جسٹس فائز عیسیٰ پر پابندی کا فیصلہ تنقید کی زد میں


چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف دائر کردہ کیسز سننے پر پابندی لگانے کا فیصلہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہے اور اسے غیر منصفانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 11 فروری 2021 کے روز وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے متعلق کیس کے تفصیلی فیصلے میں چیف جستس گلزار احمد نے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق کیسز کی سماعت نہ کریں کیونکہ انہوں نے وزیر اعظم کے خلاف کیس کررکھا ہے۔ تاہم محترم چیف جسٹس شاید بھول گئے کہ پہلا پتھر وزیر اعظم نے پھینکا تھا جب انکی ایدوائس پر صدر عارف علوی نے جسٹس عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں نااہلی کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ جون 2019 میں سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا لیکن فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو جسٹس عیسی کے خاندان کے حوالے سے تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے جسٹس فائز عیسی نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا وزیر اعظم عمران خان، حکومتی عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ نے اپنی بیرون ملک جائیدادوں کو پاکستان میں ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کیا ہے یا نہیں۔ تاہم جسٹس فائز عیسیٰ نے کسی بھی عدالت میں براہ راست وزیراعظم عمران خان کے خلاف کوئی کیس دائر نہیں کر رکھا، جیسا کہ چیف جسٹس گلزار احمد نے تاثر دیا ہے۔ لہذا جسٹس فائز عیسیٰ پر پابندی کا فیصلہ سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی زد میں ہے۔
اس سے پہلے 11 فروری کو چیف جسٹس گلزار احمد کے تحریر کردہ 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا وزیراعظم سے متعلق کیس کی سماعت کرنا درست نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ غیر جانب داری کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق کوئی بھی مقدمہ نہ سنیں۔ چیف جسٹس نے فیصلے میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کی جانب سے ترقیاتی فنڈ کی تقسیم کے بارے میں نامعلوم ذریعے سے وصول شدہ واٹس ایپ پیغام کا حوالہ دیا اور نامعلوم ذرائع سے وصول شدہ دستاویزات ججوں کو فراہم کیں۔ انہوں نے تحریر کیا کہ دستاویزات کی کاپی اٹارنی جنرل کو بھی فراہم کی گئی جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ نامعلوم نمبر سے وصول شدہ دستاویزات اصلی ہیں یا نہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دستاویزات کے مستند ہونے پر سوالیہ نشان موجود ہے اور استدعا کی کہ دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ نہ بنایا جائے۔ چیف جسٹس نے فیصلے میں لکھا کہ اٹارنی جنرل نے کہاکہ اگر کوئی جج شکایت کنندہ ہو تو یہ مناسب نہیں وہ مقدمہ سنے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اس مقدمے کو سنیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا اس صورت حال میں یہ مناسب نہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس مقدمے کو سنیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ذاتی حیثیت میں وزیراعظم کے خلاف ایک درخواست بھی دائر کر چکے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ غیر جانب داری اور بلا تعصب انصاف کی فراہمی کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے خلاف کیس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نہیں سن سکتے۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سینٹ الیکشن سے پہلے حکومتی اراکین اسمبلی میں ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کی خبروں کا نوٹس لینے پر اس معاملے کی سماعت کی تھی۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف پہلے محاذ وزیراعظم عمران خان نے کھولا جب انہوں نے جسٹس عیسی کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کیا۔ یہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل نے جون 2019 میں مسترد کردیا تھا۔ صدارتی ریفرنس مسترد کرنے کا فیصلہ تو بینچ نے نو کے مقابلے میں ایک کی اکثریت کے ساتھ دیا تاہم بینچ کے سات ارکان نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ ایف بی آر آئندہ دو ماہ میں ٹیکس کے معاملے کی تحقیقات مکمل کرے اور اس کی رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی جائے۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس تحقیقات میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کوئی چیز سامنے آتی ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت از خود نوٹس لے کر کارروائی کر سکتی ہے۔
بعد ازاں دسمبر 2020 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اضافی نظرثانی درخواست داخل کی اور موقف اپنایا کہ ’مجھے آئینی عہدے سے ہٹانے کے لیے ایف بی آر کو کنٹرول کیا گیا۔ انھوں نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ یہ غیر واضح ہے کہ آیا وزیر اعظم عمران خان، حکومتی عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ نے اپنی بیرون ملک جائیدادوں کو پاکستان میں ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کیا ہے یا نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی اپیل 31 صفحوں پر مشتمل تھا اور اس میں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے کنڈکٹ کو ’بدنیتی پر مبنی‘ اور ’غیر شفاف‘ قرار دیا گیا۔ جسٹس فائز عیسی نے درخواست میں کہا کہ عمران خان کی حکومت کے کئی عہدے داروں کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں۔ ’معلوم نہیں کہ انھوں نے پاکستان میں اپنے ٹیکس ریٹرنز میں انھیں ظاہر کیا یا نہیں۔‘ انہون نے سوال اٹھایا کہ ’وزیر اعظم، ان کی بیویاں اور بچے اپنے اثاثوں کے بارے میں جوابدہ نہیں لیکن درخواست گزار، یعنی وہ خود، ان کی اہلیہ اور بچے جوابدہ ہیں، کیا ان کے احتساب کا معیار الگ ہے۔‘ جسٹس عیسی کا موقف تھا کہ ’عمران حکومت کے ان عہدیداروں میں سید ذوالفقار عباس عرف زلفی بخاری، یار محمد رند، ندیم بابر، شہباز گل، عاصم سلیم باجوہ، مرزا شہزاد اکبر، فیصل واوڈا اور عثمان ڈار شامل ہیں۔‘ انھوں نے اپنی پٹیشن میں لکھا ہے کہ ’ذوالفقار عباسی کی 45 ولنگٹن روڈ لندن میں فلیٹ نمبر 3 جائیداد ہے، یار محمد رند کی سپرنگ ریذیڈنشل ولا اور انٹرنیشنل سٹی دبئی میں جائیداد ہے، ندیم بابر کا ہوسٹن امریکہ میں گھر ہے، شہباز گل کا امریکہ میں گھر ہے۔ ’عاصم سلیم باجوہ کی امریکہ میں 13 کمرشل اور پانچ رہائشی جائیدادیں ہیں، فیصل واوڈا کی بیرون ملک نو جائیدادیں ہیں لندن میں سات، ملائیشیا اور دبئی میں ایک ایک جائیداد، عثمان ڈار کی برطانیہ کے شہر برمنگھم میں جائیداد ہے۔‘
خیال کیا جاتا ہے کہ جسٹس فائز عیسی کی درخواست کے اسی حصے کی بنیاد پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ان پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف دائر کردہ کسی بھی کیس کی سماعت کا حصہ بننے پر پابندی عائد کی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ چیف جسٹس نے عدالت عظمی کے کسی جج پر موجودہ وزیر اعظم کے خلاف کوئی کیس سننے پر پابندی عائد کی ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button