توہین مذہب کے الزام میں عمران خان سمیت100افرادکیخلاف مقدمہ درج

مسجد نبوی میں پیش آںیوالے واقعہ پر فیصل آباد میں محمد نعیم نامی شہری کی درخواست پرتوہین مذہب کے الزام میں سابق وزیر اعظم سمیت 100افراد کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
فیصل آباد کے تھانہ مدینہ ٹائون میں درج مقدمہ کے مطابق عمران خان، فواد چوہدری، شیخ رشید، شہباز گل، شیخ راشد شفیق، صاحبزادہ جہانگیر چیکو، انیل مسرت، نبیل نسرت، عمیر الیاس، رانا عبدالستار، بیرسٹر عامر الیاس، گوہر جیلانی، قاسم سوری اور تقریباً 100کے قریب لوگوں نے سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی حرمت و تقدس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قران کے احکامات کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔مزید تحقیق پر علم ہوا کہ عمران احمد، فواد احمد چوہدری، شیخ رشید احمد، شہباز گل اور قاسم سوری کی ایما پر اعانت اور سازش مجرمانہ فعل ہے۔چند پاکستانی شر پسندوں کا وفد سعودی عرب کیا گیا تھا اور اس حوالے سے ویڈیو ریکارڈ پر موجود ہے جو دوران تفتیش پیش کر دی جائے گئی۔اس سازش میں شریک ہونے کے لیے ایک وفد برطانیہ سے سعودی عرب پہنچا اور بطور ثبوت ان کی وڈیوز بھی دوران تفتیش پیش کر دی جائے گئی۔
درج مقدمہ کے مطابق شیخ راشد کی قیادت میں 150 افراد کو سعودی عرب بھجوایا گیا جبکہ لندن سے بھی ایک وفد سعودی عرب پہنچا، مسجد نبوی میں پاکستانی زائرین کو ہراساں کر کے شعار اسلام کی انجام دہی سے زبردستی روکا گیا،سارا واقعہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عمل میں آیا۔
فیصل آباد پولیس نے مقدمہ کے اندراج کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےمقدمہ درج کر لیا گیا اور اس ابتدائی اطلاعی رپورٹ پر تفتیش کی جائے گی جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ وقوعہ کیا ہے، کہاں پر ہوا ہے اور کیسے ہوا ہے۔ اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اس مقدمے کو خارج کرنا ہے یا زیرِ تفتیش رکھنا ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کی شام پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ان کے وفد میں وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیرِ نارکوٹکس شاہ زین بگٹی کو مسجد نبوی کے صحن میں موجود پاکستانیوں کی جانب سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا تھا،ان افراد نے پاکستانی وزرا اور ان کے ساتھیوں کو گھیرے میں لے کر نعرے بازی کی تھی اور جہاں مریم اورنگزیب کے لیے نازیبا زبان استعمال کی تھی وہیں شاہ زین بگٹی کے بال بھی کھینچے گئے تھے اور انھیں دھکے دیے گئے تھے۔

Back to top button