ججوں کی لیک ویڈیوز اور آڈیوز کے پیچھے چھپی کہانیاں

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اعلی عدلیہ کے ججوں کی لیک شدہ متنازعہ ویڈیوز اور آڈیوز ہمیشہ سے زبان زد عام رہی ہیں جن کے ذریعے کئی ہوشربا انکشاف ہوئے اور کئی ججوں کو اسی بنیاد پر گھر بھی جانا پڑا۔ تاہم اس سلسلے کی آخری ویڈیو اور آڈیو سپریم کورٹ کے سابق جج اور موجودہ چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ہیں جن پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوتا پایا۔
تاہم جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ایک خاتون کےساتھ اپنی نازیبا ویڈیو کا معاملہ اٹھانےکی وجہ سے غصہ ہو کر میر شکیل کو گرفتار کروایا اور یہ سراسر ایک انتقامی کارروائی ہے جس کا احتساب سے کوئی تعلق نہیں۔ یاد رہے کہ میر شکیل الرحمان کو تب گرفتار کیا گیا جب جیو سے وابستہ سینئر اینکر شاہ زیب خانزادہ نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی لیک شدہ ویڈیو کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات مکمل نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا۔ یاد رہے کہ مئی2019 میں جاوید اقبال کی جانب سے ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آئی تھی ل۔ نجی ٹی وی چینل نیوز ون نے یہ ویڈیو نشر کی جس میں چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اپنے دفتر میں ایک خاتون کے ساتھ نازیبا گفتگو کرتے پائے گئے اور گفتگو کے اختتام پر انہوں نے اٹھ کراس خاتون کو گلے لگایا اور پھر چوما بھی۔ اس کے بعد انکی ایک آڈیو بھی سامنے آئی جس میں چیئرمین اسی خاتون کے ساتھ سیکسی گفتگو فرما رہے تھے اور اسے بتا رہے تھے کہ انہوں نے تنہائی میں ملاقات کے لیے ایک گیسٹ ہاؤس کا بندوبست کیا ہے جہاں گرم پانی اور تولیہ کی سہولت بھی موجود ہے۔ چیئرمین نیب نے ویڈیو کو جعلی تو نہیں قرار دیا لیکن اسے بلیک میلنگ کی ایک کوشش ضرور قرار دیا۔ تاہم اس ویڈیو پر مزید کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی نہ ہی حکومت کی طرف سے فرانزک آڈٹ کی پیشکش ہوئی۔چیئرمین نیب کی اس ویڈیو کا میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر خوب چرچا رہا۔ استعفیٰ دے کر گھر جانے کے مطالبے کے بعد چیئرمین نیب نے اس حوالے سے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آسکی اور یہی معاملہ اٹھانے پر انہوں نے میر شکیل کو گرفتار کرلیا۔
اس سے پہلے بھی ماضی میں کئی حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز کی ویڈیوز اور آڈیوز منظر عام پر آ چکی ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اقامہ چھپانے کے الزام پر سات سال کے لیے جیل بھیجنے والے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تو انھوں نے صحافیوں کو بلایا اور ایک تردیدی پریس ریلیز تھما دی۔ بعدازاں وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت اس ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرائے گی۔ بعدازاں سپریم کورٹ کے حکم پر جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹا کر لاہور ہائیکورٹ بھجوا دیا گیا جہاں انھیں او ایس ڈی بناتے ہوئے ویڈیو کے حوالے سے تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تاہم اس کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنا باقی ہے۔
تاہم پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ججز کی ایسی ویڈیوز اور آڈیوز نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ایسی ویڈیوز، آڈیوز یا اعترافی بیانات سامنے چکے ہیں جن کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک جج کو کس طرح کی مشکلات یا دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ماضی میں نواز شریف کی وزارت عظمی کے دوران سابق جج ملک قیوم کی ٹیلیفونک گفتگو کی آڈیو بھی لیک ہو چکی ہے۔ ملک قیوم لاہور ہائی کورٹ کے جج تھے۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں نیب سے پہلے احتساب سے متعلق قائم کیے گئے احتساب کمیشن کے سربراہ سیف الرحمان تھے جو آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کے خلاف سوئس مقدمات پر تفتیش کر رہے تھے۔ احتساب قانون کے تحت بننے والی احتساب عدالتیں ہائی کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل ہوتی تھیں اور جسٹس قیوم اور جسٹس نجم الحسن پر مشتمل بینچ بینظیر بھٹو اور آصف زردای کے خلاف ایس جی ایس کوٹیکنا مقدمے کی سماعت کر رہا تھا۔سیف الرحمان اور جسٹس ملک قیوم کی ایس جی ایس کوٹینکا مقدمے میں بینظیر بھٹو اور آصف زراری کے مقدمات پر فون پر گفتگو ہوئی۔سیف الرحمان جو بعد میں مسلم لیگ نواز کے سینیٹر بھی رہے فون پر جج کو سزا دینے سے متعلق اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ہدایات پہنچا رہے تھے۔اس گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تو احتساب کے عمل پر کئی سوالات اٹھ گئے۔آڈیو آنے کے وقت بینظیر بھٹو اور آصف زردای کی اپیل سپریم کورٹ میں سنی جانی تھی۔ جب بینظیر بھٹو اور آصف زرداری نے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا تو عدالت نے آڈیو کی تفصیلات میں جانے کے بجائے اسے ریکارڈ پر تو رکھ لیا لیکن مقدمے کو ریمانڈ کرنے کا فیصلہ دوسرے قانونی نکات پر دیا۔ جب سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قیوم اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راشد عزیز کی جانب سے آڈیو کی وضاحت کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تو دونوں ججوں نے مستعفیٰ ہونے کو ترجیح دی۔ ملک قیوم نے اس بڑے سکینڈل سے بچنے کے بعد وکالت شروع کردی اور پرویز مشرف کے فوجی دور حکومت میں اٹارنی جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ سپریم کورٹ کے اس بینچ کا حصہ تھے جس نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو نے الزام عائد کیا کہ ججز نے فوجی آمر ضیاالحق کے دباؤ میں آکر بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ دیا۔ بھٹو کی پھانسی کے کئی برس گزر گئے تو جسٹس نسیم حسن شاہ نے جیو ٹی وی کے پروگرام ’جوابدہ‘ میں اعتراف کیا کہ بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ دباؤ میں دیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے ضمیر کی ملامت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو کچھ معاملات میں فوج کی بات ماننی پڑتی ہے۔ نسیم حسن شاہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے سسر بھی تھے۔
اس اعتراف کے بعد جب پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو آصف زرداری نے بحثیت صدر پاکستان سپریم کورٹ کو ایک ریفرنس بھیجا جس میں ججز سے یہ کہا گیا تھا کہ بھٹو مقدمے کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ابتدائی سماعتوں کے بعد اس صدارتی ریفرنس پر سماعت ملتوی کردی اور پھر اس کے بعد کبھی اس مقدمے کی باری ہی نہیں آئی۔
شوکت عزیز اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینئر جج کے عہدے پر فائز تھے۔ راولپنڈی بار کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے الزام عائد کیا کہ آئی ایس آئی کے جنرل فیض حمید موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی ان کے گھر آئے۔ اور مجھ سے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ دینے سے متعلق کہا اور ساتھ یہ آفر دی کہ اگر آپ ایسا کر دیتے ہیں تو پھر ہم آپ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیتے ہیں۔ شوکت صدیقی کے مطابق انھوں نے انکار کر دیا تو ان کے خلاف دباؤ بڑھا دیا گیا۔ شوکت صدیقی کی اس تقریر پر آئی ایس آئی نے سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست کی تو کچھ دن کے اندر اندر ہی شوکت صدیقی کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا اور ان کی طرف سے عائد کیے گئے الزامات پر چھان بین سے متعلق مزید کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button