جسٹس فائز عیسیٰ کو دھمکی دینے والے کا اپنا کیس لڑنے کا فیصلہ

جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دھمکی آویز ویڈیو جاری کرنے والے توہین عدالت کے ملزم مولوی افتخار الدین مرزا نے سپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کروانے کے بعد اب یوٹرن لیتے ہوئے صحت جرم سے انکار کردیا ہے اور توہین عدالت کیس میں اپنا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
23 جولائی کے روز توہین عدالت کے ملزم مرزا افتخار الدین کی جانب سے اپنا مؤقف تبدیل کیے جانے کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے آئندہ سماعت پر استغاثہ سے گواہان اور شواہد طلب کر لیے ہیں۔
عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے عدلیہ مخالف ویڈیو جاری کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی، جہاں ملزم مولوی افتخار الدین مرزا پیش ہوا جس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک دھمکی آویز ویڈیو جاری کی تھی۔ سماعت کے دوران ملزم افتخار الدین مرزا نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ توہین عدالت کیس میں اپنا دفاع کریں گے، لہٰذا ٹرائل کورٹ کے فیصلے تک عدالت عظمیٰ کارروائی روکے۔ اس پر بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ میں مقدمہ صرف توہین عدالت کا ہے، اگر آپ معافی ناموں کے باوجود صحت جرم سے انکاری ہیں تو یہ آپ کی مرضی ہے۔ اب آپ کو سزا کے لئے تیار ہونا چاہیے۔ عدالت میں سماعت کے دوران توہین عدالت کے ملزم مرزا کے وکیل افتخار الدین نے ایک ہی ویڈیو پر 2 مقدمات بنائے جانے پر اعتراض کیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک ویڈیو میں 4 قوانین پامال کیے گئے ہیں تو ہر ادارہ مروجہ طریقے سے اپنے قانون کا اطلاق کرے گا جبکہ ٹرائل کورٹ اپنے شواہد پرفیصلہ کرے گی۔
اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سائبر کرائم اور دہشت گردی کے قوانین کا توہین عدالت سے تعلق نہیں، ویڈیو میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مارنے کی دھمکی دی گئی جو فوجداری جرم ہے، ہرجرم کے ٹرائل کا طریقہ، شواہد اورسزا الگ ہوتی ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کورٹ اپنے شواہد پر فیصلہ کرے گی، جس کے بعد عدالت نے افتخار الدین مرزا کی توہین عدالت کیس کی سماعت روکنے کی استدعا مسترد کردی۔ ساتھ ہی عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ سے گواہان اور شواہد طلب کر لیے جبکہ ملزم کے وکیل کو چارج اوراس کے تمام ثبوت کی کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت کردی، اب اس کیس کی مزید سماعت 3 ہفتے بعد ہوگی۔
علاوہ ازیں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے جمع کروائی گئی پیشرفت رپورٹ میں بتایا گیا کہ موبائل ریکارڈ کے مطابق ملزم کے486 نمبرز کی فہرست میں سابق فوجی افسران اورسویلین شامل ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم کے بیرون ممالک رابطے ہیں جبکہ زیادہ رابطے والے 26 نمبرز کا ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔ مزید یہ کہ افتخار الدین مرزا کے 19 بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ خیال رہے کہ 15 جولائی کو سپریم کورٹ نے عدلیہ اور ججز مخالف توہین آمیز ویڈیو ازخود نوٹس کیس میں ملزم آغا افتخار الدین مرزا کی معافی کی استدعا ایک مرتبہ پھر مسترد کرتے ہوئے فرد جرم عائد کی تھی۔ خیال رہے کہ 24 جون کو سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے پولیس کو ایک درخواست دی تھی جس میں کہا گیا کہ ان کے خاندان کی زندگی خطرے میں ہے کیونکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ ‘میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ہوں جو سپریم کورٹ کے جج ہیں اور انہیں قتل کی دھمکی دی گئی ہے’۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید کہا تھا کہ ایک شخص نے ویڈیو میں کہا تھا کہ ان کے شوہر کو سرعام گولی ماری جائے، ساتھ ہی انہوں نے اپنی شکایت کے ساتھ دھمکی آمیز ویڈیو پیغام پر مشتمل یو ایس بی بھی جمع کروائی تھی۔ بعد ازاں اگلے ہی روز چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے آغا افتخار الدین کی ججز، عدلیہ کے خلاف اس ویڈیو کلپ کا نوٹس لیا تھا۔
جس کے بعد 26 جون کو پہلی سماعت پر عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا اور آغا افتخار مرزا کو طلب کیا تھا اور اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ ایف آئی اے نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی ہے۔ عدالتی کارروائی کے بعد آغا افتخار کو حراست میں لیا گیا تھا اور 30 جون کو انسداد دہشت گردی عدالت نے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے آغا افتخار الدین مرزا کو 7 روز کے جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کردیا تھا۔ بعدازاں 9 جولائی کو سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ و دیگر ججز سمیت عدلیہ مخالف اور توہین آمیز ویڈیو ازخود نوٹس کیس میں مولوی آغا افتخار الدین مرزا کی غیر مشروط معافی مسترد کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل کے ریکارڈ سے فوجی افسران کے نمبروں کا ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے یہ ویڈیو کسی ایجنسی کے کہنے پر تیار کی۔
