ثمر بلور: بہادر بیوہ جس نے شوہر کے ووٹر یتیم نہیں ہونے دئیے


عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ہارون بلور کی بیوہ ثمر بلور نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد خاندانی روایات کے برعکس الیکشن میں حصہ لے کر صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیتی اور اب اپنے شہید شوہر کا مشن لے کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ تاہم اپوزیشن سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں اپنے حلقے کے مسائل حل کرنے میں شدید دشواریاں درپیش ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ۔ تاہم ثمر نے پھر بھی اپنے شہید شوہر کے ووٹروں کو اکیلا نہیں چھوڑا اور اپنی استطاعت کے مطابق صبح و شام ان کے مسائل حل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا کی سیاست میں بلور خاندان کا اہم کردار ہے، جس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں یکے بعد دیگرے شہادتیں دیکھیں ہیں، ان ہی میں ایک شہادت ہارون بلور کی تھی، 2018 کے عام انتخابات کے موقع پر ہارون بلور دہشت گردی کا نشانہ بنے، ہارون کی شہادت کے بعد ان کی بیوہ ثمر بلور نے خاندانی روایات کے برعکس الیکشن لڑا اور صوبائی اسمبلی کی نشست جیت کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا حصہ ڈالا۔ یوں تو ثمر بلور کا خاندان دہائیوں سے سیاست میں ہے لیکن وہ خود اس میدان میں نووارد ہیں۔ سیاست نے ثمر کو دیا کم ہے اور ان سے چھینا بہت زیادہ ہے۔ پہلے باپ جیسا سسر بشیر بلور اور پھر شوہر، ہارون بلور۔
انگریزی ادب میں ماسڑز کرنے اور کراچی میں پروان چڑھنے والی ثمر بلور نے آنکھ کھولتے ہی اپنے ارد گرد سیاست اور سیاسی ماحول دیکھا۔ ان کے نانا غلام اسحاق خان پاکستان کے بیشتر اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور ملکی تاریخ کے مضبوط ترین صدور میں سے ایک گزرے ہیں، ثمر کے والد عرفان اللہ خان مروت کراچی کی سیاست کا اہم کردار رہے ہیں، وہ سندھ اسمبلی کے پہلے پشتون رکن اور صوبائی وزیر تھے۔
10 جولائی 2018 تک ثمر کی زندگی اپنے دو بچوں کی دیکھ بھال کرنے، امور خانہ داری سنبھالنے اور بعض اوقات اپنے شوہر کے ساتھ سیاسی تقاریب میں شرکت کرنے تک محدود تھی، لیکن اسی روز پشاور میں ہونے والے ایک بم دھماکے نے ان کی یہ زندگی ہمیشہ کے لیے بدل ڈالی۔ 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات سے محض 15 روز قبل اے این پی کی انتخابی مہم کے دوران اس دھماکے میں دو درجن کے قریب افراد جاں بحق ہوئے جن میں ان کے شوہر ہارون بلور بھی شامل تھے۔ دسمبر 2012 میں اسی نوعیت کے ایک دھماکے میں ہارون بلور کے والد بشیر بلور بھی شہید ہوگئے تھے۔ اس طرح تقریباً ساڑھے پانچ سال کے دوران دہشت گردی نے ثمر کے خاندان کے دو سربراہ چھین لیے۔
ثمر کےلیے ایک تو اپنا شوہر کھونے کا غم تھا اور دوسرا سیاست کی وجہ سے اپنے خاندان کی تباہی کا۔ ان کےلیے اس دھچکے کو سہنا ناممکن تھا اور آج دو سال گزر جانے کے باوجود یہ دکھ ان کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ حلقے کی کمان سنبھالنے کےلیے بلور خاندان کی بیٹھک ہوئی تو قرعہ ثمر کے نام نکلا، جسے انہوں نے یہ سمجھ کر قبول کر لیا کہ وہ اپنے حلقے کے لوگوں کےلیے اپنے شوہر ہارون بلور کی جگہ پر نمائندہ ہیں۔ ثمر بلور نے اپنی زندگی کے اس اہم موڑ کو ایک جذباتی لمحے کے ساتھ ساتھ مجبوری بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنا ایک جذباتی فیصلہ بھی تھا اور مجبوری بھی، کیوںکہ پی کے 78 کی یہ نشست بشیر بلور کی تھی جنہوں نے لگاتار پانچ مرتبہ یہ حلقہ جیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بشیر بلور کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے ہارون بلور نے یہ نشست جیتی لیکن ہارون بلور کو راستے سے ہٹانے اور الیکشن میں حصہ لینے سے روکنے کےلیے انہیں بھی شہید کر دیا گیا۔
ثمر بلور کا کہنا تھا کہ جس نے بھی یہ کام کیا تھا اس کا مقصد صرف یہی تھا کہ وہ الیکشن نہ لڑیں۔ ہارون بلور کے بعد ان کے خاندان میں کوئی ایسا مرد نہیں تھا جو الیکشن میں حصہ لے سکتا۔ لہٰذا خاندان والوں نے فیصلہ کیا کہ اس سیٹ کو خالی نہیں چھوڑا جائے گا کیوںکہ اس سے ان لوگوں کے مقاصد پورے ہو جائیں گے جنہوں نے ہارون بلور کو مارا تھا۔ ثمر بلور نے الیکشن جیت کر نہ صرف اپنے شوہر اور ان کے خاندان کی نشست واپس لی بلکہ 16 سال کے دوران خیبر پختونخوا اسمبلی کی براہ راست انتخاب جیتنے والی واحد خاتون رکن بھی بن گئیں۔ تاہم یہ سب شاید ان کےلیے اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ ثمر بلور کا کہنا ہے کہ اکیلی ماں ہونے کے ناطے گھر خے کام دیکھنا پڑتے ہیں اور بچوں کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں گھر اور سیاسی کاموں کے بیچ پھنس چکی ہوں۔
ثمر بلور کا کہنا ہے کہ ان کو زیادہ مشکل خاتون ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپوزیشن رکن ہونے کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ اپوزیشن ایم پی اے ہونے کی وجہ سے نہ وزیراعلیٰ انکے حلقے کے لیے فنڈ دیتے ہیں اور نہ ہی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین کو فنڈز ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ارکان کو سرکاری اجلاسوں میں بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ موجودہ بجٹ میں خواتین کےلیے کوئی بھی فنڈ پاس نہیں ہوا بلکہ پورے بجٹ میں عورت کا نام تک نہیں۔
اے این پی کی جانب سے پارٹی ترجمان مقرر کیے جانے پر ثمر بلور کا کہنا ہے کہ وہ اے این پی کے نظریے اور منشور کو ایک نئے انداز کے ساتھ عوام تک پہنچانے کےلیے بھر پور کردار ادا کریں گی۔ اے این پی کا سو سالہ پرانا منشور اور نظریہ ہے۔ پارٹی کے اراکین نے خواتین، غریب و لاچار اور کمزور طبقوں کےلیے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سارے حقوق پشتون دائرے میں رہ کر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسلام نے سارے حقوق خواتین کو دیے ہیں۔ ثمر بلور کے مطابق معاشرے کی کمیوں اور کوتاہیوں کو صرف تعلیم کی بدولت ہی پورا کیا جا سکتا ہے کیوں کہ جب لوگوں کو یہ پتا چلے گا کہ بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ دینا اور ان کی تعلیم پر پیسہ خرچ کرنا چاہیے نہ کہ ان کی شادیوں کے جہیز پر، تو معاشرے سے بہت سارے مسائل ختم ہوجائیں گے۔ اسی ایجنڈے کی تکمیل میرا مقصد ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کےلیے جتنی محنت میں کر رہی ہوں اتنی شاید کوئی مرد رکن اسمبلی بھی نہیں کرتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button