جاوید لطیف نے ریاست مخالف تقریر کا مقدمہ چیلنج کردیا

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی جاوید لطیف نے اپنے خلاف، ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اکسانے اور غداری سمیت سائبر کرائم ایکٹ کے تحت درج کیے گئے مقدمے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔
جاوید لطیف کی جانب سے فرہاد علی شاہد ایڈووکیٹ نے مقدمے کے خلاف درخواست لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی۔جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ آفس نے مسلم لیگ(ن) کے رہنما جاوید لطیف کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمدقاسم خان کل یعنی 9 اپریل بروز جمعے کو جاوید لطیف کی درخواست پر سماعت کریں گے۔درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ لیگی رہنما جاوید لطیف کے خلاف غداری کا جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا۔اس کے ساتھ ہی درخواست میں لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی کہ عدالت جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کاحکم جاری کرے۔
خیال رہے کہ رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف نے گزشتہ ماہ مارچ میں ایک ٹی وی پروگرام میں مریم نواز کو مبینہ دھمکی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ‘اگر خدانخواستہ مریم نواز شریف کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے’۔اس بیان پر 20 مارچ کو جاوید لطیف کے خلاف ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور غداری سمیت سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔
میاں جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ لاہور کے شہری جمیل سلیم کی مدعیت میں تھانہ ٹاؤن شپ میں درج کیا گیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ جاوید لطیف نے ملک کی حکومت اور سالمیت کے ساتھ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ ‘رکن قومی اسمبلی نے ٹی وی پر ملکی سلامتی اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان دے کر فوجداری، ملکی اور آئینی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے’۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہی کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جاوید لطیف کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جاوید لطیف کے بیان سے متفق نہیں اور ان کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔بعدازاں 22 مارچ کو سیشن کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف کی ریاست مخالف تقریر کے مقدمے میں عبوری درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو ان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
