ترکش ڈراموں سے کپتان کونسا فلسفہ پروان چڑھانا چاہتے ہیں؟

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی پر ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کی شاندار کامیابی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایک صوفی درویش یونس امرا کی زندگی پر بنی ہوئی ڈرامہ سیریل کو بھی اردو زبان میں ڈب کرکے پی ٹی وی پر دکھانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
تاہم دوسری جانب ملک کے لبرل حلقے وزیراعظم کی سوچ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر کپتان یہ ترکش ڈرامے پاکستانی عوام کو کیوں دکھانا چاہتے ہیں جبکہ سب جانتے ہیں کہ ان ڈراموں میں دکھائی جانے والی اسلامی تاریخ مسخ شدہ ہے اور حقیقت سے کوسوں دور بھی۔ خیال رہے کہ کچھ عرصہ پہلی وزیراعظم عمران خان نے مشہور ترک سیریل ” ارطغرل غازی” کو پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کرنے کی ہدایت کی تھی جو کہ اب یکم رمضان المبارک سے اردو میں ڈبنگ کے بعد ناظرین کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ ترکی کا یہ معروف ڈرامہ 13 ویں صدی میں اناطولیہ میں سلطنت عثمانیہ کے قیام سے قبل کے دور کی کہانی کو بیان کرتا ہیں ۔ واضح رہے کہ ڈرامہ ارطغرل غازی نے جس طرح دنیا بھر میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑے، اسی طرح پاکستان میں بھی اس کو خوب پسند کیا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم کی جانب سے ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر دکھانے کے اقدام کو بھی سراہا جا رہا ہے۔
تاہم اب وزیراعظم نے اسلامی تاریخ پر مبنی ایک اور ٹرکش ڈرامہ پی ٹی وی پر نشر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فیصل جاوید نے ٹویٹر پر بتایا ہے کہ وزیراعظم ارطغرل غازی کے بعد ڈرامہ سیریل "يونس امرہ” کو بھی پی ٹی وی پر نشر کرنا چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ یونس امرہ ایک صوفی شاعر اور ایک غریب دیہاتی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ اور اسکی تلاش کے لئے وقف کر دی۔
دوسری جانب ارطغرل غازی کے پی ٹی وی پر دکھائے جانے کو جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد میں سراہا اور اس کے ذریعے پاکستان ٹیلی ویژن کی ویور شپ میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے تاہم ملک کے لبرل حلقے وزیراعظم کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ناقدین وزیراعظم عمران خان اور ترکی کے صدر طیب اردوان کی شخصیت کا موازنہ کر کے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ طیب اردوان اپنے ملک میں ان ڈراموں کے ذریعے جس کلچر کو پروان چڑھا رہے ہیں وہ ان کی پارٹی کی سوچ کے مطابق ہے تاہم دوسری طرف عمران خان اردگان سے ایک بالکل مختلف آدمی ہیں جن
کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ ناقدین کا کہنا یے کہ اگر طیب اردوان اپنے ملک میں بننے والے ڈراموں میں اسلام کے شاندار ماضی کی جھلک دکھانا چاہتے ہیں تو وہ اس میں حق بجانب ہیں کیونکہ انہوں نے ایک لمبی جدوجہد کے بعد ملک میں لبرل اسلامائزیشن کو فروغ دیا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ارطغرل غازی سمیت ترکی میں بننے والی کئی ڈرامہ سیریز میں میں تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے جس کا واحد مقصد ترکی میں برسر اقتدار جماعت کے نظریے کو پھیلانا ہے۔
لبرلز کی جانب سے وزیراعظم عمران خان پر اس وجہ سے بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ ان کے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے اور پاکستان میں عمران خان کا تاثر بات بات پر یوٹرن لینے والے حکمران کا ہے۔ ویسے بھی پاکستان اور ترکی کی روایات میں بھی فرق ہے پاکستان کثیر العقائد ملک ہے جہاں بہت سے لوگ عرب اور ترک حملہ آوروں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال تواتر سے پوچھا جا رہا ہے کہ ترکی میں بننے والی ڈرامہ سیریل کو پاکستان میں دکھانے کا آخر کیا مقصد ہے۔
ناقدین کے خیال میں عمران خان ملک میں اسلامائزیشن کے فروغ کے لیے یہ سب کر رہے ہیں یا وہ اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کہنے پر ملک میں جہادی سوچ اور نام نہاد صوفی ازم کے پھیلاؤ کے لئے اس طرح کے ڈرامے پیش کرنے کے خواہاں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ درامہ ارطغرل غازی میں جس طرح مسلم سپہ سالار کو غیر مسلموں اور بیرونی دشمنوں کے ساتھ ساتھ ملک میں موجود غداروں سے لڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے اسی طرح وزیراعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ ذاتی طور پر انہیں بھی بیرونی محاذ کی طرح اندرونی محاذوں پر بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جس طرح ارطغرل نے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو شاندار حکمت عملی کے تحت شکست دی اسی طرح وہ بھی پاکستان میں اپنے سیاسی حریفوں کا قلع قمع کریں گے۔ تاہم ناقدین وزیراعظم عمران خان کی اس کوشش کو سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے اقدامات سے ملا رہے ہیں جنہوں نے اپنے دور میں میں سلطان راہی اور مصطفی قریشی کے ذریعے لالی وڈ میں گنڈاسا کلچر کو فروغ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی اس ملک اور معاشرے کی بہتری کے لیےایک ڈنڈا بردار شخص ہی کافی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button