جانوروں کے ساتھ پرورش پانے والے منفرد انسانوں کی کہانی

آپ نے کہانیوں میں تو ایسے بچوں کے بارے میں پڑھا اور سنا ہو گا جو جنگل میں ٹارزن کی طرح جانوروں کے ساتھ پلے بڑھے۔ لیکن دنیا میں ایسے کئی بچے موجود ہیں جنہوں نے اپنا بچپن واقعی جنگلی جانوروں کے ساتھ گزارا۔ اسی وجہ سے انھیں حقیقی زندگی کا ٹارزن کہنا غلط نہ ہوگا۔ دنیا میں موجود ایسے بچوں کے لیے ’فیرل چائلڈ‘ یا جنگلی بچے کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، یعنی ایسے بچے جن کا بچپن انسانوں سے الگ تھلگ جنگل میں یا ایسی جگہ گزرے جہاں جانوروں کے ریوڑ رہتے ہوں۔
جنگلوں سے بازیاب ہونے والے زیادہ تر فیرل چائلڈ رہنے سہنے، کھانے پینے یہاں تک کے سوتے ہوئے بھی جانوروں جیسا برتاؤ کرتے ہیں جن کے ساتھ انہوں نے وقت گزارہ ہو۔‘ تاریخ ِمیں ایسے کئی بچوں کا ذکر ہے جو جنگلوں میں کتوں، بھیڑیوں، بندروں اور دوسرے جانوروں کے ساتھ پرورش پا چکے ہیں۔
1725 میں شمالی جرمنی کے شہر ہیملین کے قریبی جنگل میں برطانوی شکاریوں کو ایک بارہ سالہ بچہ ملا جسکا نام پیٹر دی وائلڈ بوائے رکھا گیا۔ یہ بچہ چوپائے کی طرح چلتا تھا، جنگلی پھل اور پتے کھاتا اور پانی کو جانوروں کی طرح چاٹ کر پیتا تھا۔ یہ شکاری اس بچے کو عجوبہ سمجھ کر فرانس کے دورے پر آئے برطانوی بادشاہ جارج اول کے پاس لے گئے، جو اس لڑکے کو اپنے ساتھ برطانیہ لے گیا اور ’پیٹردی وائلڈ بوائے‘ کا نام دیا۔ جارج اول نے پیٹر کی بحالی کے بجائے اسے اپنے بچوں کے لیے کھلونا بنادیا اور گلے میں پٹاّ ڈال کر محل میں باندھ دیا۔ بعدازاں جارج اول نے پیٹر کو انسانی رہن سہن سکھانے کے لیے کچھ ملازمین مختص کیے جن کی کوششوں سے پیٹر نے کئی حیوانی عادات کو ترک کردیا لیکن وہ تمام عمر بولنے سے قاصر رہا۔ پیٹر 1785 میں دنیا سے رخصت ہوا۔
میری انجلیق میمی 1712میں امریکی شہر ویسکونسن میں پیدا ہوئی۔ نو سال کی عمر میں ایک فرانسیسی تاجر کی بیوی اسے اپنی خادمہ بنا کر فرانس لے گئی۔ فرانس جانے کے کچھ عرصے بعد ہی طاعون کی وبا نے اس کی مالکن کو بھی موت سے ہم کنار کردیا۔ اس وقت سب اپنی اپنی جان بچانے کے چکر میں تھے تو بھوک کی شدت سے نڈھال میری نے قریبی جنگل کا رخ کرلیا، جہاں وہ دس سال تکجانوروں خے ساتھ رہی۔ طویل عرصے تک جنگل میں رہنے کی وجہ سے میری میں حیوانی عادتیں پروان چڑھیں اور وہ جانوروں کی طرح کھانے پینے، چلنے اور رہنے لگی۔ 1731میں جب دیہاتیوں نے میری کو جنگل سے بازیاب کیا تو اس کے ناخن بڑھے ہوئے تھے، وہ بلی کی طرح ہونٹ سُکڑ کر پانی پی رہی تھی۔ اسے اناج کی جگہ کچا گوشت، مینڈک، سانپ، درختوں کے پتے، شاخیں کھانا پسند تھا۔ وہ نہایت پھرتی سے خرگوش اور دوسرے چھوٹے جانوروں کا شکار کرنے اور اپنے لمبے ناخنوں سے ان کی کھال اتارنے میں مہارت رکھتی تھی۔ میری 1775میں چل بسی۔
یوکرائن کی اوکزیناملایا نے چھے سال کا عرصہ شکاری اور جنگلی کتوں کے ساتھ گزارا۔ ملایا کے شرابی والدین دو سالہ او کزینا کو ایک متروک فارم ہاؤس کے باہر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ سردی کی شدت سے نڈھال بچی رینگ کر فارم ہاؤس میں بنے کینیل یعنی کتوں کے رہنے کے لیے بنائی گئی جگہ میں چلی گئی۔ 1991میں جب اوکزینا کو بازیاب کرایا گیا تو اس وقت اس کی عمر محض ساڑھے آٹھ سال تھی۔ اوکزینا کا طرز عمل ہوبہو کتوں کی طرح تھا، وہ چاروں پیروں پر کتوں کی طرح بھاگنے، کتوں کی طرح دانت اور زبان باہر نکال کر بھونکنے، فرش پر لوٹ لگانے کے ساتھ ساتھ اپنی ہائیجین کا خیال بھی کتوں کی طرح رکھ رہی تھی۔ بازیابی کے بعد اسے کینیل سے نکال کر بچوں کے ایک مقامی نفسیاتی ہسپتال میں منتقل کیا گیا، کئی سالوں کی تربیت کے بعد اوکزینا نے اپنے کتوں جیسے طرز عمل پر کافی حد تک قابو پالیا ہے، وہ عقل مندی کے ساتھ روانی سے انگریزی اور مقامی زبان بولتی ہے۔ اوکزین کافی حد اپنا رویہ تبدیل کرچکی ہے۔ تاہم حال ہی میں ایک مقامی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں اوکزینا نے کہا،’میں چاہتی ہوں کہ مجھے ایک عام انسان کی طرح سمجھا جائے، جب لوگ مجھے ’ ڈاگ گرل‘ کہ کر مخاطب کرتے ہیں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اوکزینا اس وقت ایک باڑے میں بھینسوں کی دیکھ بھال اور دودھ دوہنے کی ملازمت کر رہی ہے۔
بھارتی نوجوان شام دیو کو ’وولف مین‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ چار سالہ شام دیو کو 1972میں ریاست اتر پردیش کے ایک جنگل سے بازیاب کرایا گیا ، جہاں وہ بھیڑیوں کے بھٹ میں رہ رہا تھا۔ شام دیو کو بازیاب کرانے والے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جب ہم بھیڑیوں کے بِھٹ پہنچے تو ہمیں وہاں ایک الگ ہی منظر دیکھنے کو ملا ’ایک چار سالہ بچہ بھیڑیوں کے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مگن تھا۔ ہمیں دیکھ کر وہ بھیڑیے کی طرح دانت نکال کر غرانے لگا۔ شام دیو کے نوکیلے دانتوں، لمبے مڑے ہوئے ناخون، سیاہ رنگت اور غیرمعمولی خدوخال نے اسے انسان نما بھیڑیے میں تبدیل کردیا تھا۔‘ شام دیو کو تحصیل سلطان پور کے ایک گاؤں ناین پور منتقل کیا گیا۔ طویل عرصے تک گیدڑ اور بھیڑیوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے شام کو تاریک جگہوں پر رہنا پسند تھا، اسے خون پینے کی طلب ہوتی تھی، اسے مرغیوں کے شکار اور زمین چاٹنے میں مزہ آتا تھا۔ شام کی ان عادات سے خوف زدہ دیہاتیوں نے 1976میں شام دیو کو مدر ٹریسا کے ’محتاج گھر‘میں چھوڑ دیا۔ صحیح طریقے سے نفسیاتی بحالی اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے فروری 1985میں شام دنیا سے رخصت ہوگیا۔
امریکی ریاست کولمبیا کی مَنکی گرل مرینا چیپ مین کا دعویٰ ہے کہ انہیں1959میں جنوبی امریکا کے ایک گاؤں سے اغوا کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر پانچ برس تھی۔ تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر اغوا کار انہیں ایک جنگل میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس کے بعد پانچ سال تک وہ جنگل میں کیپوچین نسل کے بندروں کے ساتھ رہیں۔ 1969میں انہیں شکاریوں کے ایک گروپ نے بازیاب کرایا اور ایک مقامی قحبہ خانے کو فروخت کردیا، کچھ عرصے بعد وہ وہاں سے فرار ہوگئیں اور کچھ عرصہ سڑکوں پر گزارا، لیکن انہیں ایک بار پھر اغوا کرنے کے بعد ایک مافیا فیملی کی لونڈی بنادیا گیا۔ کچھ سال بعد وہ فرار ہوکر بریڈ فورڈ چلی گئیں۔ تاہم کچھ حلقے مرینا کے جنگل میں بندروں کے ساتھ بچپن گزارنے کے دعوے کو غلط قرار دیتے ہیں۔
2007 میں کمبوڈیا کے صوبے راتانا کری کے جنگل سے محکمۂ جنگلی حیات کے اہل کاروں نے ایک برہنہ لڑکی کو بازیاب کیا۔ اس لڑکی کی شناخت قریبی گاؤں کے ایک دیہاتی نے اپنی بیٹی روشوم پنگیانگ کے نام سے کی، جو 18سال قبل لاپتا ہوگئی تھی۔ جنگل میں طویل عرصہ گزارنے کی وجہ سے روشوم نہ صرف بہت سے جانوروں کی آوازیں نکال لیتی تھی، بلکہ وہ جانوروں کا شکار کرکے ان کا گوشت کچا ہی کھا جاتی تھی۔ روشوم کو ایک مقامی بحالی مرکز میں داخل کرایا گیا۔ بازیابی کے وقت وہ صرف تین لفظ’ماں‘، ’باپ‘ اور ’معدہ‘ بول سکتی تھی۔ پیروں پر چلنے کے بجائے وہ رینگ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتی تھی۔ روشوم کو مہذب دنیا میں رہنے میں بہت مشکلات درپیش تھیں۔ وہ انسانوں کے ماحول میں نہیں ڈھل سکی اور متعدد بار فرار ہونے کی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیا، لیکن آخرکار بازیابی کے چند ماہ بعد ہی وہ بحالی مرکز سے فرار ہونے میں کام یاب ہوگئی۔ تا ہم سول سوسائٹی اور جنگلی حیات کے محکمے کی کوششوں کی بدولت ایک سال بعد روشوم کو دوبارہ بازیاب کرا کے اسپین کے ایک دماغی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تاحال زیر علاج ہے۔
دنیا کے مشہور صحرا ’سہارا‘ میں اپنے والدین سے بچھڑ جانے والے دو سالہ ہیڈارا کی پرورش دس سال تک شتر مرغوں نے کی۔ بارہ سال کی عمر میں اسے مقامی حکام کی مدد دسے بازیاب کرایا گیا۔ اس بچے کی تما م حرکات و سکنات شتر مرغ کی طرح ہوگئی تھی۔ وہ آواز بھی شتر مرغ کی طرح نکالتا تھا۔ ہیڈارا کا سوئٹرزلینڈ کے ایک بحالی مرکز میں علاج کیا گیا۔ صحت یاب ہونے کے بعداب وہ ایک ذمے دار شوہر اور محبت کرنے والے باپ کی حیثیت سے خوش حال زندگی بسر کر رہا ہے۔
منکی بوئے کے نام سے جانا جانے والےجان کو بچپن میں افریقی ملک یوگنڈا کے جنوب میں واقع جنگلات سے بندروں کے پاس سے بازیاب کرایا گیا تھا۔ جان 1988میں یوگنڈا میں پیدا ہوا۔ دو سال کی عمر میں اس نے اپنے باپ کے ہاتھوں ماں کو قتل ہوتے دیکھا۔ نوے کے عشرے میں ملک میں ہونے والی خانہ جنگی میں جان کا باپ مارا گیا اور کسی نے لاوارث جان کو جنگل میں چھوڑ دیا۔ جنگل میں افریقی بندروں نے جان کو اپنی کالونی میں داخل کرلیا۔ جان کے کھانے کا دارومدار بندروں کے بچ جانے والے پھلوں، آلوؤں اور دیگر چیزوں پر تھا۔بندروں نے اپنا بچہ سمجھ کر جان کی پرورش شروع کردی۔ جان نے ٹارزن کی طرح جنگل میں زندگی گزارنا شروع کردی۔ جان کو ایک قبائل خاتون نے بازیاب کرایا، توہم پرستی کا شکار کچھ لوگوں نے جان کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا کیوںکہ ان کا خیال تھا کہ یہ انسان کی شکل میں خدا کا عذاب ہے، لیکن دیہاتیوں کے ایک گروپ نے جان کو وہاں سے بہ حفاظت نکال کر ایک یتیم خانے میں داخل کرادیا۔ بحالی کے بعد معاشرے کا ایک ذمے دار فرد ہونے کے ساتھ جان ابھی تک بندروں کی باتوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جان کی زندگی پر متعدد ملکی اور غیرملکی ٹی وی چینلز دستاویزی فلمیں بنا چکے ہیں۔
ماسکو کا ایوان میشوخوف چار سال کی عمر میں اپنے شرابی ماں باپ کی مار پیٹ سے بچنے کے لیے گھر سے فرار ہوگیا تھا۔ گھر سے بھاگنے کے بعد میشو خوف نے آوارہ کتوں کے ایک مسکن کو اپنا ٹھکانا بنالیا۔ ابتدا میں وہ کتوں کے بچے کھچے کھانے سے پیٹ بھرتا رہا، لیکن بعد میں بھیک مانگ کر اپنا اور کتوں کا پیٹ بھرنا شروع کردیا۔ 1998میں ماسکو پولیس نے ایوان کو بازیاب کرایا۔ کتوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ایوان کا برتاؤ کتے جیسا ہوگیا تھا، جس پر قابو پانے کے لیے ایوان کو ایک بحالی مرکز میں داخل کرایا گیا۔ میشو خوف نے تیزی سے لکھنا پڑھنا سیکھا۔ آج شائستگی اور دانش مندی کے ساتھ گفت گو کرنے والے ایوان کو دیکھ کر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ بچہ ماضی میں کتوں کے ساتھ رہ چکا ہے۔ فوجی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے اور روسی فوج میں خدمات سرانجام دینے والا میشو خوف متعدد روسی اور غیر ملکی اخبارات اور ٹی وی چینلز کو انٹرویوز بھی دے چکا ہے۔
