جام کمال اعتماد کا ووٹ لیں گے یا پھر استعفی دیں گے؟

بلوچستان میں وزیراعلی جام کمال خان علیانی کے خلاف ان کے اپنے پارٹی اراکین کی بغاوت اور کابینہ کے 9 وزرا، مشیروں اور پارلیمانی سیکریٹریوں کے استعفوں کے بعد سیاسی بحران شدید تر ہو گیا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن نے وزیراعلیٰ جام کمال خان پر زور دیا ہے کہ وہ استعفیٰ دیں یا ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں کیونکہ وزرا کے استعفوں کے بعد وہ ایوان میں اکثریت کھو چکے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان نے یہ مطالبہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی سیکریٹری مینگل ملک نصیر احمد شاہوانی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حاجی نواز کاکڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
سکندر خان نے کہا کہ وزیر اعلی کی جانب سے اپنے وزرا کے استعفے قبول کرنے کے بعد بلوچستان کو سنگین سیاسی اور آئینی بحران کا سامنا ہے اور اس کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب جام کمال بلوچستان اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے کر ثابت کریں کہ انہیں اب بھی اکثریت کا اعتماد حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر بلوچستان سید ظہور آغا کو اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہیے اور وزیراعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے۔
بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے 65 اراکین میں سے جام کمال کو بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادی شراکت داروں کے صرف 24 ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ 41 اراکین ان کے مخالف ہیں لہٰذا وہ اب وزیر اعلیٰ کے طور پر کام جاری رکھنے کا اخلاقی جواز حق کھو چکے ہیں۔ سکندر خان نے دعوی کیا کہ موجودہ صورتحال میں ناراض وزرا اور ایم پی اے کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کو اکثریتی ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جام کمال نے گزشتہ 20 دنوں کے دوران بطور وزیراعلیٰ جو احکامات جاری کیے ہیں وہ غیر آئینی ہیں اور سرکاری افسران کو ان غیر قانونی احکامات کو نہیں ماننا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ تب شروع ہوا جب وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ نے منتخب اپوزیشن ارکان کے ذریعے خرچ کرنے کے بجائے غیر منتخب لوگوں کو ترقیاتی فنڈز مختص کیے۔اپوزیشن کی جانب سے حالیہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے سکندر خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اپوزیشن ارکان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں جو 13 دن تک تھانے میں بند رہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام مظالم کا ارتکاب کرنے کے بعد جام کمال اب اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے مل رہے ہیں اور درخواست کر رہے ہیں کہ وہ انکی حکومت کو بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک اب بھی گورنر کے پاس فیصلے کے لیے زیر التوا ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یا تو ان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہا جائے یا پھر انکے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کروائی جائے۔
دووری جانب جمعیت علمائے اسلام ف نے بھی وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی حمایت کی درخواست پر ان سے معذرت کر لی ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے مولانا فضل الرحمٰن کو جام کمال سے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر مولانا فضل نے کہا کہ جے یو آئی بلوچستان اور پارلیمانی پارٹی کے فیصلے درست ہیں۔مولانا عبدالغفور حیدری نے مولانا فضل الرحمٰن سے کہا کہ 3 سال تک وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے غیر جمہوری رویہ اپنایا اور اب جب ان کے اقتدار کا سورج غروب ہو رہا ہے تو وہ ہم سے مدد مانگ رہے ہیں جو انہیں نہیں ملے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال کو سنجیدہ ترین چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ تبدیلی کی کوشش اپوزیشن سے ذیادہ انکی اپنی پارٹی کر رہی ہے جس کی صدارت سے وہ حال ہی میں مستعفی ہو چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عموماً اپوزیشن ہی حکمراں جماعت کے ناراض ارکان کو ساتھ ملا کر وزیر اعلیٰ کو اقتدار سے نکال باہر کرتی ہے۔ لیکن بلوچستان میں صورتحال اسکے اُلٹ ہے جہاں اپوزیشن باہر بیٹھے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مشکل میں پڑے وزیر اعلیٰ کی کوئی مدد کرنے سے انکاری ہے۔ لہذا ایسے حالات میں جام کمال کی وزارت اعلی بچ جانا ایک معجزے سے کم نہیں ہو گا۔
