جرنیل، جج اور جرنلسٹ احتساب سے بالاتر کیوں ہیں؟


پاکستان میں احتساب کے دوہرے معیار رائج ہیں۔سیاستدانوں اور اُنکے خاندان سے رسیدیں طلب کرنے کاسلسلہ تو 73 سال سے چل رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ سیاستدانوں کا دن رات حساب کرنے والے ریاست کے بقیہ تین ستونوں یعنی عدلیہ، فوج اور اہل صحافت سے ہمارا نظام اور میڈیا، ذرائع آمدن اور رسیدیں طلب کیوں نہیں کر پاتا؟ کیا ریاست بالا ریاست کی شہہ پر یہ تینوں ستون یونہی من مانیاں کرتے رہیں گے؟
‏زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ڈیم فنڈ والے سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار دوسروں کو صداقت اور امانت کے سرٹیفیکیٹ جاری کرتے رہے، چیف جسٹس ہوتے ہوئے سیاسی ورکر کی طرح ایک سیاسی جماعت کی مہم چلائی، متنازعہ فیصلے دے کر یا دوسرے بینچز پر دباؤ ڈال کر عدلیہ کی ساکھ کو نیست و نابود کیا۔ ‏اب وہ اخباری بیانات کے ذریعے اپنے ضمیر کی خلش کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک تنخواہی ملازمت کے باوجود وہ خود اور اُن کا خاندان شاہانہ لائف سٹائل رکھتا ہے۔ لیکن کسی نے کبھی اُنکے اثاثوں یا ذرائع آمدن کی تفصیل نہیں دیکھی ہو گی۔ سوال تو بنتا ہے کہ ان کے بیٹے بیٹے نجم ثاقب کی باہر تعلیم کے اخراجات کیسے پورے کئے۔‏نجم نے جائیداد بنائی تو کیسے بنائی، جج بننے سے پہلے وکیل کے طور پر میاں ثاقب نثار کتنا اِنکم ٹیکس ادا کرتے تھے۔ اِنکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس ریٹرنز بھی جمع کرواتے تھے یا نہیں، اُنکے بیٹے، داماد یا کوئی اور رشتہ دار وکیل تھے تو انکو ثاقب نثار کے دور میں کتنے کیسز ملتے تھے؟ فیس کتنی لیتے تھے؟ کیا وہ ‏اِنکم ٹیکس بھی دیتے تھے؟ کتنے کیسز میں انکو ریلیف ملا؟ ثاقب نثار اور اُنکے خاندان کے اثاثے جج بننے سے پہلے کتنے تھے اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد کتنے ہیں؟ ڈیم فنڈ کے پیسے کدھر گئے؟ انہوں نے عدلیہ کو تباہ کیوں کیا؟ ان سوالوں میں سے اہم ترین سولا یہ ہے کہ کیا ثاقب نثار اور فائز عیسی کو ایک ہی پیمانے سے ناپا جا رہا ہے؟ جواب یقیناً نفی میں ہے لیکن پھر سوال پید اہوتا ہے کہ دونوں ججز کے الگ الگ معیار کیوں اپنایا جارہا ہے؟کسی کو کُچھ نہیں پتہ اور نا ہی نیب یا میڈیا پوچھ سکتا ہے۔ ویسے اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ وہ ریاست کے اوپر والی یاست کا حصہ تھے لہذا ان سے سوال کی جرات کسے ہوسکتی ہے؟
‏اب ذرا جرنیلوں کی بات کر لی جائے۔جنرل عاصم باجوہ بھی تنخواہ دار ملازم تھے۔احمد نورانی کی خبر سے پتہ چلا کہ اُسی ایک تنخواہ میں سے سارے خرچے نکال کر جنرل عاصم باجوہ نے اپنے تین بچوں کو امریکہ میں پڑھوایا، کفایت شعار اتنے کہ نا صرف اُنکی فیس، رہائش، خوراک وغیرہ کا خرچہ تنخواہ سے پورا کیا بلکہ اپنی زوجہ کو امریکہ میں ہی اربوں روپے کا پیزا بزنس بھی سیٹ کروادیا۔ پھر اسی تنخواہی بچت سکیم سے 99 بزنس کمپنیاں بنا ڈالیں اور لگے ہاتھوں دو تین گھر بھی امریکہ ہی میں خرید لئے۔ جب جرنیلی ایمانداری کی جھوٹی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹی تو ‏تو اپنے ہاتھوں سے بنائے گئے وزیر اعظم سے ایک مطمئن بیان دلوا کر اپنے ضمیر، غیرت اور میڈیا کو شٹ اپ کال دے دی۔کیونکہ جنرل عاصم سلیم باجوہ بھی ‎ریاستکےاوپر ریاست کا حصہ ہیں۔ لہذا ان کے حوالے سے کتنا ہی بڑا سکینڈل کیوں نہ سامنے آجائے صرف ایک پریس ریلیز سے معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔
میڈیا سے وابستہ اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ افراد کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ انہیں بھی کوئی پوچھنے والا نہیں۔‏ تیتربازاینکر پرسن عمران ریاض خان بھی ایک تنخواہی ملازمت کرتے ہیں اور چند روز پہلے اُنکے نئے گھر اور ‎سوشل میڈیا پر ہاہاکار مچی تو سیاستدانوں سے دن رات منی ٹریل مانگنے والے صرف ایک ویڈیو کلپ جاری کر کے کڑے احتساب کی اسٹیبلشمنٹ کی چھلنی سے ایسے گُزرے کہ ‏نا دامن پہ کوئی چھینٹ، نا خنجر پہ کوئی داغ۔ نا ذرائع آمدن کا پتہ چلا، نا اِنکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس ریٹرنز ٹی وی پر لہرائی گئیں، نا ہی نیب نے پھرتیاں دکھائیں۔ سوال یہ ہے کہ اینکر سے چوتھا ستون ہونے کی ذمہ داری پوری کروانے کی کوئی کوشش کی، نا ہی جنگلی حیات کے قتل پر کوئی کارروائی۔ یہ بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ جب سیاستدانوں سے سخت سوال کرنے والے تیتر باز عمران ریاست سے اس معاملے پر سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک سفید جھوٹ بولتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ دراصل محکمہ جنگلات والوں نے ان کو بدنام کرنے کے لئے ادھر ادھر سے فریزر میں رکھے گئے تیتر اکٹھے کرکے ان کی گاڑی پر سجائے اور تصاویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر وائرل کردیں۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آخر یہ دوہرا معیار کیوں ہے۔ کیوں ان تیننوں ستونوں سے تعلق رکھنے والے نہ زور افراد پر کوئی اعتراض نہیں اٹھاتا۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا ان کا سب سے تگڑا ہتھیار ہے جس کو استعمال کرکے یہ اپنی دھاک بٹھاتے ہیں اور کوئی ان سے سوال کی جرات نہیں کرتا۔ کالم نگار عمار مسعود کے بقول پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا کچھ بھی شعبدہ دکھا سکتا ہے۔ یہ چاہے تو دن کو رات اور رات کو دن بتا سکتا ہے۔ زہر کو تریاق اور تریاق کو زہر بنا سکتا ہے۔ دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا سکتا ہے۔ آج کل ایک ایسا تماشا ہے جو ہر روز ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ کچھ تجزیہ کار اور زہریلے سرکاری ترجمان سارا دن مل کر سکرینوں پر ایسی دھماچوکڑی مچاتے ہیں کہ سچ خاک میں مل جاتا ہے اور روز جھوٹ کا اقبال بلند ہوتا ہے۔ پرنٹ میڈیا ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے ہتھیار پھینک چکا ہے۔ سوشل میڈیا ہر شخص کی دسترس میں اب تک نہیں۔ معلومات کی سہل رسائی کا واحد ذریعہ اب بھی الیکٹرانک میڈیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر بولے جانے والے لفظ کو ہی لوگ سچ سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پرایک خاص طرح سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی گئی کہ نواز شریف کے لندن میں چار فلیٹ ہونے کی وجہ سے پاکستان 70 سال سے ترقی نہیں کر سکا۔ یہ بات اس تسلسل سے کی گئی کہ بہت سے پاکستانی اس بات کو سچ سمجھتے ہیں۔ ان کو کبھی یہ نہیں پتہ چلے گا کہ لندن میں نواز شریف کے علاوہ کس کس کی اس سے بھی زیادہ عالیشان رہائش گاہیں ہیں۔ امریکہ میں کس کس کے اربوں کھربوں کے کاروبار ہیں۔ فلیٹ تو چھوٹی سی چیز ہے لوگوں نے تو دیار غیر میں جزیرے تک خرید لیے۔
ٹی وی کی سکرینوں پر اب بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کی ٹیم اچھی نہیں مگر خان خود کرپٹ نہیں ہے۔ کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ جس دور میں چینی کی قیمت میں پاکستانیوں کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگا۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے چند  لوگ کیسے راتوں رات کھرب پتی ہوئے؟ آٹے کے بحران سے کس کس کو فائدہ پہنچایا گیا؟ ادویات سیکنڈل میں سے کس کو کیا ملا؟ بی آر ٹی میں کس کس کی مل سے سریا خریدنے کی اجازت دی گئی؟ پٹرول کا مصنوعی بحران پیدا کس کی خاطر پیدا کیا گیا؟ بلین ٹری سونامی میں قوم کا کتنا پیسہ کہاں گیا؟ کھالیں جمع کر کے کس نے پیسہ کمایا؟ گھوم پھر کر یہی بات ہو گی کہ چلیں کارکردگی ناقص ہے، معشیت کا برا حال ہے۔ لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔ کاروبار کرنے والے خود کشیاں کر رہے ہیں۔ نوکریاں کرنے والے ڈگریوں کو آگ لگا رہے ہیں۔ لیکن خان بندہ ایمان دار ہے۔ایمان داری کا سبق ہمیں روز ازبر کروایا جا رہا ہے۔ ایسے میں جج، جرنیل اور جرنلسٹ سے کوئی کیسے پوچھے کہ تم نے مال و متاف کیسے اکٹھا کیا کیونکہ جب تک ایک بھی سیاستدان موجود ہے، احتساب کا شکنجہ صرف اسی کی گردن پر کسا جائے گا کیونکہ اسے خصوصی طور پر سیاسدانوں کے لئے ہی تیار کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button