جسٹس شوکت صدیقی کے سپریم کورٹ میں ہوشربا انکشافات

اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنے بحالی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ انہیں آئی ایس آئی کے ایک سینئر انٹیلی جنس افسر نے نوازشریف نااہلی کیس میں آرمی چیف کا حوالہ دے کر ریاست کی مرضی کا فیصلہ سنانے کے لیے کہا لیکن جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو انٹیلی جینس افسر نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ان کی دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی۔ آٹھ جون کو سپریم کورٹ میں دئیے جانے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ خفیہ والے کس طرح عدلیہ کو بھی اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایسی ہی کچھ بات جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے اپنے خطاب کے دوران بھی کی تھی جس کی پاداش میں انہیں تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بذریعہ سپریم جوڈیشل کونسل نہایت پھرتی کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ سے فارغ کر دیا تھا۔ لیکن اب بطور جج فارغ ہونے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنی بحالی کی درخواست کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی بینچ کو جمع کروائے گئے تفصیلی جواب میں خفیہ والوں کو پوری طرح ننگا کر دیا ہے۔ انہوں نے موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کا ایک فقرہ کوٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جب جنرل فیض حمید نے ایک ملاقات کے دوران مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ نواز شریف کی احتساب عدالت سے سزا کو برقرار رکھیں گے تو میری جانب سے ہر صورت آ ئین اور قانون پر عمل کرنے سے متعلق جواب سن کر جنرل نے یکدم کہا کہ اس طرح تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔
شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ کو اپنے تحریری جواب میں بتایا ہے کہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے بطور ڈی جی سی آئی ایس آئی دو مرتبہ مجھ سے میرے گھر پر ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے یقین دہانی چاہی کہ نواز شریف کی 25 جولائی 2018 کے الیکشن سے پہلے ضمانت نہ ہو سکے۔ جسٹس صدیقی کے مطابق پہلی ملاقات 26 جون 2018 کو ہوئی جب کہ دوسری ملاقات 19 جولائی 2018 کو ہوئی۔ جنرل فیض حمید انہیں اسلام آباد انتظامیہ کی نمبر پلیٹ والی گاڑی میں ملنے آتے رہے۔ شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ نے اپنے موکل کا بیان سناتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ میجر جنرل فیض حمید نے 29 جون 2018 کی ملاقات میں پہلے جسٹس صدیقی سے اپنے ماتحت بریگیڈیئر عرفان رامے کے رویے کی معافی مانگی۔ اور کہا کہ کوئی راستہ بتائیں، یہ آئی ایس آئی کے وقار کا معاملہ ہے۔ اس پر شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آپ کو عدالت کے حکم پر عمل کرنا ہوگا، بطور جج میں قانون سے باہر نہیں جا سکتا۔ ہائی کورٹ کا حکم سپریم کورٹ ہی تبدیل کر سکتی ہے یا ختم کر سکتی ہے۔
جسٹس صدیقی کے تحریری جواب کے مطابق جواب میں انہیں یقین دہانی کروائی گئی کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ قانون کے مطابق عمل کرے گی۔جسٹس شوکت کے مطابق یہ باتیں کرنے سے پہلے فیض حمید نے کمرے میں موجود لوگوں کو باہر جانے کا کہا۔ جب لوگ کمرے سے نکل گئے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر احتساب عدالت وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر کو سزا دے تو ہائی کورٹ میں اپیل کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے۔ شوکت صدیقی اپنے بیان میں کہتے ہیں کہ یہ بات میرے لیے حیرت کا باعث تھی کہ جنرل فیض ملزمان کی سزائوں کے بارے میں اتنے یقین سے کیسے کہہ رہے ہیں، لیکن میں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کوئی تاثر نہ دیا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ عدالتی طریقہ کار سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس سے بھی کہ ٹرائل کا کیا نتیجہ نکلے گا، تو پھر آپ مجھ سے یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں۔ جواب میں فیض نے مجھ سے سیدھا سوال کیا کہ اگر فیصلے کے خلاف اپیلیں آپ کے سامنے لگیں تو آپ کا کیا رویہ یا موقف ہوگا؟ میں نے کہا کہ میں جج کے حلف کے عین مطابق مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر کروں گا کیونکہ مجھے اللہ کو جواب دینا ہے۔ اس پر جنرل فیض نے رد عمل میں جو تبصرہ کیا وہ میرے لیے انتہائی مایوس کن اور ایک بڑے دھچکے کا باعث تھا۔ فیض نے کہا اس طرح تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔
جسٹس شوکت صدیقی سپریم کورٹ کو جمع کرواے جانے والے اپنے تحریری بیان میں کہتے ہیں کہ میں نے جنرل فیض حمید سے کہا کہ آئی ایس آئی کا تو یہ کام نہیں ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں ملوث ہو۔ لیکن ان کا خیال اس کے برعکس تھا۔ بعد ازاں فیض حمید نے یہ کہتے ہوئے مجھ سے اجازت چاہی کہ وہ میرے خلاف زیر التوا ریفرنسز کا خیال رکھیں گے اور اشارہ کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف بھی ریفرنس موجود ہے، شاید وہ اس وجہ سے یا خراب صحت کے باعث استعفا دے دیں، اگر ایسا ہو گیا تو آپ نومبر کے بجائے ستمبر میں بھی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بن سکتے ہیں۔ شوکت صدیقی کہتے ہیں کہ مجھے انکی بات سن کر سخت دھچکا لگا خصوصا یہ سوچ کر کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل پر بھی اتنا اثر ڈال سکتے ہیں۔
شوکت صدیقی اپنے بیان میں مزید کہتے ہیں کہ 19 جولائی 2018 کی دوسری میٹنگ میں جنرل فیض حمید نے مجھے بتایا کہ 18 جولائی 2018 کے آرڈر کے بعد انہیں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے طلب کر لیا ہے اور میری نوکری دائو پر لگی ہوئی ہے کیونکہ جنرل باجوہ سخت ناراض ہیں کہ میں ہائی کورٹ کے ایک جج کو ہینڈل نہں کر سکا۔ فیض حمید کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف نے انہیں ہدایت کی ہے کہ آپ سے ملوں اور معلوم کروں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ جسٹس شوکت کے مطابق اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں سوائے اس کے کچھ نہیں چاہتا کہ ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے مطابق اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں۔ جواب میں فیض نے کہا سر بہتر ہو گا کہ تلخی چھوڑیں اور در گزر سے کام لیں، ماسوائے چند افراد کے مسلح افواج کے رینکس میں آپ کی شہرت راست گو اور سچے پاکستانی کی ہے۔ لہذا ہمارے مابین اچھے تعلقات کار پاکستان کے مفاد میں ہوں گے۔
شوکت صدیقی کے مطابق اس پر میں نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو جیسے ہی پانامہ مقدمات کے فیصلے ہائی کورٹ میں آنا شروع ہوئے تو آپ نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے مجھے ڈویژن بینچ کی سربراہی سے کیوں ہٹوا دیا تھا۔ شوکت صدیقی کہتے ہیں فیض حمید نے اس موقع پر بڑے کھلے انداز میں کہا کہ جو ٹیم پانامہ کیسز سے ڈیل کر رہی ہے ان کا خیال ہے کہ جسٹس صدیقی پرو ڈیفینس ہیں یعنی ملزمان کے حامی ہیں، جب میں نے پوچھا کہ انہوں نے نواز شریف کیس کے فیصلے کے حوالے سے کیسے بینچ بنوا لیے تو فیض نے بتایا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس انور خان کاسی کو ان کے مشترکہ دوست کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور کہا گیا کہ کوئی ایسا بینچ بنایا جائے جس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی شامل نہ ہوں۔
شوکت صدیقی اپنے بیان میں مزید کہتے ہیں کہ فیض حمید نے انہیں کہا کہ وہ یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات سے پہلے نواز شریف کی ضمانت نہ ہو۔ اور اس عدالتی کارروائی کو قابل اعتماد بنانے کے لیے میری سربراہی میں قائم بینچ کے روبرو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ اس بات پر میں نے انہیں جواب دیا کہ اگر میں ریکارڈ پر موجود مواد سے مطمئن ہوا کہ سزا میں اضافہ ہونا چاہیے تو میں سزا میں اضافہ کا نوٹس جاری کرنے میں ذرا سا بھی تامل نہیں کروں گا۔ لیکن اگر فیصلہ قانون کی نظر میں درست نہ ہوا تو میں کسی کی دنیا کے لیے اپنی آخرت خراب نہیں کروں گا۔ شوکت صدیقی کا کہنا ہے کہ جنرل فیض میرے اس جواب سے ناخوش ہوئے اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میرے گھر سے چلے گئے۔
شوکت صدیقی کہتے ہیں کہ صرف یہی نہیں، اور بھی کئی مواقع ہیں جب ان پر اثر انداز ہونی کی کوشش کی گئی۔ فیض آباد دھرنا کیس میں مظاہرین کے ساتھ معاہدے میں فیض حمید کے دستخط ہیں۔ شوکت صدیقی کہتے ہیں آئی ایس آئی کے ایک اور بریگیڈئیر فیصل مروت نے بول ٹی وی کے کیس میں یہ کہتے ہوئے عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی کہ یہ آئی ایس آئی کا پراجیکٹ ہے۔ شوکت صدیقی کہتے ہیں کہ بریگیڈئیر فیصل مروت اور بریگیڈئیر عرفان رامے نے عامر لیاقت کے حق میں فیصلہ کے لیے اثر انداز ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات سے بھرپور جواب کا سوشل میڈیا پر خوب چرچا رہا۔ سنیئر صحافی ابصار عالم نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ بھئی واہ، ناگن ڈانس کرنے والے عامر لیاقت کےحق میں فیصلہ لینے کے لئے جنرل فیض اور بریگیڈئیر طاہر وفائی نے بھی جسٹس شوکت عزیز پر دباؤ ڈالا، سپریم کورٹ میں جسٹس شوکت کے جمع کروائے گئے بیان کا پیرا 27/28 پڑھیے اور یاد کیجیے وہ دھمکی والی کال جو بول ٹی وی کے لئے پیمرا کو کی گئی تھی۔میاں عالمگیر شاہ نے ٹویٹ کیا جج ارشد ملک کے انکشافات کی ویڈیو کو جھوٹا قرار دینے والے اب جسٹس شوکت صدیقی کے بیان کا کیا جواب دینگے۔ اپنے حلف کی پاسداری کی سزا بھگتنے والے جسٹس صدیقیی 30 جون کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان کا جتنا وقت ضائع ہوا ، انکی مدت ملازمت میں اسی طرح توسیع کی جائے جس طرح آرمی چیف کی ہوئی۔ن لیگ کے سابق وزیر عابد شیر علی ٹویٹ کیا کہ جسٹس شوکت صدیقی نے مشہور زمانہ نامعلوم کا بہت سا کچاچٹھہ عدالت میں پیش کردیاہے۔ دستاویزات میں محنت ضائع ہونے کا بھی ذکر ہے۔ بڑی محنت سے لگائے گئے پودے اب گرمی میں جھلسنے لگے ہیں۔ راشد ہاشمی نامی صارف نے لکھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے لگائے گئے الزامات نےجہاں نوازشریف کی سزاؤں کا بھانڈہ پھوڑا ہے، وہیں میاں صاحب کو مجھے کیوں نکالا کا جواب بھی مل گیا ہو گا، پھر ساری قوم یہ بھی جان گئی کہ کس نے کس کو ساتھ ملا کر نوازشریف کو نکالا۔
