تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ

امریکی اشاعتی و نشریاتی ادارے بلوم برگ نے انتباہ دیا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اگر طویل ہوئی تو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے اور عالمی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل کی سپلائی میں یومیہ تقریباً 11 ملین بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں یورپ میں ڈیزل کی قلت کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور عالمی مہنگائی اور معیشت پر دباؤ تیز ہو گیا ہے۔ کئی ممالک نے ایندھن بچانے کے اقدامات اور راشننگ بھی شروع کر دی ہے۔
بلوم برگ کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای متبادل راستوں کے ذریعے سپلائی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ عالمی ذخائر بھی عارضی حل کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں، لیکن یہ مستقل اور پائیدار حل نہیں ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایل این جی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے گیس بحران کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ طویل جنگ کی صورت میں عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور طلب کم کرنے کے لیے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔
