ترین کیخلاف کارروائی پر PTI میں بغاوت کا خدشہ

چینی سکینڈل کے تناظر میں جہانگیر ترین کیخلاف نیب کی جانب سے کسی کارروائی کے نتیجے میں تحریک انصاف کی صفوں میں بغاوت کے خدشات سر اٹھانے لگے ہیں جس سے کپتان حکومت بھی خطرات کا شکار ہو سکتی ہے۔ لہذا ان خدشات کے پیش نظر کپتان کو انکے قریبی ساتھیوں نے تجویز دی گئی ہے کہ جہانگیر ترین کو شوگر سکینڈل میں کلین چٹ دے دی جائے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف میں موجود جہانگیر ترین کے پرانے ساتھیوں کی جانب سے انھیں دوبارہ مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کروائے جانے کے بعد وزیر اعظم عمران خان شوگر سکینڈل پر جارحانہ حکمت عملی سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور اسی وجہ سے چینی سکینڈل کی فرانزک رپورٹ تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ اس دوران اب اس طرح کی باتیں بھی گردش میں ہیں کہ جہانگیر ترین کو چینی سکینڈل کی فرانزک رپورٹ میں کلئیر بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق چینی سکینڈل کے روح رواں جہانگیر ترین کے خلاف کسی تادیبی کاروائی پر تحریک انصاف میں بغاوت ہو سکتی ہے جو کپتان حکومت کو نقصان پہنچا سکتی ہے اس لئے ترین کو چینی سکینڈل میں کلین چٹ دئیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اس وقت حکومت میں جہانگیر ترین کے ہم خیالوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی بڑے سیاسی خاندان جہانگیرترین کے ساتھ ہیں۔ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی بڑی تعداد بھی ان کے کیمپ سے تعلق رکھتی ہے جن میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری، وزیر ایکسائز حافظ ممتاز، عون چودھری اور عامر کیانی وغیرہ شامل ہیں جبکہ سینٹ میں جہانگیر ترین کی اپنی ہمشیرہ کے علاوہ پارلیمنٹ میں موجود کئی لوگ انہی کے نامزد کردہ ہے۔
معلوم ہوا یے کہ جہانگیر ترین اور ان کے ساتھی اس وقت ایک حکمت عملی کے تحت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور وہ ابھی کپتان کو وقت دینا چاہتے ہیں لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی ذیادہ طویل نہیں ہو گی اور حکومت کے ایما پر نیب کی طرف سے کسی بھی کارروائی کی صورت میں جہانگیر ترین کے پارٹی اور اسمبلیوں میں موجود قریبی رفقا بغاوت کرتے ہوئے استعفوں سمیت کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کریں گے جس کے بعد کپتان کیلئے حکومت اور پارٹی کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا اور یہ بغاوت حکومت کے خاتمے پر منتج ہو سکتی ہے۔
دوسری طرف ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی جہانگیر ترین کے حوالے سے کاونٹر سٹریٹیجی پر کام شروع کر دیا ہے اور پنجاب میں عرصہ دراز سے کارنر کئے گئے رکن صوبائی اسمبلی عبدالعلیم خان کی کابینہ میں بطور سینئیر وزیر دوبارہ شمولیت اسی حکمت عملی کا ہی نتیجہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی کچن کیبنٹ میں شامل ترین مخالف لابی کپتان کو ان کی سابقہ اے ٹی ایم کیخلاف آٹا اور چینی سکینڈل میں سخت کارروائی کا مشورہ دے رہی ہے۔ تاہم دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو کپتان کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ جہانگیر ترین کے خلاف کارروائی کا مطلب اپنی حکومت کے خاتمے کی بنیاد رکھنا ہوگا لہذا اس سے پرہیز کیا جائے بلکہ یہ کوشش کی جائے کہ اگر کوئی گنجائش نکلتی ہو تو انہیں اسکینڈل میں کلین چٹ دے دی جائے۔
یاد رہے کہ کپتان اور ترین کے مابین موجودہ دوریوں کی بنیادی وجہ خاتون اول بشریٰ بی بی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
