جسٹس فائزعیسیٰ کیس کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے۔
حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے 29 صفحات پر مشتمل درخواست میں صدر مملکت، وفاقی حکومت اور سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملہ بھیجنے کو خلاف قانون قرار دیا جائے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 19 جون کے فیصلے میں 3 سے 11 تک پیرے کو ختم کیا جائے,,سپریم جوڈیشل کونسل کو معاملہ بھیجنے کو غیر قانونی قرار دینے اور ریفرنس پر مزید کارروائی سے روکنے کی استدعا کی گئی ہے. دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف نام نہاد شکایت کے نتیجے میں جاسوسی کی گئی,شکایت کی بنیاد پر ریاستی ایجنسیوں کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کے خلاف جاسوسی کی اجازت دی گئی.
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جاسوسی عدلیہ کی خود مختاری کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بلیک میلنگ کا لائسنس دینے کے مترادف بھی ہے. وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ذہنی مریض ہیں،
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنے کا مقصد دراصل انہیں فیض آباد دھرنا کیس کی سزا دینا ہے،اگر حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے میں کامیاب ہوگئی تو اس کے نتائج نہ صرف خودمختار عدلیہ بھگتے گی بلکہ مستقبل کے ججز بھی اس سے متاثر ہوں گے.
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی عدالت میں میں خفیہ ایجنسی کی مداخلت کی بات کی تھی،سابق جج شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کی تحقیقات کی بجائے انہیں عہدے سے برطرف کردیاگیا,جان بوجھ کر میڈیا ٹرائل کی غرض سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس کے مندرجات میڈیا کو جاری کیے گئے،سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ عدلیہ کو باہر سے نہیں بلکہ اپنے اندر سے خطرات لاحق ہیں،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سابق چیف جسٹس کے اس موقف سے متفق ہے. سپریم کورٹ بار کی 29 صفحات پر مشتمل درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملہ بھیجنے کو خلاف قانون قرار دیا جائےاور سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس پر مزید کاروائی سے روکا جائے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button