تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب کےخلاف فرد جرم ہے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی آٹے بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔شہباز شریف نے کہا کہ دیکھتے ہیں کہ وزیراعظم جو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) کے چیئرمین ہیں، اپنے اور اپنے وزیر اعلیٰ عمثان بزدار کے خلاف اس بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن اور اقربا پروری پر کیا سزا مقرر کرتے ہیں؟انہوں نے مذکورہ رپورٹ کو وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف فرد جرم قرار دیا۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ میں عوام کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کے خلاف جنگ کرنے کےلیے لندن سے آیا تھا۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اس تہیہ کے ساتھ وطن واپس آیا تھا کہ سیاست اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہوکر قوم کی خدمت کرنی ہے۔
جمعیت علما اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسد محمود نے کہا کہ چینی بحران پر انکوائری رپورٹ نے حکومت کی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔مولانا اسد محمود نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ نے عمران خان کی ’اے ٹی ایم مشینوں ‘ کو زمہ دار قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کرپشن ریس میں حکومتی زمہ دار بدستور درجہ اول پر ہیں اور اب کسی چور کو نہیں چھوڑوں گا کا وعدہ پورا کرنے کا اب عمران خان کے پاس سنہری موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ اب دیکھتے ہے کہ عمران خان کب چوروں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
اس سے قبل مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ منظر عام پرآنے کے بعد سوال اٹھایا ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان بحران میں شریک اپنے ’دوستوں‘ کے خلاف کارروائی کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے قوم کی گندم اور چینی چوری کی جبکہ اس دوران وہ دوسروں پر گندم اور چینی کے بحران کا الزام لگا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان، جہانگیر ترین اور خسرو بختاربحران کے ’منافع خوراور اصل مجرم‘ ہیں۔
اس دوران پی پی پی کے سیکریٹری انفارمیشن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ جن لوگوں نے ملک میں چینی کا بحران پیدا کیا وہ وزیراعظم عمران خان کے ’فنانشل سہولت کار‘ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’کیا عمران خان تحریک انصاف کے ڈپٹی کے خلاف کارروائی کریں گے؟‘نفیسہ شاہ نے الزام لگایا کہ عمران خان کے دوست چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’مدینہ ریاست کے قوانین کے تحت وہ ان کے ہاتھ کاٹیں گے؟‘
مذکورہ معاملے پر پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری نے کہا کہ انکوائری رپورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی گڈ گورنس کا بھانڈا پھوڑ دیا۔نیر بخاری نے کہا کہ قوم مالی فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی منتظر ہے، قانون کا یکساں برابر نافذ اور ایک ہی معیار وزیراعظم عمران خان اور قومی احتساب بیورو (نیب) کا امتحان ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے کسی چور کو نہ بخشنے کا وعدہ کیا تھا، اب وہ وعدہ پورا کرنے کا سنہری موقع ہے۔ پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ مصنوعی بحران پیدا کرنے والے منافع خور وزیراعظم کے مالی مددگار اور انتخابی سرمایہ کار نکلے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’نائب وزیراعظم‘ چینی اور گندم بحران کے براہ راست زمہ دار ہیں۔
واضح رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ عوام کے سامنے آگئی جس میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا۔وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق رواں سال گنے کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں درحقیقت ایک فیصد زیادہ ہوئی، پچھلے سال کے مقابلے میں کم رقبے پر گنے کی کاشت کی گئی۔رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گزشتہ چند سالوں کے دورن چینی کی پیداوار مقامی ضرورت نے کہیں زیادہ تھی جس کی وجہ سے اس پہلو کی تحقیقات کرنا اور اسے شامل کرنا ضروری تھا کہ چینی کی برآمدات میں دی گئی سبسڈی، مقامی سطح پر چینی کی قیمت پر مرتب ہونے والے اثرات اور ان سبسڈی سے کس نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button