جانئے لاک ڈاؤن میں گھر بیٹھ کر کیسے پیسے کمائیں؟

ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اکثریتی افراد مالی پریشانیوں کا شکار ہے۔ ہزاروں افراد کی نوکریاں ختم ہو چکی ہیں جبکہ لاکھوں افراد ذریعہ معاش نہ ہونے کی وجہ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ تاہم آپ لاک ڈاؤن کے دوران گھروں تک محدود رہ کر بھی آن لائن کاروبار اور آمدن کے نئے ذرائع اپنا سکتے ہیں۔ اجکل انٹرنیٹ ماہرین اس حوالے سے آن لائن تربیت فراہم کر رہے ہیں کہ کیسے یوٹیوب، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس کے ذریعے لاک ڈاؤن کی سختی کو کمائی میں بدلا جا سکتا ہے۔
پاکستانی عوام عادتاً خود مارکیٹ جا کر خریداری کرنے کو فوقیت دیتے ہیں جس کی ایک وجہ آن لائن خریداری میں فراڈ کا۔ہونا بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کئی سالوں سے ای کامرس کے شعبے کی حیثیت ثانوی ہے تاہم کرونا وائرس کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن کی وجہ سے آن لائن خریداری کو یکایک بنیادی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ اس وقت تمام کاروباری ادارے، برانڈز، حتیٰ کہ بینکنگ سیکٹر بھی اپنی سروسز کی بغیر کسی اضافی چارجز کے ترجیحی بنیادوں پر آن لائن فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ ویب ڈویلپر اور ڈیجیٹل ایکسپرٹ فراز احمد کے مطابق حالیہ دنوں میں ٹیکنالوجی سے متعلقہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی طلب میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے اور اگر انہیں صحیح طریقے سے مارکیٹ کیا جائے تو لوگ گھر بیٹھے کمائی کر سکتے ہیں۔
حالیہ دونوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ اسیسریز، جیسے کے انٹرنیٹ راؤٹر، رینج ایکسٹینڈر، وڈیو کانفرنس اکویپمٹ، آن لائن گیمنگ اسیسریز، گھریلو استعمال خصوصاً بچوں کے کپڑے، گھر کے اندر ورزش کرنے کا سامان، بچوں کے لیے کھیل کود اور تفریح کا سامان، سکیورٹی کا سامان، آئی پی کیمرے اور موشن ڈِٹیکٹرز وغیرہ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ تمام اشیاء نہ صرف ویب سائٹ بلکہ فیس بک اور یوٹیوب کے ذریعے بھی فروخت کی جا سکتی ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کے ذریعے میڈیکل سامان اورحفاظتی کٹس بھی فروخت کی جا رہی ہیں۔ وہ تمام کاروباری حضرات جو مارکیٹوں کی بندش کی وجہ سے مال فروخت نہیں کر پا رہے وہ آن لائن آکر کاروبار کر سکتے ہیں۔ وہ دکاندار جو خود ٹیکنالوجی کی اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے وہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنٹس اور پروگرامرز کی مدد سے اپنا سامان فروخت کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف ڈیجیٹل مارکیٹنگ پروفیشنل محسن ضیاء کے مطابق آن لائن کمائی کے لیے انٹرنیٹ ٹولز کی مہارت کی ضرورت نہیں، آپ جس بھی شعبےمیں مہارت اور قابلیت رکھتے ہیں، اس حوالے سے وڈیوز بنا کر اپنے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول ‘لاک ڈاؤن کے دنوں میں گھروں تک محدود لوگ اپنا زیادہ وقت آن لائن رہ کر گزار رہے ایسے میں معلوماتی وڈیوز دیکھنے والوں میں اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا آپ جس بھی کام کے ماہر ہیں اس کی معلوماتی وڈیوز بنا کر آن لائن اپلوڈ کر سکتے ہیں اور پیسے کما سکتے ہیں۔ محسن ضیاء کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص موبائل کے ذریعے باآسانی وڈیوز بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق گوگل کی شرائط کو سمجھا جائے تو کوئی بھی شخص محض تین ماہ کے اندر یوٹیوب سے پیسے کمانا شروع کرسکتا ہے۔ اس حوالے سے فراز احمد نے بتایا کہ آن لائن کورسز لاک ڈاؤن کے دوران وقت کی ضرورت ہیں، اور بہت سے ادارے جنہیں ورک فرام ہوم کرنا پڑ رہا ہے انہیں اس حوالے سے تربیت اور معلومات نہیں، لہٰذا وہ اپنے ملازمین کو آن لائن کورسز اور لیکچر دلوا رہے ہیں۔ان کے بقول یہ ویب ڈویلپرز اور پروگرامرز کے لیے موقع ہے کہ وہ ان کاموں کی انجام دہی کے لیے سافٹ وئیر بنائیں جو اب دفاتر میں نہیں ہو پا رہے۔
لاک ڈاون کے دوران بہت سے سکول اب بچوں کی آن لائن کلاسز لے رہے ہیں۔ ایسے میں کورس مینیجمینٹ سافٹ ویئرز کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے علاوہ وہ تمام افراد جو دفتر کے بجائے گھر سے کام کر رہے ان کا کام مینیج کرنے کے لیے سافٹ وئیر چاہیے۔ ای کامرس کی مانگ بڑھنے سے ویب ڈویلپمنٹ کی ضرورت بھی بڑھی ہے اور یہ وہ تمام کام ہیں جن سے گھر بیٹھے کمائی کی جاسکتی ہے۔
حکومت نے پہلے ہی لاک ڈاؤن میں مشروط نرمی کرتے ہوئے تمام ڈیلیوری سروسز کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ لہذا کورئیر کمپنیوں کی کیش آن ڈیلیوری سروس کو بروئے کار لاتے ہوئے کاروباری حضرات اپنا سامان لوگوں کے گھروں تک پہنچا سکتے ہیں۔
نوجوان انٹرپرینئور خضر صدیقی کا کہنا ہے کہ گھر تک محدود رہتے ہوئے ٹرانسلیشن، سی وی رائٹنگ اور یوٹیوب ویڈیوز وہ آسان ترین کام ہیں جن سے کمائی کی جا سکتی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ متعدد موبائل سروس کمپنیوں نے بھی لاک ڈاؤن کے دوران انٹرنیٹ اور کال پیکیجز سستے کر دیے ہیں جس سے انٹرنیٹ کے استعمال اور اس کے ذریعے روزگار حاصل کرنے میں آسانی ہو پائے گی۔
