ترین کی گرفتاری پر PTI میں فاورڈ بلاک بننے کا امکان

معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے جہانگیر ترین کے خلاف کارروائی میں تیزی آنے اور انکی گرفتاری کی صورت میں قومی اور پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے فارورڈ گروپ بنانے پر غور ہو رہا ہے جو کہ وقت آنے پر مرکز اور صوبے میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت کی تبدیلی کے منصوبے پر مشترکہ حکمت عملی بھی اپنا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان کی موجودہ حکومت تشکیل دینے میں ترین نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، انہوں نے الیکشن 2018 سے پہلے جنوبی اور سینٹرل پنجاب سے الیکٹیبلز کی ایک بڑی تعداد کو تحریک انصاف میں شامل کروایا تھا جو کہ اب انکے مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھل کر کھڑے ہو گے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان سے دور ہونے اور ایف آئی اے کی جانب سے کارروائی کے آغاز کے بعد ترین کے پاس سیاسی آپشنز تو محدود ہیں لیکن ان کی سیاسی بصیرت کے لوگ معترف ہیں۔ ترین کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے 3 ایف آئی آرز درج ہونے کے بعد اب ان کے لئے واپس لوٹنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اپنی خاموشی توڑتے ہوئے جہانگیر ترین نے تحریک انصاف کے سربراہ سے انصاف تو مانگا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ ایک دوست تھے لیکن اب ان کو دشمنی کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے جہانگیر ترین کی گفتگو کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب انصاف کرنا ہو تو پھر دوستوں اور دشمنوں کے بجائے میرٹ پر فیصلہ کرنا پڑتا یے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہے کہ پچھلے ایک برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ جہانگیر ترین نے سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ انکی عدالتی پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کے ایک درجن سے زائد وزرا، اور ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی بھی انکے ہمراہ موجود ہوں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اپنے ساتھ تحریک انصاف کے منتخب اراکین کو کھڑا کر کے ترین یہ کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت ان کے خلاف کارروائی سے باز آجائے۔ لیکن اگر حکومت ان کے خلاف ایکشن سے پیچھے ہٹتی ہے تو اس کی ساکھ کو شدید دھچکہ پہنچنے کا احتمال ہے۔ لیکن ترین کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی وفاقی اور پنجاب حکومتیں بہت کم ووٹوں کے فرق سے قائم ہیں اور اگر قومی اور پنجاب اسمبلیوں میں ترین کے ساتھی پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ دیں تو ان دونوں حکومتوں کا بچنا محال ہو گا۔
یاد رہے کہ 7 اپریل کو جہانگیر ترین کی عدلاتی پیشی کے موقع پر حکمران جماعت کے جو درجن بھر قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان انکے ساتھ تھے انکا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا اور یہ وہی الیکٹیبلز ہیں جو ترین کے ایما پر تحریک انصاف میں شامل ہو ئے تھے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے تا حیات نا اہل قرار دئے جا نے کے بعد جہانگیر ترین اپنے بیٹے علی کی شکل میں اپنا سیاسی مستقبل دیکھتے ہیں لیکن انکو بھی انکے ساتھ شوگر سکینڈل میں ملزم نامزد کردیا گیا ہے۔ چنانچہ اب ترین نے اپنی سیاسی طاقت دکھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس تجویز پر غور ہو رہا ہے کہ اگر ان کو گرفتار کرلیا جائے تو قومی اور صوبائی اسمبلی میں انک کے حمایتی حکومت اراکین اپنے علیحدہ فارورڈ بلاکس بنا لیں۔ حکمران جماعت کے جو ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی کھل کر ترین کے ساتھ عدالتی پیشی کے موقع پر کھڑے ہوئے ان میں سے زیادہ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے جن میں غلام بی بی بھروانہ، خرم لغاری، سلمان نعیم، عبدالحئی دستی، نعمان لنگڑیال، راجہ ریاض اور طاہر رندھاوا وغیرہ شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ترین اس سے قبل بھی عدالتوں میں پیش ہو چکے ہیں اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی ممبران پر ان کا اثر و رسوخ پہلے بھی موجود تھا۔ تاہم اس سے قبل ترین ان کے ہمراہ عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ تاہم اس مرتبہ ترین نے اپنے ساتھ عدالت چلنے والے ممبران کے لیے ناشتے کا اہتمام کیا تھا۔ اس کے بعد وہ تمام لوگ ان کے ساتھ عدالت کے باہر کھڑے نظر آئے جہاں انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات بھی کی۔
بینکنگ عدالت سے ترین کو عبوری ضمانت میں 10 اپریل تک توسیع مل گئی تاہم اب وہ اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ اگر انہیں مزید ضمانت نہ ملی اور گرفتار کر لیا گیا تو ان کے ساتھیوں نے انکے جیل جانے کے بعد کیسے چلنا ہے۔ ترین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کی تردید کی کہ وہ پی ٹی آئی کو چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ ضرور کہا کہ ‘وہ تو دوست تھے، انھیں دشمن کیوں بنایا جا رہا ہے؟’ گذشتہ چند روز سے ان کے دیگر سیاسی جماعتوں سے ممکنہ رابطوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
جہانگیر ترین کے بارے میں ایک تاثر موجود ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے خصوصاً صوبہ پنجاب کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تو کیا وہ اب ایسا کرنے جا رہے ہیں؟ یا پھر اثر و رسوخ کا یہ اظہار محض وقتی طور پر مقدمات اور عدالتی کارروائیوں سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے ہو سکتا ہے؟ صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے خیال میں یہ جہانگیر ترین کی طرف سے ایک غیر متوقع چال تھی۔ ‘انھوں نے یقیناً ایک پریشر گروپ بنایا ہے اور پہلی مرتبہ انھوں نے اسے ظاہر بھی کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ وہ اب اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔’ ان کے خیال میں جہانگیر ترین نے حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ آسان چنا ثابت نہیں ہوں گے۔
صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق جہانگیر ترین وہ شخص ہیں جن کے ذاتی اور خاندانی نوعیت کے تعلقات خصوصاً پنجاب میں ان افراد اور خاندانوں کے ساتھ ہیں جنھیں ‘الیکٹ ایبلز’ کہا جاتا ہے۔
‘انھوں نے یہ دکھایا ہے کہ الیکٹ ایبلز آج بھی ان ہی کے پاس ہیں۔ یہ حکومت کے لیے فوری خطرہ نہیں تو خطرے کی گھنٹی ضرور ہو سکتی ہے، خصوصی طور پر پنجاب کے اندر۔’ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ جتنے ممبران عدالت کے باہر موجود تھے، پی ٹی آئی کے اندر اس سے کہیں زیادہ ممبران کی حمایت انھیں حاصل ہے۔ ‘وہ جہانگیر ترین ہی تھے جن کی وجہ سے آج پی ٹی آئی کی پنجاب میں حکومت قائم ہے۔ اور آنے والے دنوں میں وہ صوبہ پنجاب کی سیاست میں ایک مرتبہ پھر اہم کردار ادا کریں گے۔’
تجزیہ کاروں کے خیال میں پنجاب میں پہلے ہی سے پی ٹی آئی کی قیادت کی جڑیں کمزور ہیں اور اگر ترین کو زیادہ تنگ کیا گیا تو وہ پی ٹی آئی حکومت ختم بھی کروا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور بظاہر ان کے پاس وہی اثر و رسوخ اب بھی موجود ہے۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں ابھی ایسا نہیں ہے کیونکہ ‘حکومت کو گرانے کے لیے بڑے جوڑ توڑ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن انکا کہنا یے کہ ترین پہلے مرحلے میں پی ٹی آئی کے اندر ایک فارورڈ بلاک بنا سکتے ہیں جو عمران کی جماعت کے لیے کافی نقصان دہ ہو گا۔’ انکا کہنا یے کہ ترین نے پہلے ہی سے ایسا کرنے کا آغاز کر دیا ہے اور میں ذاتی طور پر کئی ایسے ممبران کو جانتا ہوں جو ابتدا سے ترین کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی انہی کے کہنے پر چلنے کو تیار ہیں۔’
تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق جہانگیر ترین کو معلوم ہے کہ انکے خلاف ایف آئی اے کی تمام تر کارروائی وزیرِاعظم عمران خان کی منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
‘پی ٹی آئی کے اندر موجود ایک مخصوص لابی ابتدا ہی سے جہانگیر ترین کے خلاف حرکت میں ہے اور اس میں بیوروکریسی کا بھی ہاتھ ہے۔ لیکن اگر اعظم خان یا شہزاد اکبر جہانگیر ترین کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں وہ عمران خان کی منظوری کے بغیر تو ممکن نہیں ہے۔’ لہٰذا اب نہ تو عمران خان پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ ہی جہانگیر ترین۔ شامی سمجھتے ہیں کہ وزیرِاعظم عمران خان دانستاً جہانگیر ترین کو خود سے دور کر رہے تھے۔ ان کے خیال میں ‘ابتدا سے ایک تاثر تھا کہ عمران خان کی حکومت تو بنیادی طور پر جہانگیر ترین کے مرہونِ منت ہے اور عمران خان کو ظاہر ہے یہ تاثر پسند نہیں ہے۔’
تاہم ان کے خیال میں عمران خان اور جہانگیر ترین جو کبھی گہرے دوست تھے، اب ان کے درمیان فاصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت جہانگیر ترین کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرے گی۔ ‘جہانگیر ترین یہ جانتے ہیں اور انھیں یہ بھی پتہ ہے کہ ان کے خلاف یہ تمام تر کارروائی وزیرِاعظم کی مرضی سے ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اس وقت یہ کارڈ کھیلا۔’ مجیب شامی کہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ترین بھی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ ‘وہ عدالت کے اندر بھی لڑائی لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور اندر بھی۔’ لیکن ترین نے خود اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ پی ٹی آئی سے اپنی راہیں جدا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ‘میں نے پی ٹی آئی کو اپنا خون پسینہ دیا ہے اور ابھی۔میں اسی کا حصہ ہوں۔’
سہیل وڑائچ کے مطابق ‘جہانگیر ترین کے لیے اس وقت یہی مناسب ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے اندر رہیں۔ جماعت کے اندر رہتے ہوئے ہی وہ زیادہ بہتر دباؤ قائم کر سکتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ وہ پیپلز پارٹی کی طرف جانا چاہیں گے۔’ ان کے مطابق ترین کا اثر و رسوج پنجاب کے اندر ہے، سندھ میں نہیں ہے۔ ‘اگر وہ جماعت کبھی تبدیل کرنا بھی چاہیں تو وہ مسلم لیگ ق کی طرف جانا چاہیں گے لیکن اس کا امکان اس لئے کم ہے کہ نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومت گرانے میں عمران خان کے ساتھ جہانگیر ترین کا بھی ہاتھ تھا۔
اس اس سوال کے جواب میں کہ جہانگیر ترین اپنے ساتھ حکومتی جماعت کے ممبران اسمبلی کے پریشر گروپ کو کھڑا کر کے کیا کوئی فوری ریلیف لے سکتے ہیں، سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اس کا دارومدار وزیرِاعظم عمران خان کے ردعمل پر ہو گا۔ ‘اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت ان ممبران کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہے جو ترین کے ساتھ کھرے ہوئے۔ ان کے خیال میں حکومت ان ممبران کے خلاف کارروائی کرنے کے مختلف طریقے اختیار کر سکتی ہے تاہم ایسی کاروائی سے پی ٹی آئی میں فوری طور پر ایک فارورڈ بلاک وجود میں آ سکتا یے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button