جب ٹی وی پر لائیو گانے کے دوران گلوکار کی دھوتی کھل گئی

پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ میں ایک ایسا عجیب واقعہ بھی رونما ہوا جب معروف گلوکار عالم لوہار کی لائیو نشریات کے دوران جگنی گاتے ہوئے دھوتی کھل گئی، اس واقعے کے راوی مشہور ٹی وی پروگرام نیلام گھر کے میزبان طارق عزیز ہیں۔
مرحوم طارق عزیز یہ واقعہ اکثر سنایا کرتے تھے۔ اسکی تفصیل یوں ہے کہ یک روز وہ پی ٹی وی میں بطور پروڈیوسر فوک گلوکار عالم لوہار سے لائیو گانا گوا رہے تھے۔ لوگ عالم لوہار کی جگنی سننے میں مست تھے اور عالم لوہار سمیت سب کی آنکھیں بند تھیں۔ اسی دوران اچانک ان کے اسسٹنٹ نے شور مچا دیا کہ سر! عالم لوہار کی دھوتی کھل گئی ہے۔
طارق عزیز کہتے ہیں کہ اچانک پڑنے والی اس افتاد کی ہمیں خبر تک نہ ہوئی تھی اور عالم لوہار بھی اپنی مستی میں دے جگنی پہ جگنی مارے جا رہے تھے۔ اب صورت حال ایسی تھی کہ گانا لائیو نشریات ہو رہا تھا چنانچہ میں نے کیمرہ مین کو اشارے سے کہا کہ عالم لوہار کا صرف اوپری دھڑ دکھاؤ اور نیچے کا حصہ دکھانے سے پرہیز کرو۔ اسی دوران ایک شخص نے دوڑ کر بے خبر اور مست عالم لوہار کی دھوتی اٹھا کر انہیں پہنائی تو ہم سب کی جان میں جان آئی۔ طارق عزیز کہتے ہیں کہ اب اللہ جانے تب تک عالم لوہار کے اوزار ہمارے علاوہ اور کس کس نے لائیو دیکھ لیے تھے۔
خیر یہ تو نادانستگی میں ہوا تھا مگر کیا سیاسی ٹاک شوز میں ہونے والی بے ہودگیاں نادانستگی میں ہوئیں؟ عمران خان کے بااعتماد ساتھی نعیم الحق کا اس طرح کے واقعات میں ریکارڈ کبھی اچھا نہ رہا تھا، موصوف نے ایک شو کے دوران ساتھی مہمان کو بھروا ہونے کا غلیظ ترین طعنہ دیا تو خاصی گرما گرمی ہوئی جسکے بعد نعیم نے اس پر پانی بھرا گلاس پھینک دیا۔
بعد ازاں ایک اور لائیو شو میں مرحوم نعیم الحق نے دانیال عزیز کو تھپڑ دے مارا۔ اسی طرح قومی اسمبلی میں اپنی چیخوں کی وجہ سے معروف مراد سعید نے ابصار عالم کے شو میں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے بیٹے ارسلان افتخار کو تھپڑ دے مارا تھا۔ اسی طرح ن لیگ کے حنیف عباسی کے نامناسب ریمارکس پر کشمالہ طارق بھی ان پر برس پڑی تھیں۔ لیکن اگر ہم بدتمیزی میں چاندی کا تمغہ کسی کو دیں تو وہ فردوس عاشق اعوان کو ملے گا جنہوں نے جاوید چودھری کے شو میں کشمالہ طارق کو طعنہ مارا تھا کہ”لوگوں کے بستر گرم کر کے ایم این اے بنی ہو“۔ اس پر کشمالہ طارق نے حیرت انگیز طور پر کوئی سخت ردعمل نہ دکھایا تھا لیکن جاوید چودھری شو میں وقفہ لینے پر مجبور ہو گئے۔بعد ازاں فردوس عاشق اعوان نے پیپلز پارٹی کے کراچی سے ایم این اے عبدالقادر مندوخیل کو ایک شو میں نہ صرف سخت بُرا بھلا کہا بلکہ تھپڑ بھی دے مارا۔
حامد میر کے شو کیپیٹل ٹاک میں ایک بار خواجہ آصف نے کشمالہ طارق کو روٹین میں گفتگو کے دوران ”یار“ کہہ ڈالا تھا جس پر کشمالہ غصے میں آ گئی تھیں ،ایم کیو ایم کے رضا ہارون اور ن لیگ کے سابق رہنما ضعیم قادری کے درمیان بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ اس دوران قادری کو کراچی آنے پر دھمکیوں سے بھی نوازا گیا۔ اسی طرح مصطفیٰ کمال بھی سکرین پر نامناسب جملے بازی کرتے دیکھے گئے۔ ن لیگ کے عابد شیر علی اور پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی ایک دوسرے پر ہر طرح کے اوچھے الزامات عائد کرتے دیکھے گئے۔ یہ دونوں تو بعض اوقات لڑنے مرنے پر تل جاتے تھے۔ایم کیو ایم کی ایک اور رہنما وسیم اختر نے بھی کئی مرتبہ بے ہودگی کی ساری حدیں کراس کیں اور ایک مرتبہ تو طاقت و اقتدار کے نشے میں میڈیا کے سامنے فرمانے لگے کہ پنجاب کے گھر گھر میں مجرا ہوتا ہے۔
اسی طرح تحریک انصاف کی موسمیاتی وزیر زرتاج گل ہیں تو ایک عورت لیکن اگر کوئی ان کے بلاول بھٹو بارے کیے گئے ٹویٹس دیکھے تو دانتوں میں انگلیاں داب لے کہ کیا یہ کسی عورت کی زبان ہے؟ موصوفہ کی طرح علی امین گنڈا پور گلگت بلتستان میں جس طرح کی بے ہودہ زبان برتتے رہے ہیں وہ سن کر انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے مگر یہاں المیہ یہ ہے کہ خود عمران خان طلال چودھری کی ”تنظیم سازی“ کے حوالے سے سرعام طنزیہ گفتگو کر کے چسکے لیتے نظر آتے ہیں اور کبھی مریم نواز کو ”نانی کہہ کر دلی کدورت کا اظہار کرتے ہوئے ملتے ہیں۔
ان کی طرح طلال چودھری کی زبان بھی کنٹرول سے باہر ہی رہتی ہے۔ خواجہ آصف بھی اسمبلی کے فلور پر شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہہ کر اپنے جذبات کی تسکین کرچکے ہیں۔ حمداللہ کا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے ہے لیکن انہون نے ایک شو میں ماروی سرمد کو شلوار اتارنے کی بے ہودہ ترین دھمکی دے دی۔ ایسی ہی وجوہات کی بنا پر حسن نثار نے شیخ رشید کو ”گند زبان“ قرار دے دیا تھا۔
