جسٹس فائز عیسیٰ کا موبائل فون کس نے اور کیوں ہیک کیا؟

پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اپنا موبائل فون ہیک ہونے کا تب معلوم ہوا جب کچھ لوگوں کو جج صاحب کی طرف سے ایسے میسجز موصول ہوئے جو انہوں نے بھیجے ہی نہیں تھے لیکن وہ انہی کے فون نمبر سے موصول ہوئے تھے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے برسرپیکار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے فوری طور پر سپریم کورٹ رجسٹرار کو اس بارے میں آگاہ کیا تاکہ اگر ان کے خلاف اگر کوئی نئی سازش کی جارہی ہے تو اسے کاؤنٹر کیا جا سکے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ کے ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا موبائل فون ہیک کر لیا گیا ہے اور شبہ ہے کہ ان کے موبائل نمبر سے کسی کو کوئی بھی گمراہ کن پیغام رسانی ہوسکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہیکرز جج صاحب کے موبائل نمبر کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے موبائل فون نمبر سے کسی بھی قسم کی پیغام رسانی جعلی اور جھوٹ تصور کی جائے کیونکہ وہ جسٹس فائز عیسیٰ نے نہیں کی۔ بعد ازاں جسٹس فائز عیسیٰ کا موبائل فون ہیک ہونے کی انکوائری وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سپرد کر دی گئی۔
یاد رہے کہ جستس فائز عیسی موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کی سینیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں اور وہ 2023 میں پاکستان کے چیف جسٹس بن جائیں گے۔ جسٹس فائز عیسی کا موبائل فون ہیک ہونے کے معاملے پر معلومات کے مطابق 30 جنوری کی شام اسلام آباد میں کئی وکیلوں، صحافیوں اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے چند مخصوص افراد کو موبائل فونز پر تحریری پیغام موصول ہوتا ہے، جس میں جسٹس عیسیٰ کا فون ہیک ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے۔ یہ پیغام بھیجنے والے کوئی اور نہیں بلکہ خود جسٹس عیسیٰ تھے، جو اپنے حلقہ احباب کو موبائل فون کے ہیک ہونے کی خبر دینا چاہتے تھے تاکہ ہیکرز کے بھیجے ہوئے پیغامات یا کالز کو بے اثر بنایا جا سکے۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے منسلک اسلام آباد کے صحافی زاہد گشکوری بھی ان لوگوں میں شامل تھے، جنہیں جسٹس عیسیٰ کا مذکورہ پیغام ملا تھا۔ زاہد گشکوری کے مطابق: ’مجھے جج صاحب کی طرف سے میسج ملا کہ ان کا فون ہیک ہو گیا ہے اور ان کے کسی میسج یا کال کا جواب نہ دیا جائے۔‘ گشکوری نے یکم فروری کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نام لیے بغیر ایک ٹویٹ میں سپریم کورٹ کے ایک جج کے موبائل فون کے ہیک ہونے کی اطلاع دی۔
جسٹس فائز عیسیٰ کی طرف سے دوست احباب کو پیغام بھیجے جانے کے اگلے ہی روز ٹوئٹر پر ایک پیغام نمودار ہوتا ہے، جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کوئیلگی لپٹی رکھے بغیر جج صاحب کا نام لے کر انکا موبائیل فون ہیک ہونے کی اطلاع دیتے ہیں۔ اس سوال پر کہ انہیں جسٹس فائز عیسیٰ کے موبائل فون ہیک ہونے کا کیسے علم ہوا؟ امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا: ’جج صاحب کا اور میرا صوبہ بلوچستان سے تعلق ہے، تو پھر مجھے تو پتہ چلنا ہی تھا۔‘ جب امان اللہ کنزانی سے دریافت کیا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کو موبائل فون کے ہیک ہونے کا خود کیسے پتہ چلا؟ تو انہوں نے بتایا: ’کچھ لوگوں کو جج صاحب کی طرف سے کچھ میسجز موصول ہوئے تھے، جو انہوں نے بھیجے ہی نہیں تھے۔ اس طرح انہیں پتہ چلا کہ انکا فون ہیک کر لیا گیا ہے۔ لیکن اصرار کے باوجود کنرانی نے جسٹس فائز عیسیٰ کے ہیک ہونے والے فون سے بھیجے گئے پیغامات کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔
دوسری طرف عدالت عظمیٰ نے جسٹس فائز کا موبائل فون ہیک ہونے کے معاملے پر تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سربراہ واجد ضیا کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کے خط میں ایف آئی اے کو معاملے کی تحقیقات اور ہیکنگ کی وجوہات جاننے کے لیے ٹیکنیکل ٹیم بنانے کا کہا گیا ہے۔ یاد ریے کہ موبائل فون ہیکنگ کا مطلب عام طور پر صوتی پیغامات تک رسائی ہے، جو فون سروس کے ذریعے ان کے سرورز پر رکھے جاتے ہیں۔ یوں کسی بھی موبائل فون کی ہیکنگ اس فون سیٹ تک رسائی حاصل کیے بغیر کی جاتی ہے۔ ہیکرز عام طور پر ان لوگوں کے موبائل فونز ہیک کرتے ہیں جو اپنے فون سیٹ میں کمپنی کی طرف سے لگائے گئے پن نمبر تبدیل نہیں کرتے، یا عام سا پن کوڈ استعال کرتے ہیں۔ اسی لیے موبائل فون استعمال کرنے والوں کو کمپنی کی طرف سے لگایا گیا پن نمبر ضرور تبدیل کرنے، بار بار پن کوڈ تبدیل کرنے اور مشکل پن کوڈ رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
تاہم عدالتی حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر جسٹس فائز عیسی کا موبائل فون ہی کیوں ہیک کیا گیا اور ایسا کس نے کیا؟ اسکا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جسٹس فائز کا فون خفیہ ایجنسیوں نے ہیک کیا ہو گا کیونکہ وہ پچھلے کئی سالوں سے ریاستی اداروں کے نشانے پر ہین۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا جس کو عدالت عظمیٰ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی تھی، فل کورٹ کے دیگر اراکین میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین احمد شامل تھے۔
سپریم کورٹ میں ریفرنس پر سماعت مئی 2019 سے جون 2020 تک تقریباً 13 ماہ تک ہوئی، جہاں 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئیں، اس دوران ایک اٹارنی جنرل نے ججز سے متعلق بیان پر نہ صرف استعفیٰ دیا بلکہ فروغ نسیم بھی کیس میں حکومت کی نمائندگی کرنے کے لیے وزیر قانون کے عہدے سے مستعفی ہوئے، یہی نہیں بلکہ یہ کیس تاریخی لحاظ سے اس لیے بھی اہم رہا کیونکہ اس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج جسٹس عیسیٰ عدالت میں خود پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں تین ججوں نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اضافی نوٹ لکھا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عدالت نے درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست کو منظور کرلیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جاری کیا گیا شوکاز نوٹس بھی منسوخ کردیا، مزید یہ کہ عدالت کی جانب سے یہ حکم دیا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف 7 روز میں جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کو نوٹس جاری کرے، نوٹس ہر پراپرٹی کا الگ الگ بھجوایا جائے، ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ نوٹس جسٹس عیسیٰ کی سرکاری رہائش گاہ کے پتے پر بھجوایا جائے اور ایف بی آر معاملے کو التوا میں نہ ڈالے۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ قانون کی کارروائی بنتی ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل مجاز ہوگی، چیئرمیں ایف بی آر اپنے دستخط سے رپورٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کو جمع کرائیں۔ یاد رہے کہ مئی 2019 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیے گئے ریفرنس میں الزام لگایا تھا کہ انہوں نے 2011 سے 2015 کے دوران لندن میں لیز پر اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام پر جائیدادیں حاصل کیں تھیں لیکن انہیں ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا تھا۔ بعدازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الزامات کا مقابلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ فلیٹس کے بینیفشل اونر نہیں ہیں۔ اس درخواست کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں استدعا کی تھی کہ کچھ طاقتیں انہیں کسی نہ کسی طریقے سے آئینی عہدے سے ہٹانا چاہتی ہیں جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے قبل اپنی آزادانہ رائے قائم نہیں کی تھی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ وزیراعظم، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 116 (بی) کو توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا اور غلطی سے اسے ان کی اہلیہ اور بچوں پر لاگو کردیا تھا جبکہ اس قانون کا اطلاق صرف زیر کفالت اہلیہ اور ان بچوں پر اطلاق ہوتا ہے جو چھوٹے ہوں اور والد پر انحصار کرتے ہوں۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرکاری ایجنسیوں بشمول ایف آئی اے نے خفیہ طور پر درخواست گزار اور ان کے خاندان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 4 اور 14 کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے معلومات حاصل کیں اور انہیں تحقیقات سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا نہ ہی انہیں جواب دینا کا کوئی موقع فراہم کیا گیا۔ جسٹس قاضیٰ عیسیٰ نے عدالت سے درِخواست کی تھی کہ حکومت کی جانب سے ان کے خاندان کی جائیدادوں کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو غیرقانونی قرار دیا جائے، ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ میرے اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تحقیقات غیر قانونی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button