 24 جنوری 2020 کیلئے شیڈول ’’ زندگی تماشا ‘‘ کی ریلیز کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ مذہبی حلقوں کی جانب سے شکایات موصول ہونے کی وجہ سے فلم کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ سائٹ ٹوئٹر پر سرمد نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کافی عرصے سے ظبط کررکھا تھا، میں نہیں چاہتا تھا کہ طوفانی غم وغصے کا اظہار ہو لیکن اب میں آپ کو اچھا لطیفہ سناتا ہوں‘‘۔ سرمد کھوسٹ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ فلم اور ٹی وی ایک برادری ہیں، جی ہاں یہ ایک لطیفہ ہے اور ایک متضاد بات بھی۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے دو ہفتے پہلے کہا تھا کہ فلم "زندگی تماشا” کے حوالے سے شعبہ تحقیق کے ممبران پر مشتمل کمیٹی بنا لی گئی ہے۔ ہم فلم سنسر بورڈ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ جلد ایسی صورتحال پیدا ہوگی کہ ہماری کمیٹی یہ فلم دیکھ لے گی اور اپنی رپورٹ دے گی جو کونسل کی ایپکس باڈی کے پاس جائے گی، جس کے بعد اگلے اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل 22 جنوری کو 4 رکنی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو فلم کے موضوع اورسماجی اثرات کے حوالے سے جائزہ لینے کے بعد چیئرپرسن کو رپورٹ پیش کرے گی۔

یاد رہے کہ فلم کا ٹریلر جاری ہونے کے بعد اس پر مذہبی حلقوں خصوصا تحریک لبیک کی جانب سے کافی تنقید کی گئی، جس کے باعث فلم کا ٹریلر یوٹیوب سے ہٹادیا گیا تھا۔ اسے معمولی ترمیم کے بعد دوبارہ اپ لوڈ کیا گیا تاہم مخالفت میں کمی نہیں آئی۔ سرمد کھوسٹ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک کھلا خط بھی لکھا ہے جس میں فلم کی نمائش میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا جبکہ مولانا خادم حسین رضوی کے ہمدردوں کی جانب سے ہدایتکار، پروڈیوسر اورعملے کو دھمکیاں ملنے کا بھی انکشاف کیا تھا۔

سرمد کھوسٹ کی ہدايتکاری ميں بننے والی اس فلم کے مرکزی کرداروں میں عارف حسین، سمیعہ ممتاز، علی قریشی اور ایمان سلیمان شامل ہیں۔ اندرون لاہور کی زندگی کے تلخ حقائق ،نشيب و فراز اور گلی محلوں میں بسنے والے عام کرداروں کے گرد گھومتی فلم ”زندگی تماشا‘‘ریلیز سے قبل ہی بوسان فلم فیسٹیول میں’’ کم جیسوئک‘‘ ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button