جسٹس عظمت کی رپورٹ نے انکی عظمت کا پول کیسے کھولا؟


اپنے زمانے کے متنازعہ جج جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی سفارش تو کی ہے لیکن سارا ملبہ جونیئر افسران پر ڈالتے ہوئے نیب کے ان تینوں سابقہ فوجی سربراہوں کو بری الزمہ قرار دیا ہے جن کی وجہ سے قومی خزانے کو جرمانہ ادائیگی کی صورت میں اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ دوسری جانب تحریک انصاف حکومت نے براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ کی روشنی میں فوری طور پر ان پانچ افراد کے خلاف فوری طور پر فوجداری مقدمات قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے جو کہ ماضی میں نیب کے تین سابق فوجی سربراہوں کے حکم پر عمل کرتے رہے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ مارگلہ کے براڈ شیٹ کمیشن کی رپورٹ لکھتے وقت کوئی گیدڑ بھبھکی انہیں انخے کام سے نہیں روک سکی۔ لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ اپنی رپورٹ میں ایسی گیدڑ بھبھکیاں دینے والے کا نام نہ لے کر انہوں نے خود کو بھی گیدڑ ثابت کیا ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں قائم براڈ شیٹ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں اصل فیصلہ سازوں کی بجائے جن کمزور افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ان میں ماہر قانون احمر بلال صوفی، اس وقت ایف بی آر کے عہدیدار حسن ثاقب شیخ، اس وقت کے وزارت قانون کے جوائنٹ سیکریٹری غلام رسول، برطانیہ میں سابق ڈپٹی کمشنر عبدالباسط، اس وقت سفارت خانے میں بطور ڈائریکٹر آڈٹ اینڈ اکاؤئنٹس تعینات رہنے والے شاہد علی بیگ اور یہ معاہدہ کروانے والے طارق فواد ملک شامل ہیں۔ خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی سفارش کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ حکومت براڈ شیٹ سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے گی۔ براڈ شیٹ انکوائری کمیشن رپورٹ میں بیوروکریسی پر متعلقہ ریکارڈ چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرنے اور اسے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں غائب کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری نے گذشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عظمت سعید کمیشن نے قرار دیا یے کہ سابق صدر آصف زرداری کے خلاف سوئس اکاؤنٹس کیس دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ہمارے قانونی ماہرین جائزہ لے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں بننے والے تین رکنی کمیشن نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقات کیں اور کمیشن نے رپورٹ تیار کر کے وزیراعظم عمران خان کو ارسال کی تھی جسے وفاقی کابینہ کے فیصلے بعد پبلک کر دیا گیا ہے۔ رواں برس جنوری میں وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ کے معاملے پر ریٹائرڈ جج عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دے دی تھی جسے اپنی تحقیقات 45 روز میں مکمل کرنا تھی۔
تاہم ناقدین کا کہنا یے کہ براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ انتہائی کھوکھلی، ناقص، سطحی اور تضادات سے بھر پور ہے جس میں ساری ذمہ داری اصل فیصلہ سازوں کی بجائے چھوٹے افسران پر ڈال دی گئی ہے۔
ناقدین سوال کر رہے ہیں کہ کیا نیب کے قیام کے بعد، یکے بعد دیگرے، تین سابق "جرنیل چیرمین نیب” جنہوں نے صریحاً ملکی مفادات کے برعکس معاہدے کئے اور بعد میں یکطرفہ طور پر انہیں منسوخ بھی کر دیا، وہ سب کے سب ملکی مفادات کا تحفظ کر رہے تھے، کیا ان سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی۔ عظمت سعید کمیشن نے انکے بیانات کو ایسے درست تسلیم کیا جیسے کوئی آسمانی صحیفہ ہو۔ ناقدین کہتے ہیں کہ عظمت سعید اپنی رپورٹ میں ایک جگہ تو اظہار افسوس کرتے نظر آتے ہیں کہ ایسے ریٹائرڈ جرنیلی ہیروں کی بطور چئیرمین نیب تعیناتی کا سلسلہ آخر تھم کیوں گیا؟
ناقدین کہتے ہیں کہ جسٹس عظمت سعید نے اپنی رپورٹ میں نیب کے تینوں سابق چیئرمین کو بچانے کے لیے سارا ملبہ سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب فاروق آدم خان پر ڈال دیا ہے۔ یعنی براڈ شیٹ جیسے احمقانہ معاہدات کرنے میں جو غلطی بھی ہوئی وہ پہلے پراسیکیوٹر جنرل آدم خان سے ہوئی، جو اب فوت ہو چکے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ عظمت سعید کے لیے سب سے آسان یہی تھا کہ معاہدات کرنے کی ساری ذمہ داری ایک مردہ شخص پر ڈال کر فائل ٹھپ کر دو۔ یعنی جو معاہدے ساری برائی کی جڑ تھے، ان کا ذمہ دار صرف ایک مردہ شخص تھا، باقی سب محب وطن تھے۔
ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ رپورٹ کے مطابق براڈ شیٹ سے "سیٹلمنیٹ ایگریمنٹ اور پے منٹ” سے متعلقہ تمام ریکارڈ ملک کے پانچ بڑی وزارتوں اور محکموں بشمول وزارت خارجہ، خزانہ، قانون، اور اٹارنی جنرل آفس سے غائب ہے۔ تاہم ملک کے تمام انٹیلیز جینس ادارے، نیب اور فارن آفس وغیرہ سب یہ جاننے میں ناکام رہے کہ براڈ شیٹ کمپنی "وائنڈ اپ” ہو رہی ہے، لیکن عظمت شیخ کی جانب سے ان اہم ترین معلومات کو خفیہ رکھنے کا تمام تر الزام ایک پرائیویٹ وکیل احمر بلال صوفی پر دھر کر باقی سب اداروں کے نیند میں مدہوش سربراہان کو خراج تحسین پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی۔
ناقدین کہتے ہیں جسٹس عظمت سعید شیخ کی تیار کردہ براڈشیٹ کمیشن رپورٹ پڑھ کر کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ وہی فاضل جج ہیں جو پانامہ کیس کی سماعت کے دوران اپنی کرسی پر صرف اس لئے سکون سے نہیں بیٹھ پاتے کہ ملک "بڑے لوگوں” کرپشن کی وجہ سے دیوالیہ ہو گیا ہے۔ اس کیس میں سارے "بڑے افسوس کہ جب معزز جج صاحب کو ان عہدیداران بشمول اس وقت کے چیف ایگزیکٹو جنرل مشرف کو بے نقاب کرنے کا حسین موقع ملا تو انہون نے ملبہ سارا مردہ یا پرائیویٹ افراد پر ڈال دیا۔ لیکن جب بات سیاستدانوں تک پہنچی تو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس کی ساری کہانی بیان کی۔ مطلب جب بات سیاستدانوں کی ہو تو ذمہ دار اعلی ترین عہدیدار وزیر اعظم ہو گا اور جب نوبت آمروں اور ڈکٹیٹروں تک پہنچنا ناگزیر ہو ہی جائے تو ذمہ دار نچلہ ترین "ماتحت سویلین عملہ” ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button