تین پاکستانی جنسی درندے برطانیہ میں قابو میں آ گئے

ایک برطانوی عدالت نے 18 ماہ قبل کم عمر لڑکیوں کو نشے کے ذریعے جنسی تعلق پرراغب کرنے اور بچوں سے بدفعلی جیسے جرائم میں ملوث بدنام زمانہ گینگ میں شامل تین پاکستانیوں کوڈی پورٹ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
پاکستانی نژاد برطانوی شہری عبدالعزیز، عادل خان اور قاری عبدالرؤف شمالی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ان نوپاکستانیوں اور افغانیوں کے بدنام زمانہ گرومنگ گینگ میں شامل تھے جنہیں کم عمر لڑکیوں کو نشے اور شراب کے ذریعے جنسی تعلقات پر راغب کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
عدالت نے ان تینوں پاکستانیوں کو سزا سناتے ہوئے ان کی برطانوی شہریت بھی ختم کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کی تھی۔ یہ اپیل بھی مسترد ہو چکی ہے۔ یہ تینوں افراد اس وقت ضمانت پر ہیں اور برطانیہ سے پاکستان ڈی پورٹ ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ برطانوی پولیس نے اس شکایت کے بعد عبدالعزیز، عادل خان اور قاری عبدالرؤف کی نگرانی سخت کردی ہے کہ وہ دوبارہ اس علاقے میں دیکھے گئے ہیں جہاں سے انہوں نے بچوں کو اغوا کیا تھا۔
عبدالعزیز ایک ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر برطانیہ میں کام کرتا رہا ہے اور’دا ماسٹر‘کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ اس بدنام زمانہ گروہ کا سرغنہ تھا۔ اسے 15 سالہ لڑکی کو سیکس کے لیے سمگل کرنے اور ایک بچے کے ساتھ جنسی فعل کی سازش کرنے پر نو سال قید کی سزا دی گئی۔ بچے سے بدسلوکی کے وقت وہ شادی شدہ تھا اور اس کے تین بچے تھے۔ عادل خان بھی ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے اور اسے ایک 13 سالہ لڑکی کو سمگل کرنے کے جرم میں آٹھ سال قید کی سزا دی گئی۔ اس کی عمر 40 سال سے زیادہ ہے اور اس نے اس 13 سالہ لڑکی کو حاملہ کر دیا تھا۔ عادل نے ایک 15 سالہ لڑکی کو بھی نشانہ بنایا اور جب اس نے بدسلوکی کی شکایت کی تو اس نے اس پر جسمانی تشدد بھی کیا۔
قاری عبدالرؤف بھی ایک شادی شدہ ٹیکسی ڈرائیور ہے اور اس کے پانچ بچے ہیں۔ اسے ایک کم عمر لڑکی کو سمگل کرنے اور ایک بچے کے ساتھ جنسی فعل پر چھ سال قید کی سزا دی گئی۔ وہ متاثرہ لڑکی کو گاڑی میں بٹھا کراس مقام پر لے گیا جہاں اس نے ان کے اور دوسرے افراد کے ساتھ مل کر اس کو لڑکی کو 20 مرتبہ ریپ کیا۔
