جسٹس فائز عیسٰی نے کسی بھی بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کو خط لکھا اور کسی بھی بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام خط لکھا، ذرائع کے مطابق خط میں جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کسی بھی بینچ کاحصہ بننے سے معذرت کرلی۔ ذرائع نے بتایا کہ درخواست پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو کسی بھی بینچ میں شامل نہیں کیا۔
جسٹس فائز عیسٰی رواں ہفتے ترقیاتی فنڈ کیس میں اختلافی نوٹ تحریر کریں گے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران وزیراعظم عمران خان کی طرف سے سینیٹ کے انتخابات سے پہلے ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈ دینے کے اعلان کا از خود نوٹس لیا تھا اور یہ معاملہ انہوں نے چیف جسٹس گلزار احمد کو بھجوا دیا تھا جنہوں نے اس از خود نوٹس پر پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا داخل کردہ جواب کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے مبینہ طور پر ارکان پارلیمنٹ کو پچاس کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈ دینے سے متعلق از خود نوٹس کی درخواست نمٹاتے ہوئے آبزرویشن دی تھی کہ چونکہ بینچ کے ایک رکن جسٹس فائز عیسٰی نے ذاتی حیثیت میں وزیراعظم کے خلاف پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ اس لیے غیر جانبداری کے اصولوں کا تقاضہ یہی ہے کہ انہیں ایسے معاملات کی سماعت نہیں کرنی چاہئیے جو کہ وزیراعظم عمران خان سے متعلق ہوں۔ اس معاملے پر وکلا کی مختلف نمائندہ تنظیموں نے بھی اپنا رد عمل دیا ۔ پاکستان بار کونسل کے رکن اور سابق وائس چیئرمین امجد شاہ نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف جسٹس کو اپنے کسی ساتھی جج کے بارے میں آبزرویشن دینے سے اجتناب کرنا چاہئیے تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button