جج کو سٹریس لینا نہیں بلکہ دینا چاہیے: جسٹس جواد حسن

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کہا ہے کہ جج کو سٹریس لینے کی بجائے، اپنے فیصلوں اور اندازِ کار سے دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھنی چاہیے۔
لاہور جوڈیشل اکیڈمی میں عدالتی فیصلوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں سب سے مشکل نوعیت کے مقدمات سنے لیکن کبھی دباؤ محسوس نہیں کیا، متعدد سیاسی کیس بھی سامنے آئے مگر ان پر بھی انہیں کوئی اسٹریس نہیں ہوا۔
جسٹس جواد حسن کا کہنا تھا کہ جج کا امتحان اس کی کورٹ ہینڈلنگ اور فیصلوں سے ہوتا ہے، اسی لیے تمام تربیتی کورسز نئے ججز کے لیے نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں آنے والے 60 فیصد مقدمات غلط ہوتے ہیں، ہمیں وہی کورسز اختیار کرنے چاہئیں جو عالمی سطح پر رائج ہیں۔ ان کے مطابق ہر ہائیکورٹ میں تقریباً 30 سے 40 فیصد کیسز فیملی معاملات سے متعلق ہوتے ہیں اور ہر جج پہلی ہی سماعت پر مقدمہ خارج کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
