تماشائیوں کے بغیر کرکٹ کا مزہ ماند پڑ جائے گا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر اور سابق بولنگ کوچ اظہر محمود کا کہنا ہے کہ تماشائیوں کے بغیر کرکٹ کا مزہ نہیں ہوگا اور کھلاڑی بور یت محسوس کریں گے لیکن فی الوقت کرکٹ کی واپسی کےلیے ایسا کرنا پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں۔
اظہر محمود نے کہا کہ اس وقت تو سب ہی کی کوشش یہ ہے کہ کرکٹ واپس ہو کیوں کہ بورڈز کو اپنی آمدنی کا سلسلہ بھی دیکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا یہ بات درست ہےکہ کھلاڑی بغیر تماشائیوں کے بور ہو جائیں گے کیوں کہ کھلاڑی بھی فنکاروں کی طرح ہوتے ہیں، انہیں اچھا لگتا ہے جب اچھے شاٹ یا اچھی گیند پر لوگ ان کو داد دیں، یہ نہیں ہوگا تو کرکٹ کا مزہ ماند پڑ جائے گا لیکن کرکٹ کی واپسی یقینی بنانے کےلیے اگر کچھ وقت کےلیے ایسا کرنا بھی پڑتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جب حالات بہتر ہوجائیں گے تو تماشائی بھی میدانوں میں واپس آجائیں گے۔
اظہر محمود نے اپنا ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ کینٹ کےلیے کھیلتے تھے تو چار پانچ ہزار تماشائی میدان میں ہوتے تھے پھر جب آئی پی ایل کھیلنے گئے تو وہاں 35 ہزار تماشائیوں کے سامنے کھیلا اور پھر آئی پی ایل کھیل کر واپس آئے تو وہ ماحول مس کرنے لگے تھے، انہوں نے کہا کہ تماشائی جو ماحول بناتے ہیں اس کا کھلاڑیوں پر اثر ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون کے دوران کرکٹرز کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اپنے کھیل کا از خود تجزیہ کریں اور یہ طے کریں کہ کہاں ان میں کمی ہے اور وہ اپنی کارکردگی کیسے بہتر کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھار بریک ملنا کھلاڑی کےلیے اچھا ہوجاتا ہے کیوں کہ اس دوران یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ میدان سے دور ہوکر اپنے کھیل پر مکمل تجزیہ کرے اور اسکو بہتر بنانے کےلیے حکمت عملی سوچے۔ ان کا کہنا تھا کہ فزیکل ٹرینگ ممکن نہیں لیکن پھر بھی کھلاڑی وڈیوز دیکھ کر اپنا ذہن بنا سکتے ہیں کہ کس بیٹسمین کو کیسے آؤٹ کرنا ہے یا کس کی بولنگ کا کیسے سامنا کرنا ہے۔
اظہر محمود نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کےلیے آن لائن سیشنز کے انعقاد کی تعریف کی اور کہا کہ اس سے کھلاڑیوں کو کھیل کے مثبت پہلو ڈسکس کرنے کا موقع ملے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button