ترک سوشل میڈیا پر ‘گیٹ آوٹ پاکستانی’ ٹرینڈ کیوں؟


استنبول کی گلیوں میں چند پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے خواتین کا پیچھا کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر پاکستان کے لیے شرمندگی کا سامان پیدا کر دیا ہے۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند پاکستانی نوجوان استنبول کی گلیوں میں ترک خواتین کا پیچھا کر رہے ہیں، اور بغیر اجازت انھیں فلم بند کر رہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں تو ایک نوجوان نے ترکش خواتین کی طرف کیمرا گھماتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ انھیں دیکھ کر میرے اندر کی بھوک بڑھ جاتی ہے۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد ترکی کے سوشل میڈیا پر ’پاکستانی جنسی درندے‘ اور ’پاکستانی گیٹ آؤٹ‘ جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے جس کے بعد کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد ترکی میں پاکستانیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے ترک خواتین کو ہراساں کیے جانے کے بعد ترکی نے پاکستانیوں کے لیے اپنی ویزا پالیسی سخت کر دی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ترکی کی حکومت خاندان کے ساتھ سفر کرنے والوں کو ترجیحی بنیادوں پر ویزے دے گی جب کہ اکیلے سفر کرنے والے نوجوانوں کو ویزہ دیتے وقت چھان پھٹک کی جائے گی۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے ترکش خواتین کی بڑی تعداد نے پاکستانیوں کے اس عمل کی مذمت کی ہے۔ لیکن ذیادہ تر خواتین کے مطابق ہراسانی کا تعلق کسی قوم یا نسل سے نہیں بلکہ اب یہ پوری دنیا میں ایک عمومی رویہ بن چکا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عورتوں کے خلاف ایسی حرکتیں دنیا کے ہر ملک میں ہو رہی ہیں اور ہراساں کرنے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے ترک خواتین کی بڑی تعداد نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مردوں کے لیے محض قید یا جرمانے کی سزا کافی نہیں بلکہ انھیں نفسیاتی تربیت کی ضرورت ہے تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔ یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ترک خواتین کو ہراساں کرنے میں ملوث پاکستانیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد انہیں گرفتار کرکے واپس ڈی پورٹ کر دیا جائے۔ ترک خواتین کے مطابق ماضی میں انہوں نے ترک مردوں کے پُر تشدد رویوں کا سامنا کیا ہے اور اب انہیں غیر ملکیوں کی جانب سے بھی ویسے ہی رویوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انکا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں انہیں اپنے ہی ملک میں ڈر لگنے لگ ہے۔
یاد رہے کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی تفریح کی خاطر ترکی کے مختلف شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ گذشتہ سال پاکستان سے قریب دو لاکھ سیاح، تقریباً دو ہزار طلبا اور 18 ہزار ملازمین ترکی گے، پاکستانی سفارتی عملے کے مطابق ایسی صورتحال کو روکنے کے لیے ترکی آنے والے پاکستانی شہریوں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ ضروری قانونی دستاویزات کے علاوہ مقامی روایات اور تہذیب کی بھی پیروی کر سکیں۔ انکے مطابق کچھ پاکستانی نوجوانوں کو لگتا ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر ایسی ویڈیوز ڈال کر شہرت حاصل کر لیں گے مگر انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ بغیر اجازت کسی کی ویڈیو بنانا جرم ہے، انکا کہنا یے کہ کچھ پاکستانیوں نے یہ حرکت کی ہے لیکن اس کی وجہ سے تمام پاکستانی بدنام ہو رہے ہیں۔

Back to top button