توسیع لینے پر جنرل باجوہ کا بیٹا ان سے ناراض کیوں ہوا؟

سینئر صحافی عمر چیمہ نے دعوی ٰکیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے اگست 2019 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو عہدے میں تین برس کی توسیع دینے پر آرمی چیف کا بیٹا بیرسٹر سعد باجوہ ان سے ناراض ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بقول جنرل باجوہ انکا بیٹا آج بھی انہیں توسیع لینے پر طعنے دیتا ہے حالانکہ میں اسکے حق میں نہیں تھا اور نہ ہی کبھی اس خواہش کا اظہار کیا تھا۔ عمر چیمہ کے مطابق جنرل باجوہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عمران خان نے انہیں توسیع دینے کے ایک دن بعد بتایا کہ آپ کو تین برس کی توسیع دے دی گئی ہے۔ سینئر صحافی اعزاز سید کے ایک یوٹیوب پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمر چیمہ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ تب جنرل باجوہ کی توسیع لینے کی خواہش ہو مگر انہوں نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا تھا۔ باجوہ صاحب توسیع نہ لینے کے حق میں دوسری دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے توسیع مانگی ہوتی تو اس کے لئے باقاعدہ فائل ورک کروایا ہوتا مگر ایسا نہیں تھا اور جس طرح یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور لٹکا، اس سے فوج کو بھی خفت کا سامنا کرنا پڑا۔
عمر چیمہ نے کہا کہ جنرل قمر باجوہ کو توسیع دلانے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا بہت بڑا کردار تھا۔ وہ مسلسل وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سے ملتے رہے اور انہیں توسیع پر آمادہ کرتے رہے۔ پھر سیکرٹری قانون کی موجودگی میں بھی فیض حمید پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے پاس آتے رہے اور بالآخر توسیع کا نوٹی فکیشن جاری کروا دیا۔ عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ فیض حمید دراصل جنرل باجوہ کو اس لئے توسیع دلوانا چاہتے تھے تاکہ تین سال بعد جب آرمی چیف ریٹائر ہوں تو وہ خود سنیارٹی لسٹ میں اوپر آ جائیں۔ اور اسی لیے جنرل باجوہ بھی فیض حمید کو نوازتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ فیض حمید اس وقت کور کمانڈر بہاولپور ہیں لیکن شدید تر خواہش کے باوجود آرمی چیف بنتے ہوئے نظر نہیں آتے۔
جب سینئر صحافی اعزاز سید نے عمر چیمہ سے پوچھا کہ کیا پاکستانی فوج دعوے کے مطابق واقعی نیوٹرل ہو چکی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2021 میں فارمیشن کمانڈرز کی میٹنگ میں پاک فوج نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب سیاست میں دخل نہیں دے گی۔ یہ سینیٹ کے الیکشن سے پہلے کی بات ہے۔ تب نواز شریف کے سخت ترین بیانیے کی وجہ سے فوج میں یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ عوام الناس اب اسے پاکستانی فوج کے بجائے پی ٹی آئی کی فوج سمجھ رہے ہیں۔ یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا تھا کہ فوج عمران کو لے کر آئی ہے اور وہ اپنے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ فوج نے اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے یہ حل نکالا کہ سیاست سے الگ ہو جائے۔ عمر چیمہ کے مطابق دوسری بات جس نے فوج کو پریشان کر رکھا تھا وہ یہ تھی کہ مسنگ پرسنز اور بندے اٹھانے کی صورت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی امریکی فوج بھی کرتی ہے اور بھارتی فوج بھی کرتی ہے مگر بدنام زیادہ پاک فوج ہوتی ہے۔ اس کی وجہ انہیں یہی لگی کہ پاکستانی فوج سیاست میں دخل اندازی کرتی ہے اس لئے ہر کوئی آرام سے اس کےاوپر انگلی اٹھا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی چیف فیض حمید کی تبدیلی کا فیصلہ بھی اسی فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس میں ہو گیا تھا چونکہ وہ بہت زیادہ متنازعہ ہو چکے تھے۔ دوسرا فیض حمید بھی یہی چاہتے تھے کہ وہ کسی کور کی سربراہی کریں تاکہ آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہو سکیں۔
عمر چیمہ کہتے ہیں کہ فوج نے اگرچہ فروری، مارچ 2021 میں یہ فیصلہ کر لیا تھا مگر جب آپ ایک لمبے عرصے سے سیاست میں ملوث ہوں تو پھر نکلنے میں بھی وقت لگتا ہے، آپ ایک دم سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ چنانچہ عمران خان آئی ایس آئی چیف فیض حمید کو ہٹانے کا معاملہ لٹکاتے رہے اور ہوتے ہوتے بات ستمبر اکتوبر تک چلی گئی۔ اس کے بعد سے فوج کی سیاست میں دخل اندازی کم ہوتی چلی گئی۔ اس سے پہلے باقاعدہ جس طرح لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا تھا وہ سلسلہ رک گیا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی یہ کہہ کے اٹھا رہی ہے کہ ہم نے ڈرا ڈرا کے فوج کو پیچھے کر دیا ہے۔ کبھی پی ٹی آئی یہ طعنہ دیتی ہے کہ فوج نیوٹرل ہو گئی ہے اور دوسری طرف یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ فوج مخلوط حکومت کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ دوسری طرف مخلوط حکومت کو لگتا ہے کہ فوج ابھی بھی عمران خان کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔
عمر چیمہ نے اعزاز سید کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ اب بھی نہیں کہا جا سکتا کہ فوج ہمیشہ کے لئے سیاست سے الگ ہو گئی ہے اور یہ امکان بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ دوبارہ سیاست میں آ جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ جنرل باجوہ کو پوچھا گیا کہ آپ نے سیاست سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیوں کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے دور میں بہت متنازعہ کام ہوئے لہٰذا ضروری ہے کہ صفائی کا عمل بھی میں خود شروع کروں اورنیا آرمی چیف میرا بوجھ نہ اٹھائے۔
