توانائی کے شعبے کو دباؤ سے نکالنے کیلئے فرنس آئل کی سپلائی بڑھا دی گئی

پٹرولیم ڈویژن نے کہا ہے کہ وہ مقامی ریفائنریوں کے استعداد کار میں اضافے کے ذریعے فرنس آئل کی فراہمی کو بہتر بنارہی ہے اور اگلے ماہ توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ڈھائی ہزار ٹن تیل کی درآمد کا انتظام کر رہی ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا کہ ایل این جی (مائع قدرتی گیس) ٹرمینل کی ڈرائی ڈاکنگ سے پیدا ہونے والے ایندھن کی قلت کی مدت لیے تخفیف کا ایک منصوبہ تیار کیا گیا۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ کنڑ ڈیپ فیلڈ بتدریج بحال ہورہی ہے اور ہاں سے تقریباً 10 کروڑ 100 یومیہ کیوبک فٹ (ایم ایم سی ایف ڈی) گیس دینا شروع کردی ہے تاہم کچھ دن قادر پور فیلڈ گیس فراہم کے لیے دستیاب نہیں رہے گی۔
پٹرولیم ڈویژن نے 29 جون سے کہا کہ اینگرو سے تعلق رکھنے والے پہلے ٹرمینل کا فلوٹنگ اسٹوریج ری سی سیفیکیشن یونٹ ڈرائی ڈاکنگ پر تھا اور معیشت کے مختلف شعبوں پر اس کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے تھے۔
7 جولائی تک پہلے ٹرمینل سے ایل این جی کی فراہمی میں کمی ہوگی تاہم دوسرے ٹرمینل سے 600 ایم ایم سی ایف ڈی فراہمی تک جاری رہے گی۔
پہلے ٹرمینل کی مکمل بندش کے پہلے دو دن کے دوران دوسرا ٹرمینل زیادہ سے زیادہ فراہمی فراہم کرے گا۔
دونوں ایل این جی ٹرمینلز کی کل فراہمی 4 جولائی سے آہستہ آہستہ 824 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ جائے گی۔
پہلے ٹرمینل سے معمول کی فراہمی 5 جولائی سے دوبارہ شروع ہوگی اور دونوں ٹرمینلز کی کل فراہمی ایک ہزار 152 ایم ایم سی ایف ڈی تک ہوگی۔
اس عرصے کے دوران سسٹم میں کچھ اضافی دیسی گیس کی فراہمی بھی انجکشن کی جارہی ہے۔
ڈرائی ڈاکنگ کے دوران بجلی پیدا کرنے کی طلب کو فرنس آئل اور تیز رفتار ڈیزل کے ذریعے بھی پورا کیا جائے گا۔
پٹرولیم ڈویژن نے ریفائنریوں کو ہدایت کی کہ وہ اس عرصے میں اپنی پیداواری صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ کریں اور ریفائنریز نے بجلی گھروں کے لیے اپنی باقاعدہ فراہمی میں اضافہ کیا ہے۔
پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور دیگر تیل کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ بجلی کے شعبے کو زیادہ سے زیادہ فراہمی کریں۔
مزیدپڑھیں: سوئی سدرن کا ‘گیس کی شدید قلت’ کا انتباہ، کراچی کے کیپٹو پاور پلانٹس کو فراہمی بند
دو سرکاری کمپنیوں کی جانب سے گیس کی دستیابی میں کمی، نظام میں کم پریشر اور ایل این جی ٹرمینل کی ڈرائی ڈاکنگ کی وجہ سے 5 جولائی تک صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی مکمل بند کرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی ملک بھر میں گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا تھا۔
سندھ بھر میں 22 جون کو بند ہونے والے سی این جی اسٹیشنز 28 جون سے کھلنے تھے، لیکن سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) نے اب 5 جولائی تک گیس کی فراہمی روک دی ہے۔
