تیل بحران: ایک دوسرے کی قبر کھودنے والے خود اس میں گر گئے؟

کنفیوشس نے کہا تھا کہ انتقام کے راستے پر چلنے سے پہلے دو قبریں کھود لو کیونکہ تمہاری اپنی باری بھی لازمی آتی ہے۔
عظیم چینی مفکر کا یہ قول عالمی طاقتوں امریکہ، روس اور سعودی عرب کے مابین تیل کی قیمتوں کی حالیہ جنگ کے دوران حرف بہ حرف درست ثابت ہوا ہے۔ اس جنگ کا آغاز تب ہوا جب کرونا وائرس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی طلب میں نمایاں کمی کی وجہ سے تیل کی پیداوار کم کرنے کی تجویز لیکر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو فون کیا۔ اس فون کال میں دونوں رہنما ایک دوسرے سے کافی ناراض نظر آئے۔ سعودی ولی عہد اس فون کال کے دوران بہت جارحانہ موڈ میں تھے اور تیل کی پیداوار کم کرنے کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے روسی صدر کو دھمکی دی کہ وہ پرائس وار شروع کردیں گے۔ روسی صدر اس دباؤ میں نہیں آئے اور یوں فون پر ہونے والا یہ رابطہ انتہائی بدمزگی کے ماحول میں انجام کو پہنچا۔
بعد ازاں پتہ چلا کہ سعودی ولی عہد نے صدر پیوٹن کے ساتھ فون پر رابطے سے پہلے وائٹ ہاؤس میں اپنے دوست اور صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر کے ساتھ صلاح مشورہ بھی کیا تھا۔ جارڈ کشنر نے سعودی ولی عہد کو صدر ٹرمپ کے ایما پر مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ بعد میں ہونے والے اوپیک پلس کے اجلاس میں سعودی عرب نے روس کو کونے میں دھکیلنے کی پوری کوشش کی لیکن تیل کی پیداوار میں مجموعی طور پر 15 لاکھ بیرل یومیہ کٹوتی کا معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ جس کے بعد سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں اضافے کا اعلان کرکے قیمتیں گرا دیں اور صدر ٹرمپ نے کھل کر سعودی اقدام کی تعریف کی۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اس سستے تیل سے وہ امریکا کے ذخائر بھر دیں گے یوں ناصرف امریکی عوام کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگا بلکہ قومی آئل انڈسٹری کو بھی مدد ملے گی۔
امریکی شیل آئل کے مہنگے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والی امریکی تیل کمپنیوں نے صدر ٹرمپ کے اس بیان پر شدید احتجاج کیا کیونکہ تیل کی قیمتوں کی جنگ اور اس کے نتیجے میں سستے تیل کی وجہ سے ان منصوبوں پر کی گئی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی تھی۔ چنانچہ امریکی تیل کی کمپنیوں کے احتجاج پر ٹرمپ کو اپنا مؤقف تبدیل کرنا پڑا۔
اسکے بعد واشنگٹن، ریاض اور ماسکو کے درمیان فون پر رابطوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور 10 اپریل کو ماسکو نے کہا کہ صدر پیوٹن نے سعودی ولی عہد سے فون پر بات کی اور دونوں نے ماسکو-ریاض رابطوں کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ 12 اپریل کو صدر ٹرمپ، سعودی شاہ سلمان اور اور روسی صدر کے فون پر رابطے ہوئے اور 13 اپریل کو صدر ٹرمپ نے ٹویٹر پر خبر دی کہ اوپیک پلس ممالک میں بڑا معاہدہ طے پاگیا ہے اور اس معاہدے سے امریکی تیل سیکٹر میں ہزاروں ملازمتیں بچ جائیں گی۔
وائٹ ہاؤس اور سعودی ولی عہد کا روس کو سبق سکھانے کا مشترکہ منصوبہ امریکا کے لیے الٹا پڑگیا اور امریکی خام تیل کی قیمت تاریخ میں پہلی بار منفی ٹریڈنگ میں چلی گئی اور یوں وہ دن بھی آیا کہ تیل کے سودے منفی 37.63 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔ اس گراوٹ کی وجہ مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ رسد بنی جو سعودی تیل کی پیداوار بڑھانے کا نتیجہ تھا۔ اس وجہ سے تیل ذخیرہ کرنے کے لیے جگہ کم پڑگئی اور کمپنیاں خریداروں کو تیل اپنے اسٹوریج سے اٹھانے کے لیے خرچہ دینے پر مجبور ہوگئیں۔ درحقیقت تیل کی قیمت کی یہ جنگ تیل برآمد کرنے والے ملکوں کو بھی مہنگی پڑی ہے۔
اب حالات یہ ہیں کہ معاشی بحران مزید گہرا ہونے کی صورت میں سعودی عرب میں بدامنی کا بھی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب کا معاشی بحران پورے خطے کو متاثر کرسکتا ہے۔ مصر، سوڈان، لبنان، شام اور تیونس میں سعودی معاشی بحران کے اثرات فوری محسوس کیے جائیں گے کیونکہ ان ملکوں کے لاکھوں افراد کا روزگار سعودی عرب میں ہے۔ مارکیٹ پر نظر رکھنے والے اداروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل قیمتوں کی جنگ میں فوری طور پر روس اور سعودی عرب دونوں فاتح نظر آتے ہیں کیونکہ دونوں کو امریکی شیل آئل عرصے سے کھٹک رہا تھا۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور سعودی عرب کی یہ خوشی عارضی ہے کیونکہ برینٹ کروڈ کی مارکیٹ بھی بچ نہیں پائے گی اور اگلے چند ہفتوں میں دنیا بھر میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوجائے گی۔
سعودی عرب نے صرف اتنی ہوشیاری دکھائی کہ روس کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اس نے پیداوار بڑھا کر دنیا بھر میں جہاں کہیں تیل کی طلب موجود تھی اپنا تیل بیچ ڈالا اور روس کے ساتھ معاہدے کے بعد تیل کی پیداوار کم کرلی۔ اب تیل پیداواری ملکوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ پیداوار میں ایک اور بڑی کٹوتی پر اتفاق کریں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگر روس کو سبق سکھانے کے لیے سعودی عرب کو تیل قیمتوں کی جنگ میں دھکیلا تو قبر اپنی تیل انڈسٹری کے لیے بھی کھودی۔ اگر سعودی ولی عہد نے روسی صدر کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے تو نقصان خود بھی اٹھایا ہے۔ یوں کنفیوشس کا قول سچ ثابت ہوا کہ انتقام کے راستے پر چلنے سے پہلے دو قبریں کھودو۔
