تیونس لاک ڈاؤن، گشت کیلئے پولیس روبوٹ تعینات

شمالی افریقی ملک تیونس کی حکومت نے دارالحکومت میں لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پولیس روبوٹ تعینات کردیے۔
تیونس کے مختلف علاقوں میں روبوٹ کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں جو سڑک پر چلنے والے شہریوں کی جاسوسی کرتے ہیں۔ روبوٹ گلیوں میں گھومنے والے افراد سے پوچھ گچھ بھی کرلیتا ہے اور ان سے گھروں سے باہر نکلنے کی وجوہات دریافت کرتا ہے۔
تیونس کے شہریوں کو روبوٹ کے کیمرے کے سامنے اپنا شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات کو رکھنا پڑتا ہے جب کہ اس کو کنٹرول کرنے والے پولیس افسران اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
https://twitter.com/tunpost/status/1243969704844308482?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1243969704844308482&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.cnet.com%2Fnews%2Fdont-defy-coronavirus-lockdown-rules-or-this-robot-will-call-you-on-it%2F
خیال رہے کہ تیونس میں ملکی سطح پر لاک ڈاؤن کا یہ دوسرا ہفتہ ہے جب کہ ملک میں اب تک کورونا وائرس سے 14 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
حکومت نے شہریوں کو صرف ادویات اور اشیائے ضروریہ کے حصول کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔
تیونس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ 436 افراد زیر علاج ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ‘پی گارڈز’ کہلانے والے ان روبوٹس کو تیونس کی وزارت داخلہ نے سڑکوں پر تعینات کیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کی تعداد کتنی ہے۔
روبوٹ تیار کرنے والی کمپنی اینووا روبوٹکس کے عہدیدار نے بتایا کہ یہ خفیہ معاملہ ہے اور انہوں نے روبوٹ کی قیمت کے حوالے سے بھی کچھ بتانے سے انکار کیا۔
لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کی نگرانی کےلیے تعینات روبوٹ میں جدید کیمرہ، لائٹ ڈی ٹیکشن اور رینجنگ ٹیکنالوجی نصب ہے جو ریڈار کی طرح کام کرتی ہے، تاہم یہ لہروں کے بجائے روشنی استعمال کرتی ہے۔
وزارت داخلہ نے روبوٹ کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کی جس پر عوام کی جانب سے ملا جلا ردعمل ظاہر کیا گیا۔
متعدد شہریوں نے حکومت کے اس قدم کا خیر مقدم کیا جب کہ دیگر کا کہنا تھا کہ روبوٹ کی نقل و حرکت انتہائی سست ہے اس لیے یہ مؤثر نہیں ہے۔
سوشل میڈیا میں گردش کرنے والی کئی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد روبوٹ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی شناخت کروا رہی ہے اور دستاویزات بھی دکھا رہی ہے۔
روبوٹ تعاون کرنے والے شہریوں کو پوچھ گچھ کے بعد فوری طور پر گھروں میں جاکر بیٹھنے کی ہدایت کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button