لال مسجد طالبات کا بزور بازو عورت مارچ روکنے کا اعلان

لال مسجد والے شدت پسند مولانا عبدالعزیز کے خواتین مدرسے جامعہ حفصہ سے وابستہ طالبات نے اسلام آباد میں عورت مارچ کے خلاف وال چاکنگ شروع کر دی ہے جبکہ مولانا کی اہلیہ امِ حسان نے عورت مارچ کو بزور بازو روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ امِ حسان کا کہنا ہے کہ 8 مارچ کو عورت مارچ کےجواب میں باحجاب خواتی ’حیا مارچ‘ کے نام سے ’جوابی مارچ کریں گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی صورت بھی اسلامی اقدار کے خلاف کسی اقدام کی حمایت نہیں کریں گی اور ایسی ہر حرکت کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب ’جامعہ حفصہ کی طالبات‘ کا دستخط کردہ ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں اسلام آباد میں عورت مارچ کے خلاف ہونے والی وال چاکنگ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شرعی اصولوں کے تحت ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں فحاشی کو فروغ دینے والے ہر عمل کو روکیں اور اسی ذمہ داری کی ادائیگی کیلئے انھوں نے عورت مارچ کیخلاف وال چاکنگ کر کے لوگوں کو گمراہی سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگر پھر بھی خواتین عورت مارچ میں شرکت سے باز نہ آئیں تو انھیں بزور بازو روکیں گی۔ جامعہ حفصہ کی طالبات کی طرف سے جاری بیان میں مارچ میں شرکت سے روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دارالحکومت کے شہریوں کو چاہیے کہ مارچ کے حمایتیوں کو اپنے علاقوں سے باہر نکال دیں۔
یاد رہے کہ جولائی 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد میں خون خرابہ کروانے والے مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ ام حسان 200 کے قریب جامعہ خفصہ کی خاتون طالب علموں کے ہمراہ مسجد پر قابض ہیں۔ پہلے مولانا کا مطالبہ تھا کہ انہیں لال مسجد کا خطیب مقرر اور ان کے بھتیجے اور مولانا عبدالرشید غازی کے صاحبزادے ہارون رشید کو نائب خطیب مقرر کیا جائے۔ بعد ازاں مولانا اس شرط پر لال مسجد کا قبضہ ختم کرنے پر آمادہ ہو گئے کہ انہیں جامعہ حفصہ کے لئے 10 مرلے کا ایک پلاٹ الاٹ کردیا جائے۔ لیکن پھر نجانے ان کے دماغ میں کیا آیا کہ وہ معاہدے سے مکر گئے جس کے بعد صورتحال دوبارہ کشیدہ صورت اختیارکر چکی ہے. مولانا عبدالعزیز اب گزشتہ ایک ماہ سے زبردستی مسجد پر قابض ہیں اورانھوں نے خود کو خود ساختہ خطیب ڈیکلیئر کردیا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ وہ مسجد میں نماز جمعہ کی امامت بھی کروایئں گے۔ مولانا کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی قائم ہے جبکہ مولان کی اہلیہ اور جامعہ خفصہ کی طالبات کی طرف سے عورت مارچ کے حوالے سے رد عمل سے حالات مزید کشیدہ ہوتے نظر آتے ہیں۔
دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری محمد طارق کا کہنا ہے کہ’اگر اسلام آباد میں عورت مارچ ہوا تو ہم چپ نہیں بیٹھے رہیں گے بلکہ انہیں اسلام اور پاکستانی ثقافت کے حقیقی رنگ دکھانے کے لیے اپنے لوگوں کو سڑکوں پر لائیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ عورت آزادی مارچ کے مقام پر ہی صبح 10 بجے اپنا ’عورت مارچ‘ کریں گے۔ عورت مارچ کو روکنے کے حوالے سے جامعہ محمدیہ کے منتظم علامہ تنویر علوی اورشہدا فاؤنڈیشن پاکستان کے ترجمان حافظ احتشام احمد کی طرف سے اسلام آباد انتظامیہ کو دو درخواستیں بھی جمع کرائی جا چکی ہیں جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عورت مارچ کے انعقاد سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے گی اور مزہبی جماعتوں کی طرف سے مارچ کو روکنے کے حوالے سے کئے گئے اعلانات کے پیش نظر کشیدگی کا خدشہ ہے اس لئے کسی بھی کشیدگی کے سدباب کیلئے عورت مارچ کا انعقاد روکا جائے۔
