جسٹس فائز عیسیٰ کیس نے سپریم کورٹ کی ساکھ خطرے میں ڈال دی

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس کی نظرثانی درخواستوں نے اعلی عدلیہ کی ساکھ پر سوال اٹھا کر اسے ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے خصوصا جب بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ بھی تسلیم کر لیا کہ سات رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے لیے چھ رکنی بینچ بنانا درست فیصلہ نہیں۔
8 دسمبر کے روز نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس عیسیٰ اہلیہ سرینا عیسی کی جانب سے چیف جسٹس گلزار احمد کو ایک فریق قرار دینے پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال برہم ہو گے اور یہ ریمارکس دیے کہ آپ حد پار کر رہی ہیں، ایسا نہ کریں۔ ساتھ ہی بنچ کے سربراہ نے نظرثانی کیس سننے والے بینچ پر اٹھائے گئے اعتراض پر مشاورت کے بعد فیصلہ دینے کا اعلان کیا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل 6 رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس عیسیٰ کی درخواست پر دیے گئے عدالتی فیصلے کے خلاف جسٹس عیسیٰ، ان کی اہلیہ و دیگر کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔ اس موقع پر عدالت عظمیٰ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک، اہلیہ جسٹس عیسیٰ سرینا عیسیٰ و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت سرینا عیسیٰ نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ رول 26 اے کے مطابق صرف وہی بینچ نظر ثانی درخواستیں سن سکتا ہے جس نے پہلے کیس کی سماعت کی ہو، مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ سپریم کورٹ اپنے رولز پر عمل کیوں نہیں کر رہی، انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے 6 رکنی بینچ تشکیل دے کر غلط کیا ہے۔ انہوں نے سواک اتھایا کہ 6 رکنی بینچ کیسے 7 رکنی بینچ کے فیصلے پر نظر ثانی درخواست سن سکتا ہے، اور 7 رکنی اکثریتی فیصلے کو 6 رکنی بینچ کیسے کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 ججز کو مرضی سے نظر ثانی بینچ سے نکال دیا گیا اور میرے حقوق متاثر کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اختلافی نوٹ دینے والے ججز کے فیصلے سے بھی اختلاف ہیں، میری عدالت سے استدعا ہے کہ نظرثانی درخواست سننے کے لیے اختلافی نوٹ والے ججز کو بھی بینچ میں شامل کیا جائے۔
ساتھ ہی انہوں نے بینچ کے تمام ججز سے باری باری ایک ہی سوال کیا کہ کیا 6 ججز بینچ 7 رکنی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ میں مانتا ہوں کہ 6 رکنی بینچ 7 رکنی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے مسز سرینا عیسی کے جارحانہ سوالات پر زچ ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے جس انداز میں سوالات اٹھائے یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ ان ریمارکس پر سرینا عیسیٰ نے جواب دیا کہ میرے مقدمے کی سماعت کے لیے 10 رکنی بینچ تشکیل دیا جائے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کے نکات نوٹ کر لیے ہیں، آپ حقائق کو نظر انداز کر رہی ہیں، ہم نظر ثانی اپیل نہیں سن رہے بلکہ ہم ابھی صرف بینچ کی تشکیل کے خلاف درخواست سن رہے ہیں۔
عدالت میں سماعت کے دوران سرینا عیسیٰ نے کیس کی مرکزی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں اس میں فریق نہیں تھی لیکن جسٹس عمر عطا بندیال نے فریق نہ ہونے کے باوجود 81 مرتبہ میرا نام لیا۔اس موقع پر سرینا عیسیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس گلزار احمد، قاضی فائز عیسی کے بینچ کا حصہ رہ چکے ہیں، چیف جسٹس بطور چیئرمین جوڈیشل کونسل ہماری قسمت کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان اس کیس میں فریق ہیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ چیف جسٹس پاکستان پر الزام لگا رہی ہیں، آپ حد پار کر رہی ہیں، اپنی حد سے باہر نہ جائیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ ہماری فیملی کا حصہ ہیں، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کیس کی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان پر الزام لگایا جائے، آپ ادارے اور اس کے سربراہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے محتاط رہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس بینچ بنا سکتا ہے یہ ان کا آئینی اختیار ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس کے بعد سرینا عیسیٰ نے عدالت سے معذرت کر لی۔ سرینا عیسیٰ نے کہا کہ میرا مقصد کسی جج کی دل آزاری نہیں تھا، اگر کسی جج کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتی ہوں۔بعد ازاں کیس کی سماعت میں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ ہمارے لیے محترم ہیں لیکن سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے بارے میں بات کرتے ہوئے احتیاط برتیں۔ ساتھ ہی جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ ہم نے آپ کی تمام باتیں سن لی ہیں۔ دوران سماعت سرینا عیسیٰ نے مؤقف اپنایا کہ شہزاد اکبر اور فروغ نسیم نے غیر قانونی طریقہ اپنایا، اس پر جسٹس عمر نے ریمارکس دیے کہ آپ کیس کے میرٹس پر نہ جائیں ہم نظر ثانی درخواستیں سنیں گے۔ جس کے بعد سرینا عیسیٰ روسٹرم سے ہٹ گئیں۔
بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت کا تاثر عوام میں رکھنا بار کا کام ہے، جج خود عوام میں نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے بغیرعدلیہ کی آزادی ممکن نہیں،ہم نے اپنے فیصلے میں توازن رکھا، ایک طرف جج پر لگائے اعتراضات ختم کرکے عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھا، دوسری طرف احتساب کے عمل کو تحفظ دیا۔
اس موقع پر سندھ بار کونسل کے وکیل رشید اے رضوی نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ اگر 9 جج نظرثانی کیس سنے تو اس سے نقصان کیا ہے، یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ انصاف نہیں ہوا۔جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ایک سینئر وکیل کی منہ سے عدالت پر عدم اعتماد قابل افسوس ہے، ساتھ ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پہلے 2 ججز پر اعتراض اٹھایا گیا، آج پھر اعتراضات اٹھائے گئے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مستقبل کے ممکنات پر ججوں پر اعتراض اٹھانا نامناسب تھا، ہم نے اعترض مسترد کیا لیکن جج خود بینچ سے الگ ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ ہم بینچ کی تشکیل کا معاملہ آئین و قانون کے مطابق طے کریں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ نظرثانی کیس سننے والے بینچ پر اٹھائے گئے اعتراض پر مشاورت کے بعد فیصلہ دیں گے۔ بعد ازاں عدالت نے سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی کی سماعت جمعرات تک ملتوی، ساتھ ہی عدالت نے صدر سپریم بار ایسوسی ایشن لطیف آفریدی کی طرف سے مہلت دینے کی استدعا منظور کر لی۔
خیال رہے کہ خیال رہے کہ 19 جون کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے 7ججز کے اپنے اکثریتی مختصر حکم میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا۔عدالت عظمیٰ کے 10 رکنی بینچ میں سے انہیں7 اراکین نے مختصر حکم نامے میں پیرا گراف 3 سے 11 کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے سامنے دائر ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ان کے اہل خانہ سے ان کی جائیدادوں سے متعلق وضاحت طلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرانے کا کہا تھا۔تاہم عدالت عظمیٰ کے اس مختصر فیصلے کے پیراگرافس 3 سے 11 کو دوبارہ دیکھنے کے لیے 8 نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی تھی۔ تاہم جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے سے ان کی نظر ثانی درخواست کی سماعت کے لیے چھ رکنی بینچ بنانے پر اعتراضات نے عدلیہ کے ساتھ پر سوالات ہیں کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ اس کیس کا فیصلہ سات رکنی بینچ نے دیا تھا۔
