تیسری اہلیہ کے ہمراہ عامر لیاقت کی کپتان سے کیا باتیں ہوئیں؟

23 مارچ کے روز مشکلات میں گھرے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر جب تحریک انصاف کے رنگیلے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین نے اپنی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کے ہمراہ کپتان سے ملاقات کی تو انہیں یہ بھی بتایا کہ وہ شادیوں کے معاملے میں ان کی پیروی کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اپنے کپتان کی طرح عامر لیاقت نے بھی حال ہی میں تیسری شادی کی ہے۔ ان کی پہلی دو بیگمات نے ان سے طلاق حاصل کر لی تھی۔
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے عامر لیاقت مسلسل وزیر اعظم سے ناراضی کا اظہار کر رہے تھے اور بار بار یہ دھمکی دے رہے تھے کہ وہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے روز فیصلہ کریں گے کہ کیا فیصلہ کرنا ہے۔ پچھلے دنوں اپنی حکومت بچانے کی خاطر جب عمران خان کراچی گئے تو ایم کیو ایم کے بہادر آباد آفس کا دورہ کر کے واپس آ گئے۔ لیکن اپنے دورے میں انہوں نے پی ٹی آئی کے کسی رکن قومی اسمبلی سے ملاقات نہیں کی جس پر عامر لیاقت ان سے کافی نالاں تھے۔ چنانچہ وزیر اعظم نے عامر لیاقت کو ملاقات کے لیے بلا لیا۔ 23 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں عامر لیاقت کے ہمراہ ان کی تیسری اہلیہ دانیہ بھی موجود تھیں۔ ملاقات کے بعد عامر لیاقت نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے اپنی نئی نویلی اہلیہ کی بھی ملاقات کروائی اور ان سے شادی کی مبارکباد بھی وصول کی۔ اس ملاقات میں مسٹر اینڈ مسز عامر لیاقت حسین کے علاوہ وفاقی وزیر اسد عمر اور گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی موجود تھے، جن کی کوششوں سے عامر لیاقت اپنے کپتان سے ملاقات پر آمادہ ہوئے۔ معلوم ہوا ہے کہ ملاقات کے دوران عمران خان نہایت سنجیدہ تھے جبکہ عامر لیاقت حسین حسب معمول شگوفے چھوڑ رہے تھے۔ جب وزیراعظم نے انہیں شادی کی مبارکباد دی تو منھ پھٹ عامر لیاقت نے جواب میں یہ فقرہ اچھال دیا کہ جناب ہم تو شادیوں کے معاملے میں اپنے کپتان کی پیروی کرتے ہیں۔
ملاقات کے بعد عامر لیاقت نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران میں نے انہیں بہت ساری باتوں پر قائل کرلیا، ماحول نہایت خوش گوار رہا، اور سارا وقت ہنستے مسکراتے گزر گیا، پتا ہی نہ چلا۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے انہیں ان کی شادی پر مبارک باد دی اور ان کی اہلیہ سے پوچھا کہ ’عامر خیال رکھتا ہے یا نہیں؟‘ ملاقات کے بعد صحافیوں نے ان کی گاڑی کو روک کر ان سے سوال کیا کہ کیا ان کی اہلیہ نے ان کی کپتان سے ایک بار پھر دوستی کروادی ہے؟ اس سوال پر عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ ’دوستی تو ہماری پہلے سے تھی، ہماری دوستی کبھی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن ابھی ووٹ ڈالنے کا کوئی فیصلہ تھوڑی ہوا ہے۔‘
واضح رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے جس پر ابھی ووٹنگ ہونا باقی ہے۔قومی اسمبلی کے سپیکر نے پارلیمنٹ کا اجلاس 25 مارچ کو طلب کر رکھا ہے جس کے بعد تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کی تاریخ کا فیصلہ ہوگا۔ عامر لیاقت کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں ان کی اہلیہ کی موجودگی پر سوشل میڈیا صارفین طرح طرح کے تبصرے کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ مقدس فاروق اعوان نامی صارفہ نے لکھا کہ ’دانیہ شاہ بھی تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لیے میدان میں آگئیں۔‘ عامر خان نامی صارف نے لکھا کہ ’عامر بھائی لگتا ہے بھابھی نے ضد کی ہوگی کہ میں نے ایک بار خان سے ملنا ہے اس کے بعد بے شک آپ پی ٹی آئی چھوڑ دیں۔‘ ایک صارف خاور ملک نے لکھا کہ عامر بھائی کل تک توآپ عمران خان سے نالاں تھے اور انہیں ساتھ چھوڑنے کی دھمکیاں دے رہے تھے لیکن آج بیگم صاحبہ کو لے کر ان کے در پر جا پہنچے، یہ ماجرا کیا ہے؟
واضح رہے کہ 18 سالہ دانیہ شاہ کراچی سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ ہیں۔ سیدہ دانیہ شاہ کا تعلق پنجاب کے شہر لودھراں سے ہے اور وہ ایک سرائیکی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
اس سے پہلے عامر لیاقت حسین نے بشری اور طوبی سے شادیاں کی تھیں جو کامیاب نہ ہو پائیں۔
