توشہ خانہ ریفرنس؛ نواز شریف اور آصف زرداری 29 مئی کو طلب

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانے سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کرنے کے الزام میں سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی سمیت سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو 29 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
نیب کے مطابق ملزمان نیب آرڈیننس کی سیکشن نائن اے کی ذیلی دفعہ 2، 4، 7 اور 12 کے تحت کرپشن کے مرتکب ہوئے۔نیب کے مطابق آصف زرداری اور نواز شریف نے یوسف رضا گیلانی سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کیں، آصف زرداری نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد ادائیگی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ادا کی، آصف زرداری کو بطور صدر لیبیا اور یو اے ای سے بھی گاڑیاں تحفے میں ملیں اور انہوں نے گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کیں۔
نیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 2008 میں کسی بھی عہدے پر نہیں تھے، نوازشریف کو 2008 میں بغیر کوئی درخواست دیے توشہ خانے سے گاڑی دی گئی، گاڑیوں کی ادائیگی عبدالغنی مجید نے جعلی اکاؤنٹس سے کی، انور مجید نے انصاری شوگر ملز کے اکاؤنٹس کا استعمال کر کے 2 کروڑ سے زائد کی غیر قانونی ٹرانزیکشنز کیں، اس کے علاوہ انور مجید نے آصف زرداری کے اکاؤنٹس میں بھی 9.2 ملین روپے ٹرانسفر کیے جب کہ عبدالغنی مجید نے 37 ملین روپے کسٹم کولیکٹر اسلام آباد کو ٹرانسفر کیے۔
نیب کا الزم ہے کہ ملک کے سب سے اہم عہدوں ہر فائز رہنے والی یہ سیاسی شخصیات مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں تھوڑی سی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے پراسیکیوٹر کی طرف سے احتساب عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کو بطور صدر لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی اور متحدہ عرب امارات کے سربراہ کی طرف سے گاڑیاں تحفے میں ملیں۔اُنھوں نے کہا کہ سابق صدر نے یہ گاڑیں توشہ خانے میں جمع کروانے کی بجائے ذاتی طور پر استعمال کیں۔نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد قیمت ادائیگی کے بعد یہ گاڑیاں ذاتی استعمال کے لیے حاصل کیں۔ نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق ان گاڑیوں کے لیے رقم کی ادائیگی بھی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی تھی۔اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی ادائیگی جعلی بینک اکاؤنٹس کے ریفرنس کے ملزم عبدالغنی مجید نے جعلی اکاؤنٹس سے کی۔اُنھوں نے کہا کہ ملزم نے انصاری شوگر ملز کے اکاؤنٹس کا استعمال کر کے ان گاڑیوں کی ادائیگی کے لیے دو کروڑ سے زائد کی غیر قانونی ٹرانزیکشنز کیں۔
نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم انور مجید نے سابق صدر آصف زرداری کے اکاؤنٹس میں بھی 9.2 ملین روپے ٹرانسفر کیے۔اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2008 میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کسی عوامی عہدے پر بھی تعینات نہیں تھے لیکن اس کے باوجود اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اُنھیں توشہ خانے سے گاڑیاں دیں۔نیب کے وکیل نے عدالت کو یہ نہیں بتایا کہ اس وقت کے وزیر اعظم نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو توشہ خانے سے کتنی گاڑیاں دی تھیں۔نیب کے وکیل کے مطابق ملزمان نیب آرڈیننس کی سیکشن نائن اے کی ذیلی دفعہ دو، چار، سات اور بارہ کے تحت بدعنوانی کے مرتکب ہوئے ہیں۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اس رپورٹ پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ،سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف علی زرداری کو 29 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو لندن کے علاقے پارک لین اپارٹمنٹں کے مقدمے میں 11 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سزا کو معطل کر دیا تھا۔دونوں سابق وزرائے اعظم کو سپریم کورٹ نے ہی ان کے عہدوں سے ہٹایا تھا۔ سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں جبکہ میاں نواز شریف کو اثاثے ظاہر نہ کرنے کی بنا پر ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔توشہ خانہ میں تعینات ایک اہلکار کے مطابق اگر کسی سربراہ مملکت یا چیف ایگزیکٹیو کو کسی دوسرے ملک کے صدر یا چیف ایگزیکیٹو کی طرف سے 10 لاکھ روپے تک مالیت کا تحفہ ملتا ہے تو وہ اسے اپنے پاس رکھ سکتا ہے لیکن اور اس تحفے کی قیمیت 10 لاکھ سے زیادہ ہو تو اسے توشہ خانے میں جمع کروانا ہوتا ہے۔
