شیخ رشید نے ٹرین سانحے پر غلطی تسلیم کر لی

وزیر ریلوے شیخ رشید نے رحیم یار خان میں تیز گام ایکسپریس حادثے پر غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کو چولہا ساتھ لانے سے منع کرنا چاہئے تھا جس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے رحیم یار خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیزگام ایکسپریس حادثے میں 74 افراد ہلاک ہوئے ہیں ، ہم سے غلطی ہوئی، تبلیغی جماعت والوں کو چولہا لے جانے سے نہیں روکا گیا تھا تاہم آئندہ سے ایسا نہیں ہوگا۔
انہوں نے تمام شہدا کے لیے پاکستان ریلوے کی جانب سے 15 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم پیکج سے بھی متاثرین کو کچھ دیا جائے گا ، رائیونڈ میں 2 لاکھ لوگ اجتماع کے لیے آتے ہیں اور 134 ٹرینیں چل رہی ہیں اور سب کا اسٹاپ رائیونڈ پر رکھا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرین میں میر پور خاص کی جماعت تھی جس کے امیر سلیمان صاحب تھے ، جماعت کو ڈرائیور اور گارڈ نے روکا کہ چولہا نہ جلائیں تاہم جماعت کے افراد نے ان کے سامنے آگ بجھا دی مگر ان کے جانے کے بعد پھر سے چولہا جلایا اور ناشتے کے انتظام میں ایک بڑا سانحہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ سانحے پر پوری قوم غمزدہ ہے اور متاثرین کے لیے دعاگو ہوں ، واقعے کے بعد آرمی چیف نے خصوصی طور پر جہاز دیا اور پاک فوج نے اتنی تیزی سے زخمیوں کو ہسپتالوں تک منتقل کیا جس پر میں فوج کا شکر گزار ہوں ورنہ ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر جاتی۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ٹرین میں آگ لگنے کے بعد تیز ہوا سے آگ پیچھے کی طرف بڑھی جس کی وجہ سے 3 بوگیوں کو نقصان پہنچا ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سب سے کم حادثے میرے دور میں ہوے ہیں ، میرا استعفیٰ کوئی مسئلہ نہیں تاہم میں اس پر اتوار کے روز جواب دوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور جو مجرم ہے اسے سزا ضرور ملے گی ، ایک صحافی کی جانب سے زیادہ سوال کیے جانے پر شیخ رشید آپے سے باہر ہوگئے اور صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تو ہی سارے سوال کر لے گا۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی رحیم یار خان میں حادثے کے مقام پر پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین حادثے کے بعد انتطامیہ سے رابطے میں رہا ہوں ریسکیو اداروں کی امدادی سرگرمیاں قابل تعریف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘لاشیں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ورثا کے حوالے کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب گیس سلنڈر پھٹنے سے آتشزدگی کے باعث 74 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے۔ بدقسمت ٹرین کو حادثہ صبح 6:15 منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری سٹیشن پر پیش آیا۔
حکام کا کہنا تھا کہ آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3 میں موجود سلنڈر پھٹنے سے لگی جس نے تیزی سے مزید 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق سلنڈر پھٹنے سے ٹرین میں دھماکا ہوا جس کے آواز سن کر دیگر مسافر تخریب کاری کے خطرے کے پیشِ نظر چلتی ہوئی ٹرین سے کود گئے۔ چیئرمین ریلویز سکندر سلطان کا کہنا تھا کہ ٹرین میں سلنڈر اور مٹی کا تیل لے جانے کی اجازت نہیں اور اس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے کہ ٹرین میں مسافر سلنڈر لے کر کیسے سوار ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button