ترکی کے جنگلات میں آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 8 ہوگئی

ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کئی علاقوں سے رہائشیوں اور سیاحوں کو کشتیوں کے ذریعے منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ کوسٹ گارڈ اور بحریہ کے دو جہاز سمندر میں کسی بڑے انخلا کی ضرورت کے پیش نظر تعینات کیے گئے ہیں۔ترکی کی ایمرجنسی اورڈیزاسٹر اتھارٹی نے پانچ صوبوں میں آگ سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔اس آگ میں 63 سالہ کسان خاتون نے بھی اپنی زندگی کی تمام کمائی کھو دی، اس کا کہنا تھا کہ جو بھی اس آگ کا ذمہ دار ہے اسے سخت سے سخت سزا سنائی جانی چاہیے۔
گزشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردوان نے جنگلات میں لگی آگ کو ممکنہ سازش قرار دے دیا تھا۔ ترک صدر کا متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران کہنا کہ ہمیں اشارے ملے ہیں کہ آگ لگنے کے واقعات کے پیچھے کوئی سازش ہو سکتی ہے، جس کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا کہ متاثرہ افراد کے لیے ٹیکس، سماجی تحفظ اور کریڈٹ کی ادائیگی ملتوی کردی جائےگی اور چھوٹے کاروباری اداروں کو بلاسود قرضوں کی پیش کش کی جائے گی۔28 اور 29 جولائی کے درمیان ترکی کے 21 صوبوں میں 63 مقامات پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ترکی کے علاوہ روس، یوکرین، ایران اور آزربائیجان کی فائر فائٹرز ٹیمیں بھی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
