ثبوتوں کے باوجود جہانگیر ترین کیخلاف ایکشن کیوں نہیں ہوتا؟

گذشتہ برس سامنے والے اربوں روپے کے شوگر مافیا سکینڈل بارے تحقیقات کو شروع ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا لیکن وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اس کیس کے مرکزی ملزمان جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف منی لانڈرنگ الزامات پر مقدمات درج کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اب سوال یہ ہے کہ ترین کو احتساب سے کیا کپتان بچا رہے ہیں یا کہ اسٹیبلشمنٹ کیونکہ پاکستان میں احتساب کے تمام ادارے انہیں دو زیر اثر کام کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا شوگر کمیشن کی تحقیقات کے حوالے سے جہانگیر ترین کے لیے کوئی سافٹ کارنر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے شروع کی گئی کارروائی کو وزیراعظم کی آشیرباد حاصل ہے اور ترین کے خلاف تمام کیسز کا قانون کے مطابق چلیں گے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ شوگر کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں مرکزی ملزم ٹھہرائے جانے کے باوجود ایف آئی اے اب تک ترین کے خلاف مقدمات کے اندراج سے آگے نہیں بڑھ پایا۔ ترین کے خلاف درج پہلی ایف آئی آر کے مطابق نومبر 2020 میں چھ ماہ کی ‘ان تھک’ محنت کے بعد ایف آئی اے نے جہانگیر خان ترین اور علی ترین پر 2013/14 کے دوران جے کے فارمنگ سسٹم لمیٹڈ کمپنی کے شیئر دھوکہ دہی اور فراڈ سے خریدنے کے الزام میں چار ارب 35 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور بے ایمانی اور بد دیانتی کا مقدمہ درج کیا تھا۔ دوسری ایف آئی آر کے مطابق شہباز شریف اور ان کے بیٹوں پر 2008 سے 2018 کے دوران 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ، جعل سازی اور دھوکہ دہی کے الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اِن ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اگلا مرحلہ ملزمان کی گرفتاری اور عدالت میں چالان جمع کروانا ہوتا ہے لیکن ان دونوں کیسز میں یہ پہلو تا حال نظر انداز ہیں۔

دونوں ایف آئی آر کے اندراج کو چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ایف آئی اے ان میں سے کسی ایک ملزم کو نہ تو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف عبوری یا مکمل چالان عدالت میں جمع کروایا ہے۔ چالان میں تاخیر سے متعلق بات کرتے ہوئے تفتیش سے منسلک ایف آئی اے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ہماری تفتیش تاحال جاری ہے اور جیسے ہی مکمل ہو گی ہم چالان جمع کروا دیں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد کیا 14 روز کے اندر اندر چالان جمع کروانا لازم نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کا ایک انٹرل سسٹم ہے جس کے تحت مجاز اتھارٹی تفتیشی افسر کو تفتیش مکمل کرنے کے لئے مزید وقت دے سکتی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ایف آئی اے کے سینئر افسر کا دعوی تھا کہ ان پر کسی طرح کوئی دباؤ نہیں اور وہ آزادانہ تحقیقات کر رہے ہیں۔ ترین کی الائنس مل کی تفتیش کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سٹاف کی کمی کی وجہ سے اس کی تحقیقات میں تھوڑی دیر ہو رہی ہے لیکن وہ بھی جلد مکمل ہو جائے گی۔

اس سوال پر کہ اگر ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ایف آئی اے ملزم کو گرفتار نہیں کرتا اور ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت بھی نہیں کرواتا تو کیس کیسے آگے بڑھایا جائے گا، سینئر قانون دان آفتاب احمد باجوہ نے بتایا کہ ’پاکستان کریمینل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 173 کے مطابق متعلقہ تفتیشی ادارے پر لازم ہے کہ وہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد 14 روز کے اندر اندر متعلقہ عدالت میں چالان جمع کروائے۔‘ انھوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد عدالت کو بتانا ضروری ہے کہ کیس میں کیا پیشرفت ہے آیا کہ ملزمان گرفتار ہوئے ہیں یا نہیں۔ آفتاب باجوہ کے مطابق ’سی آر پی سی کا سیکشن 173 بڑا واضح ہے کہ اگر 14 دنوں تک چالان جمع نہیں کروایا جاتا تو پھر متعلقہ تفتیشی اہلکار کو اگلے تین روز کے اندر اندر عبوری چالان جمع کروانا لازم ہے جس کے بعد کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔‘

آفتاب احمد باجوہ کے مطابق یہ دیکھنا ہو گا کہ ایسی کیا وجوہات ہیں کہ جن شواہد کی بنیاد پر ایف آئی آرز کا اندراج تو ہو گیا لیکن ان شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو گرفتار کر کے چالان نہیں کیا جا رہا۔ دوسری طرف وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر چالان میں تاخیر کو کوئی بڑا مسئلہ قرار نہیں دیتے۔ شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ 14 روز کے اندر چالان جمع کروانا لازم نہیں کیونکہ جب تفتیش مکمل ہو جائے گی تو پھر چالان بھی جمع کروا دیں گے۔ــ انھوں نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ تفتیش میں کوئی بھی پہلو رہ جائے اور چالان عدالت میں جمع کروا دیں کیونکہ اس کے بعد اگر کوئی غلطی رہ گئی تو آپ سب نے ہم پر نقطہ چینی کرنی ہے کہ یہ سب کرنے کی جلدی کیا تھی۔‘ شہزاد اکبر کے مطابق ’وائٹ کالر اور بینکنگ کرائمز کی تفتیش خاصا پچیدہ معاملہ ہوتا ہے اس لیے ایف آئی اے کی تفتیش تا حال جاری ہے۔ اس کیس میں اربوں روپے کی بینکنگ ٹرانزیکشنز ہیں جن کی تفتیش میں خاصا وقت لگتا ہے۔‘

ایف آئی اے کی طرف سے مقدمات کے اندراج کے باوجود تا حال ترین یا انکے بیٹے کو گرفتار نہ کرنے کے سوال پر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ یہ تفتیشی افسر کی صوابدید ہوتی ہے کہ وہ جب چاہے اپنے ملزم کو گرفتار کر لے اور وہ عام طور پر اس وقت ملزم کو گرفتار کرتے ہیں جب وہ تحقیقات میں رخنہ ڈالیں۔ ان کے مطابق ’کسی بھی کیس میں گرفتاری تو آخری حربہ ہوتا ہے۔‘ تاہم سرکاری ذرائع کا دعوی ہے کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار الائنس شوگر مل کے خلاف تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں لیکن تا حال ‘اوپر’ سے ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت نہیں مل سکی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، تینوں گروپس کی شوگر ملوں کے خلاف تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی بیک وقت مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئیں تھیں اور سبھی اپنی اپنی تفتیش مکمل کر چکی ہیں اسی لیے جہانگیر خان ترین اور شریف خاندان پر ایف آئی آرز کا اندراج ممکن ہوا، لیکن الائنس شوگر مل کے حوالے سے ایسی اجازت نہیں مل سکی۔

الائنس شوگر مل کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اس کی تحقیقات جاری ہیں جس کے بعد ہی کوئی کارروائی ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الائنس شوگر ملز وفاقی وزیر خسرو بختیار کی نہیں بلکہ ان کے بھائی اور گجرات کے چوہدریوں کی ہے اس لیے یہ الزام کہ خسرو بختیار کی وجہ سے الائنس کی تحقیقات میں سست روی ہے بالکل غلط ہے۔

یاد رہے کہ چینی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق نہ صرف 2017 سے 2020 تک الائنس شوگر مل کی 15ارب 5 کروڑ روپے کی 90 فیصد شوگر سیل بے نامی تھی۔ اسکے علاوہ الائنس شوگر مل کسانوں سے گنا سپورٹ پرائس سے کم قیمت پر خریدنے اور بنکوں سے پلج ہوئے سٹاک سے چینی بیچنے جیسے غیر قانونی معاملات میں ملوث تھی۔

دوسری طرف ایف آئی اے کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں نامزد ملزم جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کو گرفتار کرنے کی ابھی کوئی کوشش نہیں کی گئی جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر ملزمان کا تعلق اپوزیشن کی کسی جماعت سے ہوتا تو وہ اب تک اندر جا چکے ہوتے۔ ترین کو مختلف اوقات میں پیش ہونے کے لیے طلبی کے چھ نوٹس تو بھیجے گئے لیکن وہ آج تک ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق تفتیش کے لیے جہانگیر ترین کو طلب کیا تھا لیکن وہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کو بیرون ملک سے واپس آئے بھی کئی مہینے گزر گئے لیکن اب تک وہ ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

جہانگیر ترین کے خلاف چینی بحران کے بارے میں جو پہلی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی اس پر ترین نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ رپورٹ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے اپنی نگرانی میں تیار کروائی ہے۔ جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر رہ چکے ہیں۔ جہانگیر ترین چند ماہ قبل ہی ملک واپس آئے ہیں اور وہ سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو سینیٹر بنانے کے لیے کافی متحرک تھے۔ جہانگیر ترین نے اس ضمن میں حکمراں جماعت میں شامل اپنے ہم خیال ارکان قومی اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کی تھیں جس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ جہانگیر ترین ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم کے قریب ہو رہے ہیں۔

عمران خان کے وزاتِ عظمیٰ کا عہدہ کامیابی سے حاصل کرنے میں جہانگیر ترین کا اہم کردار سمجھا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں پنجاب سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے متعدد ارکان کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل کروایا تھا۔سپریم کورٹ سے عمر بھر کے لیے نااہل ہونے کے باوجود جہانگیر ترین وزیراعظم عمران خان کے بعد جماعت میں سب سے بااثر آدمی تصور کیے جاتے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کو زراعت سے متعلق بنائی گئی ٹاسک فورس کا چیئرمین بھی مقرر کیا تھا لیکن پھر شوگر سکینڈل آنے کے بعد ان کو فارغ کر دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین کی شوگر سکینڈل میں گرفتاری ہوتی ہے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button