جسٹس عائشہ ملک 100 بااثر خواتین میں کیسے شامل ہوئیں؟

جنسی زیادتی کا شکار بننے والی پاکستانی خواتین کے لیے مختص ’’ٹو فنگر ٹیسٹ‘‘ کو کالعدم قرار دینے والی سپریم کورٹ کی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کا نام دنیا کی 100 بااثر خواتین میں شامل کر لیا گیا ہے۔رواں سال سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والی جسٹس عائشہ اے ملک پاکستان کی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج ہیں جنھوں نے اپنے کریئر میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعدد تاریخی فیصلے دیے ہیں۔ ان میں ان کا بطور لاہور ہائیکورٹ جج وہ تاریخی فیصلہ بھی شامل ہے جس میں انھوں نے ریپ سے متاثرہ خواتین کے نام نہاد ‘ٹو فنگر ٹیسٹ’ پر پابندی عائد کی تھی۔ کسی بھی متاثرہ خاتون کا کنوارپن جانچنے کا یہ ٹیسٹ عام طور پر جنسی تشدد کے کیسز میں دوران تفتیش کیے جاتے تھے۔ تاہم حکومت پاکستان نے جسٹس عائشہ ملک کے فیصلے کی روشنی میں اس ٹیسٹ کو 2021 میں ختم کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق اس نام نہاد ’کنوار پن‘ ٹیسٹ کی کوئی طبی یا سائنسی بنیاد نہیں بلکہ یہ خاتون کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون وکیل کے مطابق ’مرد وکلا ایک خاتون جج کی عدالت میں پیش ہونے پر جز بز ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جتنے مرد وکلا کو میں جانتی ہوں ان کی اکثریت جج صاحبہ کو پسند نہیں کرتی۔لاہور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پرموجود تعارف کے مطابق 54 برس کی جسٹس عائشہ ملک نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی گرائمر سکول سے اور ایل ایل ایم کی ڈگری امریکہ کے ہارورڈ لا سکول سے حاصل کی جس کے بعد انھوں نے واپس کراچی آ کر اپنی عدالتی پریکٹس کا آغاز کیا۔کراچی میں قائم فخرالدین جی ابراھیم اینڈ کو کے سینیئر پارٹنر زاہد ایف ابراہیم کی جسٹس عائشہ اے ملک سے پہلی ملاقات 1997 میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ انٹرویو دینے آئیں تھیں۔ اگلے چار سال جسٹس عائشہ ملک نے زاہد ایف ابراھیم کے والد اور سینئرایڈووکیٹ سپریم کورٹ فخرالدین جی ابراھیم، جو بعد میں گورنر سندھ بھی تعینات ہوئے، کے زیر سایہ کام کیا۔
جسٹس عائشہ کی میراث محض صنفی مساوات کے لیے سعی تک محدود نہیں بلکہ وہ بطور ایسی جج بھی اپنی پہچان بنا چکی ہیں جو طاقتور حلقوں کے خلاف ایسے دبنگ فیصلے صادر کرنے سے نہیں ڈرتیں جنکی بدولت ان حلقوں میں سراسیمگی پھیل جاتی ہے۔
سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کے بعد جسٹس عائشہ اے ملک کے عہدے کی معیاد میں تین برس کی توسیع ہو گئی ہے۔ پہلے انھوں نے دو جون 2028 کو ریٹائرڈ ہونا تھا لیکن اب وہ 2031 میں ریٹائر ہوں گی۔اس توسیع کی بدولت سپریم کورٹ کی نئی جج جسٹس عائشہ ملک اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک سال پہلے چیف جسٹس آف پاکستان بھی بن سکتی ہیں جو کہ ایک منفرد اعزاز ہوگا۔
