توہین الیکشن کمیشن پر عمران کی نااہلی کا کتنا امکان ہے؟

الیکشن کمیشن کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر 11 اکتوبر کو سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھی فواد چوہدری اور اسد عمر ایک مرتبہ پھر توہین کے کیس میں ذاتی طور پر پیش نہ ہوئے تو الیکشن کمیشن اُنکے خلاف یکطرفہ طور پر فرد جرم عائد کر سکتا ہے کیونکہ قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس سپریم کورٹ کے جج کے اختیارات ہوتے ہیں اور توہین عدالت کا جرم ثابت ہو جانے پر ملزم کو نااہل بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان نے عندیہ دیدیا ہے کہ وہ توہین الیکشن کمیشن کیس میں اصالتاً طلبی کے باوجود پیش نہیں ہونگے۔ انکا کہنا ہے کہ وہ اسلئے پیش نہیں ہوں گے کہ کمیشن میں حاضری کے وقت وہ بے قابو ہو کر اسکے سربراہ سکندر سلطان راجہ کے ساتھ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھیں جس کی بنا پر انہیں جیل بھجوا دیا جائے۔ دوسری جانب الیکشن کمیش ذرائع کے مطابق عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری توہین الیکشن کمیشن کیس میں دو مرتبہ طلب کیے جانے کے باوجود پیش ہونے نہیں ہوئے جسکے بعد انہیں فائنل شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 اکتوبر کو دوبارہ ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران‘ اسد اور فواد 11 اکتوبر کو بھی الیکشن کمیشن میں بنفس نفیس پیش نہ ہوئے تو پھر کمیشن اُن کے خلاف یکطرفہ طور پر فرد جرم عائد کر سکتا ہے کیونکہ طلبی کے باوجود پیش نہ ہونا بھی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ الیکشن کمیش نے عمران خان، اسد عمر اور فواد کو جلسوں، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز کے دوران الزمات عائد کرنے پر توہین الیکشن کمیشن کے نوٹس جاری کیے تھے۔ اس کے علاوہ عمران خان کو سکندر سلطان راجہ پر جھوٹے الزام لگانے پر توہین چیف الیکشن کمشنر کا نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔ کمیشن نے نوٹس میں عمران کے بیانات، تقاریر، اور پریس کانفرنسز کے دوران اپنے خلاف عائد ہونے والے الزامات اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف استعمال ہونے والے الفاظ، غلط بیانات و من گھڑت الزامات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں 30 اگست کو اپنے جواب کے ساتھ ذاتی حیثیت یا بذریعہ وکیل پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا۔
لیکن پی ٹی آئی کی قیادت نے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا جبکہ فواد چوہدری اور اسد عمر کے وکلا نے اپنے تحریری جواب جمع کروا دیے۔ الیکشن کمیشن نے ان جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کرنے کے بعد تینوں رہنماؤں کو 27 ستمبر کو الیکشن کمیشن کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ تاہم 27 ستمبر کو فواد چوہدری کے بھائی فیصل فرید چوہدری نے الیکشن کمیشن میں پیش ہوکر یہ موقف اختیار کیا کہ انکا چیف الیکشن کمشنر پر اعتماد کا فقدان ہے، لہٰذا کیس کی سماعت ملتوی کی جائے۔ چنانچہ الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے تینوں رہنماؤں کو حتمی طور پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے لئے شوکاز نوٹس جاری کر دیئے۔
شو کاز نوٹس میں کہا گیا کہ پیمرا کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے 11 مئی، 16 مئی، 29 جون، 19، 20 جولائی اور 7 اگست کو اپنی تقاریر، پریس کانفرنسز اور بیانات میں الیکشن کمیشن کے خلاف مضحکہ خیز اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی، توہین آمیز بیانات دیے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جو براہ راست ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے۔ الیکشن کمیشن نے عمران کو مخاطب کرکے نوٹس میں کہا تھا کہ آپ نے 12 جولائی کو بھکر میں ہونے والے جلسے میں خطاب کیا جو اے آر وائی پر نشر ہوا اور ساتھ ہی اگلے دن ڈان میں شائع ہوا، جس میں آپ نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز باتیں کیں اور ان پر من گھڑت الزامات عائد کیے۔ پھر 11 مئی کو سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا الیکشن کمیشن پر اعتماد صفر ہوچکا ہے، سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ عمران کہہ چکے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر مسلم لیگ (ن) میں کوئی عہدہ لے لیں۔
تاہم اب 11 اکتوبر کی پیشی سے پہلے عمران نے ایک مرتبہ پھر نہایت غلیظ گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو ناسور قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔ عمران نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے سامنے کسی صورت پیش نہیں ہوں گے کیونکہ وہ بے قابو ہو کر کوئی ایسی حرکت کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں جیل بھجوا دیا جائے۔ عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو بددیانت اور جانبدار قرار دے دیا اور کہا کہ انہیں اخلاقی طور پر مستعفی ہونا چاہیے کیونکہ آڈیو لیکس سے ثابت ہوا کہ ن لیگ اور الیکشن کمیشن ملی بھگت سے چل رہے ہیں، اور مجھے سو فیصد یقین ہے کہ سکندر سلطان راجہ نے مجھے نااہل کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران اگر تیسرے نوٹس کے باوجود بھی پیش نہیں ہوں گے تو الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ ان کے خلاف یکطرف فرد جرم عائد کرکے کارروائی آگے بڑھائے جسکے نتیجے میں موصوف کی نااہلی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس بھی سپریم کورٹ کے ججوں کے اختیارات ہوتے ہیں۔
