جسٹس فائز اور چیف جسٹس گلزار کے اختلافات پبلک ہو گئے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے درمیان اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آگئے جب جسٹس عیسی نے یہ انکشاف کیا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ترقیاتی فنڈز بانٹنے کے خللاف کیس میں جاری کردہ فیصلے پر ان سے دستخط ہی نہیں کروائے گئے اور انہیں اس کا میڈیا کے ذریعے پتہ چلا۔
رجسٹرار سپریم کورٹ کو ایک خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ میں حیران ہوں مجھے ابھی تک اس آرڈر کی فائل موصول کیوں نہیں ہوئی اور اس فیصلے کی کاپی مجھے فراہم کرنے سے پہلے میڈیا تک کیوں اور کیسے پہنچا دی گئی۔ انہوں نے رجسٹرار کو یہ بھی پوچھا یے کہ سپریم کورٹ کا فیصلے میڈیا کو جاری کرنے کا حکم کس نے دیا اور مجھے فیصلے سے اتفاق یا اختلاف کا موقع کیوں فراہم نہیں کیا گیا۔ جستس فائز عیسی نے لکھا کہ چیف جسٹس کی جانب سے انہیں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کسی بھی مقدمے کی سماعت سے روکنے کی رولنگ کی میڈیا کے ذریعے تشہیر کروائی گئی لیکن انہیں اس سارے معاملے سے لاعلم رکھا گیا جس پر وہ اپنے تحفظات ریکارڈ کروانے کے لیے خط لکھ رہے ہیں۔ رجسٹرار کے نام خط کی کاپی انہوں نے چیف جسٹس گلزار احمد سمیت عدالت عظمیٰ کے تمام معزز ججز کو بھجوائی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میں سپریم کورٹ کے اس بینچ میں شامل تھا لیکن مروجہ عدالتی پریکٹس کے برعکس مجھے اس کیس کی فائل نہیں بھجوائی گئی اور چیف جسٹس گلزار کا فیصلہ میڈیا کو جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ انہیں اس فیصلے سے اتفاق یا اختلاف کا حق کیوں نہیں دیا گیا۔ جسٹس فائز عیسی نے یہ سوال بھی پوچھا کہ جسٹس گلزار کا فیصلہ میڈیا کو جاری کرنے کی ہدایت کس نے دی۔
یاد ریے کہ 11 فروری 2021 کے روز وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے متعلق کیس کے تفصیلی فیصلے میں چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق کیسز کی سماعت نہ کریں کیونکہ انہوں نے عمران خان کے خلاف کیس دائر کررکھا ہے۔ چیف جسٹس گلزار کے تحریر کردہ 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کا وزیراعظم سے متعلق کیس کی سماعت کرنا درست نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ غیر جانب داری کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق کوئی بھی مقدمہ نہ سنیں۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر پہلے صدر عارف علوی نے جسٹس عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں نااہلی کا ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس کے بعد اپنے دفاع میں انہوں نے بھی وزیراعظم کو فریق بنا لیا تھا۔ واضح رہے کہ جون 2019 میں سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا لیکن فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ان کے خاندان کے حوالے سے تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے جسٹس فائز عیسی نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا وزیر اعظم عمران خان، حکومتی عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ نے اپنی بیرون ملک جائیدادوں کو پاکستان میں ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کیا ہے یا نہیں۔
13 فروری کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو خط میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھا یے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ 11 فروری 2019 کو وزیراعظم عمران خان کے منتخب اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کے از خود نوٹس کیس کی کارروائی سے متعلق کوئی آرڈر پاس کیا گیا ہے جسے میڈیا پر مشتہر بھی کیا جاچکا ہے۔ مجھے یہ سب جان کر شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ مجھے ابھی تک اس کیس سے متعلق فائل فراہم نہیں کی گئی۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھا کہ عدالتی کارروائی میں یہ اصول ہے کہ جب بھی کوئی لارجر بینچ کسی کیس کی کارروائی مکمل کرتا ہے تو اس بینچ کا سربراہ اپنے بعد سینئر جج کو فیصلے کی کاپی ضرور بھجواتا ہے۔ جسٹس عیسی نے انکشاف کیا کہ کیس سے متعلق فیصلے کی کاپی ان کے ساتھی جج اور اس بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن کو تو موصول ہوگی لیکن انہیں ابھی تک نہیں مل سکی، حتٰی کہ پوری دنیا کو اس فیصلے کا میڈیا کے ذریعے علم ہو چکا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے رجسٹرار کو لکھے گئے خط کے آخری پیرے میں پانچ سوالات کا جواب مانگا ہے۔ جسٹس عیسی نے سوال کیا کہ بینچ کے آرڈر یا ججمنٹ سے متعلق مجھے آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دوسرا سوال یہ اٹھایا کہ عدالتی پریکٹس کے باوجود مجھے اس فیصلے کی فائل کیوں نہیں بھجوائی گئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تیسرا سوال یہ پوچھا کہ بینچ کے فیصلے کے بعد اس میں میری اختلافی یا تائیدی رائے رائے شامل کیے بغیر ہی اسے میڈیا کو کیوں جاری کیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے پوچھا ہے کہ بتایا جائے کہ یہ ججمنٹ میڈیا کو ریلیز کرنے کا حکم کس نے جاری کیا۔ آخر میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ مجھے آرڈر یا ججمنٹ کی کاپی فورا فراہم کی جائے تاکہ میں اسے پڑھ سکوں۔
دوسری طرف قانونی ماہرین کی جانب سے چیف جسٹس گلزار احمد کے جسٹس قاضی فائز عیسی پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف دائر کردہ کیسز سننے پر پابندی کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کی طرف سے ایک جج کو کسی درخواست کی سماعت سے روکنے کا یہ فیصلہ کتنا غیر معمولی ہے اور ماضی میں اس کی کیا مثالیں ملتی ہیں؟ اس سوال پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا اگر چیف جسٹس گلزار احمد اس طرح کی آبزرویشن نہ دیتے، جس سے کسی معزز جج کی غیر جانبداری پر سوال ستھ سکے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر کسی جج کی جانبداری پر کوئی شبہ ہے تو اس بارے میں سماعت کے دوران درخواست گزار یہ معاملہ کسی بھی مرحلے پر اٹھا سکتا ہے تاہم اس کا حتمی فیصلہ وہ جج ہی کرسکتا ہے جس پر اعتراض اٹھایا گیا ہو۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی جانب سے آس ابزرویشن سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ چونکہ موجودہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پسند کرتی اس لیے مستقبل میں اُنھیں ایسے مقدمات کی سماعت سے روکا جائے جو کہ موجودہ حکومت یا وزیراعظم سے متعلق ہوں۔ حامد خان نےکہا کہ عدلیہ کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں جس میں کسی جج کو کسی مقدمے کی سماعت سے روکا گیا ہو۔
حامد خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی جسٹس فائز عیسیٰ سے متعلق اس سے ملتا جلتا اقدام ہی اٹھایا تھا جب پشاور میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران دونوں میں اختلاف ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت کے چیف جسٹس نے جسٹس فائز عیسیٰ کو مقدمے کی سماعت سے الگ کر کے دو رکنی بینچ کے ساتھ اس کیس کی سماعت کی تو تیسرے جج جسٹس منصور علی شاہ نے اس پر ایک سخت نوٹ لکھا کہ کسی جج کو بنچ سے الگ کرنے کا فیصلہ چیف جسٹس کو نہیں بلکہ اس جج کو خود ہی کرنا چاہیے جس کی بنچ میں موجودگی کے بارے میں اعتراض اٹھایا گیا ہو۔‘ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے پاس انتظامی اختیارات ضرور ہیں کہ وہ مقدمات کی سماعت کے لیے اپنی مرضی کے بنچ بنا سکتے ہیں لیکن ان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ کسی جج کو کسی مقدمے کی سماعت کرنے سے روکیں۔
اس معاملے پر سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ نوے کی دہائی میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج عثمان علی شاہ کی ایک بنچ میں موجودگی پر اعتراض اٹھایا گیا تو سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اگر کسی جج کی غیر جانبداری پر درخواست گزار یا دوسرے فریق کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے تو اس جج پر منحصر ہے کہ وہ خود اس بنچ سے الگ ہوتا ہے یا نہیں۔ اُنھوں نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب سابق چیف جسٹس کے بیٹے پر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض سے مبینہ طور پر پیسے لینے کا معاملہ سامنے آیا تو اس کی پہلی سماعت افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ جب اُنھوں نے بطور اٹارنی جنرل ان کی بنچ میں موجودگی پر اعتراض اٹھایا تو اس وقت کے چیف جسٹس نے اس اعتراض کو درست تسلیم کرتے ہوئے خود کو بنچ سے الگ کر لیا۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ بظاہر وزیراعظم کی طرف سے ارکان پارلیمان کو فنڈ دینے سے متعلق اس از خود نوٹس کے بارے میں فیصلہ آ گیا ہے لیکن اُنھیں خدشہ ہے کہ اس بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے کوئی اختلافی نوٹ بھی آ سکتا ہے جس سے ’عدلیہ میں ڈویژن ہو سکتی ہے‘۔ یاد رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے ایک مذہبی جماعت کی طرف سے فیض آباد دھرنے سے متعلق فیصلہ تحریر کیا تھا جس کے خلاف وزارت دفاع اور اس کے ماتحت اداروں کے علاوہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی نظرثانی کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں تاہم نظرثانی کی درخواستوں کو ابھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان کا تحریک انصاف لائرز فورم میں شرکت کے بارے میں بھی نوٹس لے رکھا ہے اور یہ معاملہ بھی اُنھوں نے چیف جسٹس کو بھجوایا ہوا ہے لیکن یہ معاملہ ابھی سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوا ہے۔
