جسٹس فائز عیسیٰ کو قتل کی دھمکیاں کیوں دی جا رہی ہیں؟

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں ایک درخواست دی ہے کہ ان کے شوہر کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور یہ کہ سپریم کورٹ کے ایک جج کو قتل کی دھمکیاں دینا دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے طاقتور لوگ‘ ان کے خاوند سے خوش نہیں ہیں اور اس طرح کی قتل کی دھمکیاں اُن حالات کا تسلسل ہیں جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ سرینا عیسی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ جس فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کا محرک بننے والے نام نہاد صحافی وحید ڈوگر کو چند انتہائی طاقتور لوگ استعمال کر رہے ہیں. اس بارے میں فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سربراہ سے بھی رابطہ کیا جانا چاہئے جو اس بارے میں معلومات رکھتے ہوں گے۔
پولیس کو اپنی درخواست میں انھوں نے حال ہی میں انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا ہے جس میں ایک خطیب نے کہا تھا کہ ’جو شخص بھی ملک میں بدعنوانی یا غبن میں ملوث پایا جائے، چاہے وہ نواز شریف ہو، آصف زرداری ہو، یا جسٹس فائز عیسیٰ ہو، انھیں سیدھا فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر دیا جائے۔‘ جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ نے پولیس کو دی گئی درخواست کے ساتھ خطیب کی ویڈیو بھی منسلک کی ہے۔
سیکرٹریٹ سرکل کے سب ڈویژنل پولیس افسر اقبال احمد خان نے اس درخواست کے موصول ہونے کی تصدیق کی ہے جسے قانونی رائے لینے کے لیے پولیس کی لیگل برانچ کو بھیج دیا گیا ہے۔ یہ ویڈیو کلپ ایک مسجد کے خطیب کی ہے جو ویڈیو میں دعویٰ کرتا ہے کہ چین میں حکومت غبن اور بدعنوانی میں ملوث افراد کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دے دیتی ہے۔اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ ’مثالی صورتحال‘ یہ ہے کہ چین کا فارمولا اپناتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری یا کسی بھی شخص کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر دینا چاہیے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس شخص نے صرف اپوزیشن رہنماؤں اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ جج کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور چینی اورشوگر سکینڈل میں ملوث ملزمان کا ذکر نہیں کیا۔
اس شخص نے اپنی تقریر میں پاکستان کی مسلح افواج کے ذمہ داران‘ کو بھی مخاطب کر کے کہا ہے کہ اگر انھوں نے ملک کو بچانا ہے تو وہ پاکستانی عدلیہ کا بندوبست کریں۔ اس ویڈیو کلپ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کو پھانسی لگانے کی ضرورت ہے اور انھیں راولپنڈی کے فوارہ چوک میں لایا جائے اور لوگوں کو دیکھنے کے لیے بلایا جائے تا کہ ان کی موجودگی میں ایسے افراد کو گولی ماری جائےم سرینہ عیسیٰ نے درخواست میں دھمکیاں دینے والے کا نام آغا افتخار الدین مرزا بتایا گیا ہے، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نہیں جانتیں کہ یہ اس شخص کا اصل نام ہے یا نقلی۔ سرینہ عیسیٰ نے کہا ہے کہ ’بہت سے طاقتور لوگ‘ ان کے خاوند سے خوش نہیں ہیں اور اس طرح کی قتل کی دھمکیاں اُن حالات کا تسلسل ہیں جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ان کے شوہر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف عبدالوحید ڈوگر نامی شخص کی جانب سے درخواست جمع کروائی گئی، تاہم ان کے شوہر کی جانب سے عبدالوحید ڈوگر کے بارے میں استفسار پر حکومت کی طرف سے اُنھیں کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ کون ہیں اور کس کے لیے کام کرتے ہیں۔ سرینا عیسی نے مطالبہ کیا ہے کہ وحید ڈوگر کو تلاش کرنے کے لیے مرزا شہزاد اکبر سے رابطہ کیا جائے جن کا دفتر وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ہے۔
یاد رہے کہ شہزاد اکبر وزیرِ اعظم ہاؤس میں قائم ’اثاثہ جات ریکوری یونٹ‘ کے سربراہ ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وحید ڈوگر کو ’چند انتہائی طاقتور لوگ‘ استعمال کر رہے ہیں اور اس بارے میں فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سربراہ سے بھی رابطہ کیا جائے جو اس بارے میں معلومات رکھتے ہوں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک جج کو قتل کی دھمکی دینا ’دہشتگردی کی سب سے بدترین قسم ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ بہت سے بااختیار لوگ ان کے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے پولیس سے اس حوالے سے مقدمہ درج کرنے اور انھیں تفتیش کی کارروائی سے آگاہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرینس کو 19 جون کو اپنے فیصلے میں کالعدم قرار دے دیا تھا۔فل بینچ کی جانب سے جو ریفرنس مسترد کیا گیا اس میں جسٹس فائز عیسیٰ پر اپنے خاندان کے برطانیہ میں موجود اثاثے چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں ضابطہ کار کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے اس ریفرنس پر جسٹس فائز عیسیٰ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا جسے جسٹس عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں چیلینج کر دیا تھا۔ جسٹس عیسیٰ کی جانب سے اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرینس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ کالعدم قرار دیے گئے اس ریفرینس میں شکایت کنندہ عبدالوحید ڈوگر ہی ہیں جن کا ذکر سرینہ عیسیٰ نے اپنی درخواست میں کیا ہے۔
جسٹس فائز عیسیٰ کا موقف ہے کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے بعد دائر کیا گیا جس میں انہوں نے فوج کے ادارے اور آئی ایس آئی کو غیر ضروری سیاسی معاملات سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی اور ایسے معاملات میں ملوث پائے جانے والےلوگوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ نواز شریف دور میں راولپنڈی کے قریب فیض آباد چوک پر تحریک لبیک یارسول کے کارکنان نے اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ ایما پر دھرنا دے کر حکومت کا پہیہ جام کر دیا تھا جس کے بعد آئی ایس آئی کی مداخلت پر یہ دھرنا ختم ہوا اور فیض حمید نے بطور ضامن اس معاہدے پر دستخط کیے تھے جو اب آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں۔
