جج ارشد ملک مرنے سے پہلے کس ڈیپریشن میں مبتلا تھے؟

اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں آکر نواز شریف کو سزا سنانے کا اعتراف کرنے والے احتساب کورٹ کے مرحوم جج ارشد ملک ملازمت سے برطرف ہونے کے بعد آخری دنوں نشان عبرت بن چکے تھے اور پریشانی میں اکثر یہ گلہ کرتے نظر آتے تھے کہ اب تو لوگ میرا فون بھی نہیں سنتے اور مجھ سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے۔ اس بات کا انکشاف کالم نگار ارشاد بھٹی نے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے۔
ارشاد بھٹی لکھتے ہیں کہ جج ارشد ملک سے ان کی ملاقات ان کے ایک دوست نے تین ماہ پہلے اگست میں اسلام آباد کلب میں کروائی اور تھری پیس سوٹ میں ملبوس شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے شاید پہچانا نہیں، یہ جج ارشد ملک ہیں، احتساب عدالت والے‘‘۔اِس وقت تک میں بھی پہچان چکا تھا، میں نے کہا ’’جی بالکل، میں پہچان گیا، تبھی میں سوچ رہا تھا، یہ چہرہ مجھے جانا پہچانا کیوں لگ رہا‘‘، یہ سن کر ارشد ملک نے مسکرانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے، میں نے اپنے دوست سے کہا کہ ملک صاحب پریشان لگ رہے، خیر تو ہے۔
میرا دوست بولا ’’تمہیں پتا جو ہو چکا، جو کچھ یہ بھگت چکے، گو کہ اُنہیں بہت سمجھا رہا کہ یہ وقت گزر جائے گا، ہمت نہیں ہارنی، میرے کہنے پر ہی اُنہوں نے اسلام آباد کلب آنا، سوئمنگ کرنا شروع کیا ہے مگر ابھی تک یہ مکمل ڈپریشن سے نہیں نکلے‘‘۔یہ سن کر میں نے ارشد ملک کو پہلی بار مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ملک صاحب جو ہونا تھا، ہو گیا، اب ہمت کریں، اللہ سے مدد مانگیں، روزانہ صدقہ دیں، مشکل لمحوں میں بندہ جب اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتا ہے، اُس کے سامنے گڑگڑاتا ہے، اللہ مشکلیں آسان فرما دیتا ہے‘‘۔
ارشاد بھٹی کے مطابق ارشد ملک کہنے لگا ’’بس اسی اللہ کا سہارا ہے، آپ نے میرے لئے ضرور دعا کرنی ہے‘‘، میں نے کہا، ضرور، میں بھی دعا کروں گا اور ہمارے ایک بزرگ حافظ صاحب ہیں، اُن سے بھی آپ کو پڑھنے کیلئے کچھ لے کردوں گا، اللہ فضل کرے گا، پھر میں نے حافظ صاحب کا مختصر سا تعارف کروایا، تسبیحات کی اہمیت بتائی تو ارشد ملک کے چہرے پر پہلی بار زندگی نظر آئی، کہنے لگے، پلیز آپ نے یاد سے پڑھنے کیلئے کچھ لے کر دینا ہے، یہ کہہ کر ارشد ملک نے اپنی جیب سے موبائل نکالا، مجھ سے میرا نمبر لیا، اپنے موبائل میں میرا نمبر سیو کیا اور جب ہم ایک دوسرے کو خدا حافظ کہہ رہے تھے تب بھی مجھ سے کہا ’’پلیز حافظ صاحب سے مجھے پڑھنے کیلئے ضرور لے کر دینا ہے‘‘، میں نے کہا ’’جی ان شاء اللہ‘‘۔اگلے دن میں نے حافظ صاحب کو ڈھونڈنا شروع کیا مگر اُن سے رابطہ کرنے کے مخصوص اوقات میں تمام تر کوشش کے باوجود اُن سے رابطہ نہ ہو پایا، منگل یکم ستمبر، ارشد ملک نے کال کی، میں پروگرام ریکارڈنگ میں تھا، کال اٹینڈ نہ کر سکا، چند لمحے بعد اُن کا میسج آیا، اسلام و علیکم، پلیز اٹینڈ کال، ایم ارشد ملک جج، میں پروگرام سے نکلا، ایک دوسرے پروگرام میں چلا گیا، اُنہیں کال بیک کرنا بھول گیا، اگلے دن دو ستمبر کو اُن کا دوسرا میسج آیا، سوری آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں، آپ کو یاد دلانا تھا کہ آپ نے مجھے حافظ صاحب سے پڑھنے کیلئے لے کر دینا ہے، اُس پیغام کے بعد میں نے ایک بار پھر سے حافظ صاحب کو ڈھونڈا، عجیب اتفاق اِس بار بھی حافظ صاحب نہ ملے، دو دن بعد میں بھی بھول گیا اور پھر ارشد ملک کا بھی کوئی فون نہ آیا۔
ارشاد بھٹی لکھتے ہیں کہ آج مجھے یہ سب کیوں یاد آ رہا، اس لئے کہ میں نے ٹی وی پر ارشد ملک کے انتقال کی خبر سنتے ہی بے یقینی کے عالم میں جج اور اپنے مشترکہ دوست کو فون کیا، وہ اتنا دکھی تھا کہ اُس سے بات ہی نہیں ہو پا رہی تھی، بتانے لگا، ارشد ملک ہر ہفتے کہتا، بھٹی صاحب سے کہیں مجھے پڑھنے کیلئے لے کچھ لے کر دیں، میں نے دوست سے پوچھا، ارشد کو ہوا کیا، دوست بولا، بظاہر کرونا ہوا جو جاتے جاتے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا گیا، کرونا ختم ہوا تو ہارٹ اٹیک ہو گیا لیکن اصل میں اُسے تنہائی اور ڈپریشن نے مار ڈالا ہے۔ میرے دوست نے بتایا کہ ارشد کی صورتحال یہ تھی کہ میرے گھر میں بجلی میٹر کا مسئلہ تھا، میں نے ارشد ملک سے کہا یار کسی کو کہہ کر میٹر تو چالو کروا دو، چنددن بعد اُسے پھر سے یاد کروایا، جب پھر بھی کام نہ ہوا تو میں نے کہا، یار اتنا چھوٹا سا کام کہا ہے، کیوں نہیں کروا رہے؟ یہ سن کر ارشد کی آنکھوں میں آنسو آگئے، گلو گیر لہجے میں بولا یار تمہیں کیا بتاؤں، اب لوگ میرا فون بھی نہیں سنتے، مجھ سے ملنا بھئ پسند نہیں کرتے، ہاتھ تک نہیں ملاتے اور مجھے دیکھ کر لوگ رستہ بدل جاتے ہیں۔
میرا دوست بتا رہا تھا کہ کس طرح ارشد ملک کے خاندان نے مشکل کاٹی، کس طرح دو بیٹوں اور دو بیٹیوں والا ارشد ملک پُرامید تھا کہ جب میں پٹیشن دائر کروں گا تو عدالت مجھے کم از کم وکالت کرنے کی اجازت تو دیدے گی۔ بس اسی ڈیپریشن میں اس کا انتقال ہوگیا۔
