جج کے قتل کا اسامہ کیس والے شکیل آفریدی سے کیا تعلق؟


صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج آفتاب آفریدی کے قتل میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی اور ان کے بیٹے دانش آفریدی سمیت پانچ افراد کو ملزم نامزد کیے جانے کے بعد اب ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ قتل کے اس واقعے کا تعلق اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کیس سے ہو سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ قتل ہونے والے جج کے کزن سمیع اللہ آفریدی اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں امریکی سی آئی اے کی معاونت کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل تھے جنہیں مارچ 2015 میں قتل کردیا گیا تھا اور آج دن تک قاتلوں کا کھوج نہیں لگایا جا سکا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک زمانے میں شکیل آفریدی کے کیس میں لطیف آفریدی بھی وکیل تھے۔
یاد رہے کہ ایک پاکستانی جیل میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی خیبر پختونخواہ میں بحثیت معالج کام کر رہا تھا۔ 2011 میں اس نے بطور CIA کارندہ، ایبٹ آباد کے علاقہ میں پولیو کے خلاف مہم چلائی جس کا اصل مقصد اسامہ بن لادن کے خاندان کا ڈی این اے حاصل کرنا تھا۔ 2011 میں ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد شکیل آفریدی کو امریکی سی آئی اے کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ امریکا نے اسکی رہائی کے لیے دباؤ بھی ڈالا لیکن اسکی شنوائی نہ ہو سکی۔ اکتوبر 2011 میں شکیل پر غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا۔ مئی 2012ء میں قبائل علاقہ جات کے منتظم نے شکیل آفریدی کو غداری کے جُرم میں 30 سال قید کی سزا سنا دی جسکے بعد اب وہ فیصل آباد کی ایک جیل میں قید کاٹ رہا ہے اور سزا کے خلاف اس کی اپیل پچھلے کئی برسوں سے زیرالتوا ہے۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج آفتاب آفریدی، ان کی اہلیہ، حاملہ بہو اور کم سن پوتے کو نامعلوم افراد نے اتوار کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ شام سات بجے موٹروے پر صوابی کی حدود میں پیش آیا تھا۔ پولیس نے آفتاب آفریدی کے بیٹے عبد الماجد آفریدی کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ فتاب آفریدی کے قتل کی مذمت کرتے ہیں اور یہ کہ اُن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لطیف آفریدی کا کہنا ہے کہ پولیس اس حوالے سے جس طرح کی انکوائری کرنا چاہے وہ اُس کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پولیس اگر کہے گی تو وہ تفتیش میں شامل ہونے کے لیے بھی تیار ہیں اور انھیں یقین ہے سچ ضرور سامنے آئے گا۔ صوابی کے ضلعی پولیس افسر محمد شعیب نے بتایا کہ ایف آئی آر میں دس افراد نامزد ہیں جن میں چھ معلوم اور چار نامعلوم افراد ہیں اور پولیس نے اب تک پانچ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ دو مشتبہ گاڑیاں بھی تحویل میں لی گئی ہیں جن کا ذکر ایف آئی ار میں کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور جب لواحقین تدفین سے فارغ ہوں گے تو ملزمان اور گاڑیوں کی شناخت کا عمل شروع کیا جائے گا۔
دوسری جانب مقتول جج آفتاب آفریدی کے بھائی سعید آفریدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ‘لاشوں کو تب تک نہیں لے کر جائیں گے جب تک تمام ملزمان کو گرفتار نہ کر لیا جائے۔‘ جج آفتاب آفریدی کے چھوٹے بیٹے طاہر آفریدی نے بتایا کہ 1974 سے پہلے آفتاب آفریدی اور لطیف آفریدی کا ایک ہی خاندان تھا جنکی مشترکہ طور پر ایک تیسرے فریق سے دشمنی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اس دشمنی کے دوران ان کے خاندان کے چند افراد کی ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد ان میں بھی اختلافات پیدا ہوگے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں معاونت کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مقدمے میں ان کے ماموں سمیع اللہ آفریدی وکالت کر رہے تھے۔ شکیل آفریدی کے کیس میں لطیف آفریدی بھی وکیل تھے لیکن پھر اچانک سمیع اللہ آفریدی کو دھمکی آمیز فون کالز موصول ہونے لگیں جس پر سمیع ایک خلیجی ملک چلے گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ واپسی پر ان کے ماموں سمیع اللہ آفریدی شکیل آفریدی کے کیس سے دستبرادار ہو گئے تھے لیکن مارچ 2015 میں انھیں قتل کر دیا گیا تھا۔
قتل ہونے والے جج آفتاب آفریدی کے چھوٹے بیٹے طاہر آفریدی نے بتایا کہ ’ابتدائی طور پر کچھ علم نہیں تھا کہ یہ قتل کس نے کیا کیونکہ بظاہر اشارے شدت پسندوں اور دیگر تنظیموں کی طرف کیے جا رہے تھے۔ اس کے بعد ہم نے سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ کو درخواست دی جس میں اس قتل کی انکوائری کے لیے کہا گیا تھا۔ انکوائری میں پولیس سے جو معلومات ملیں ان کے مطابق یہ قتل کسی شدت پسند گروہ کا نہیں تھا بلکہ اس میں پرائیویٹ لوگ ملوث تھے۔ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد لطیف آفریدی کے ایک رشتہ دار وزیر آفریدی کو دسمبر 2019 میں پشاور میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا جسکا کا باقاعدہ الزام سمیع اللہ آفریدی کے بیٹے عدنان آفریدی پر عائد کیا گیا تھا۔
دوسری جانب مقدمہ قتل میں نامزد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے 80 سالہ صدر لطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ ’میں گاؤں میں اپنے بچوں کے ساتھ شجرکاری کے لیے گیا ہوا تھا۔ جب واپس آئے تو3 معلوم ہوا کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا کوئی حساس نوعیت کا مقدمہ نہیں جس کی آفتاب آفریدی سماعت کر رہے ہوں یا بظاہر ایسا کوئی فیصلہ نہیں جو انھوں نے حال ہی میں سُنایا ہو۔ لیکن جس انداز میں ان کو اور ان کے اہلخانہ کو قتل کیا گیا، اس میں اب دیکھا جائے گا کہ اس کی تفتیش سے کیا سامنے آتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر ذاتی دشمنی کی بات کی جائے تو پٹھانوں میں یہ روایت نہیں کہ گھر کے بچوں اور خواتین کو اس طرح قتل کیا جائے۔ ایسا حملہ کہ سارے اہلِ خانہ کو ہی ختم کر دو۔۔۔ دیکھا جائے گا کہ تفتیش کس طرف جائے گی۔ ہمارے ہاں اس قسم کے کیسز کی تفتیش ہی مکمل نہیں ہوتی اور سب درمیان میں ہی ادھر ادھر ہو جاتا ہے۔‘ اس سے قبل بی بی سی سے گفتگو میں ان کے بیٹے نے اپنے والد کے قتل کے حوالے کہا تھا کہ ابھی فی الحال وہ اس معاملے پر کوئی بات نہیں کر سکتے تاہم بعد میں ایف آئی آر میں ان کی جانب سے لطیف اللہ آفریدی اور ان کے بیٹے سمیت چند اور افراد کا نام لیا گیا اور کہا گیا کہ یہ خاندانی دشمنی کی بنیاد پر کیا گیا قتل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button