جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا وزیراعظم پر آف شور کمپنی رکھنے کا الزام

سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان پر ایک آف شور کمپنی کے مالک ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
یاد رہے کہ صدر پاکستان عارف علوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس فائز کے خلاف اس بنیاد پر نااہلی کا ریفرنس دائر کر رکھا ہے کہ انہوں نے بیرون ملک اپنے فیملی ممبران کی جائیداد اپنے گوشواروں میں ظاہر نہیں کی تھی۔ جسٹس فائز نے اپنے خلاف دائر کردہ ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جس کی سماعت سپریم کورٹ کا دس رکنی بینچ کر رہا ہے۔ اپنے دفاع میں جسٹس فائز نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جب کسی جج نے اپنے گوشوارے جمع کروانے ہوتے ہیں تو ان میں وہ صرف اپنی جائیداد کا ذکر کرتا ہے لیکن اگر اسے اپنے گوشواروں میں اپنے خاندان کے افراد کی جائیدادوں کا ذکر بھی کرنا ہے تو پھر تو وزیر اعظم عمران خان کو بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گے گوشواروں میں اپنی موجودہ اور سابقہ بیگمات کی جائیدادوں کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ ان کا موقف ہے کہ اس حساب سے تو وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے گوشواروں میں حقائق سے چشم پوشی کا مظاہرہ کیا ہے۔
جسٹس فائز نے یہ موقف سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جمع کروائے گے جواب الجواب میں اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ان کی اہلیہ اور بچوں نے جائیدادیں اپنے نام پر خریدی ہیں، انہوں نے خریدی ہوئی جائیداد کو آف شور کمپنی کا سہارا لے کر کبھی نہیں چھپایا۔
موجودہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے میری فیملی کی مخبری کے لئے ایک برطانونی کمپنی کی خدمات حاصل کیں جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔
انہوں نے اپنا جواب پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آج تک اپنی اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کئے ، اس کے علاوہ بھی ملک کی نمایاں سیاسی شخصیا ت نے ملکی جائیداد کو آف شور کمپنیوں کا سہارا لے کر چھپایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان خود بھی بیرون ملک ایک آف شور کمپنی کے مالک ہیں جس کا ذکر انہوں نے اپنے جمع شدہ گوشواروں میں نہیں کیا ہے۔
جسٹس فائز کا کہنا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دینے پر مجھ پر ریفرنس دائر کروایا گیا اور اب اگر یہ الزام غلط ثابت ہو گیا تو کیا ذمہ داروں پر توہین عدالت کا مقدمہ دائر نہیں ہو گا۔ ان کا موقف ہے کہ فیض آباد دھرنے کے بارے میں عمران خان کو سب پتہ ہے، وہ کسی بات سے لا علم نہیں، لیکن پھر بھی مجھ پر الزام لگایا گیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزیراعظم سمیت کئی سیاسی شخصیات نے اپنی جائیداد کو آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپایا ہے لہذا ان سب شخصیات کے خلاف بھی قانونی کاروائی ہونی چاہیے۔
