جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی عدالت میں میڈیا کی آزادی پر ووٹنگ


پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے سپریم کورٹ کے جج، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ انہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آج ملک میں میڈیا آزاد نہیں اور پاکستان کو منظم طریقے سے تباہ کیا جارہا ہے، اپنے ہر مخالف کو غدار اور حکومتی حامی کو محبِ وطن بتایا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ ریمارکس سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید جان کو مخاطب کرتے ہوئے دیے۔
عدالت عظمیٰ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے یہ سوال کیا کہ کیا پاکستان میں میڈیا آزاد ہے؟ اس سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابهی عدالت میں کھڑے صحافیوں سے ریفرنڈم کروا لیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میڈیا کے لوگ ہاتھ کھڑے کریں کیا میڈیا آزاد ہے؟ جسٹس عیسیٰ کی جانب پوچھے گئے سوال پر کسی صحافی نے ہاتھ کھڑا نہیں کیا‘۔ جس کے بعد انہوں نے کہا کہ اب وہ صحافی ہاتھ کهڑا کریں جو سمجهتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا آزاد نہیں ہے؟ اس پر تمام صحافیوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ اس پر جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمارے ملک میڈیا آزاد نہیں بلکہ پابند یے، اس ملک میں میڈیا کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، اصل صحافیوں کو نکال کر باہر پھینکا جا رہا ہے۔
جسٹس فائز نے کہا کہ ملک کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے، جب کسی قوم کا میڈیا تباہ ہو جاتا ہے تو ملک بھی خود بخود تباہ ہو جاتا ہے، ملک میں جمہوریت کو نہ پنپنے دینے پر بات کرتے یوئے انہوں نے کہا کہ صبح لگائے گئے پودے کو کیا شام کو اکھاڑ کر دیکھا جاتا ہے کہ اسکی جڑ کتنی مضبوط ہوئی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج ہر مخالف غدار اور حکومتی حمایت کرنے والا محبِ وطن بتایا جارہا ہے۔
اس موقع پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اصولا ججز کو ایسی گفتگو سے احتراز کرنا چاہیے لیکن کیا کریں ملک میں آئیڈیل صورتحال نہیں ہے، ہم لوگ کب تک خاموش رہیں گے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلدیاتی حکومت کو ختم کر کے پنجاب حکومت نے آئین کی واضح خلاف ورزی کی، ایسے تو اپنی مرضی کی حکومت آنے تک آپ حکومتوں کو ختم کرتے رہیں گے۔ جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ ملک جمہوریت کے لیے بنایا تھا، ہم نے جمہوریت کھوئی تو آدھا ملک بھی کھویا۔ انہوں نے کہا کہ آج میڈیا والے پٹ رہے ہیں، ہمیں نہیں پتا چلتا کہ کس نے کس کو کب، کہاں اور کیسے اٹھا لیا۔
سپریم کورٹ میں پاکستانی میڈیا کی آزادی کے حوالے سے گفتگو تب شروع ہوئی جب کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا پاکستان میں میڈیا آزاد ہے؟ آپ ہاں، ناں یا معلوم نہیں میں سے ایک آپشن کا استعمال کریں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ کیا کوئی چوتھا آپشن بھی مل سکتا ہے، جس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔ جسٹس عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ آپ لوگ میڈیا کا گلا کیوں گھونٹ رہے ہیں، حکومت کو اپنی تعریف سننے کا اتنا شوق کیوں ہے۔ اس موقع پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس تو 3 سے 6 روز میں آجاتا ہے، لیکن مردم شماری پر فیصلہ اب تک نہیں ہوسکا، یہ ترجیحات کا معاملہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔ اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا چیئرمین کون ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا چیئرمین وزیراعظم ہوتا ہے، اس پر جسٹس عیسیٰ نے پوچھا کہ کیا وزیراعظم نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا۔ عدالتی استفسار پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم نے اجلاس بلایا تھا لیکن کسی وجہ سے ہو نہ سکا۔
ایک موقع پر جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضہ ہیں، پنجاب حکومت نے بلدیاتی ادارے تحلیل کرکے جمہوریت کا قتل کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جانب سے بلدیاتی ادارے تحلیل کرنے کی کوئی وجہ تو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لا کے دور میں تو ایسا ہوتا تھا لیکن جمہوریت میں ایسا کبھی نہیں دیکھا یا سنا، کیا پنجاب میں لوکل گورنمنٹ ختم کرنے کا موڈ بن گیا تھا؟ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون بنا دیا گیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ کھیل مت کھیلیں، الیکشن کمیشن کہہ چکا ہے کہ پنجاب کا بلدیاتی اداروں کو تحلیل کرنا غیر آئینی ہے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کی رائے ہے۔ اس پر جسٹس عیسیٰ نے ان سے سوال کیا کہ آپ کی رائے میں کیا یہ اقدام آئینی تھا یا غیر آئینی؟ جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدالت کو کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے سکے۔
اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب قاسم چوہان نے کہا کہ میرے لیے اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے، جس پر جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ آپ عوام اور خدا سے ڈریں، ہم فیصلے میں لکھیں گے کہ آپ اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے، چلیں ہم اٹارنی جنرل سے یہ سوال پوچھ لیتے ہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیونکہ یہ سوال ایک مفروضے پر مبنی ہے، اسلیے میں عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہوں، میں آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کا شدید مخالف تھا، میری نظر میں عوام کی رائے کا، احترام ہونا چاہیے۔ جس پر جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت صدر مملکت اور گورنرز کو لا محدود اختیارات سونپے گئے تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ڈیفنس میں رہنے والوں کے مسائل نہیں، کچی آبادی والوں کے اصل مسائل ہوتے ہیں، اسی دوران جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ہم نے خود کو نہ سدھارا تو وقت نکل جائے گا، لوگ بد دعائیں دے رہے ہیں۔ طویل سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا پنجاب کا حال مشرقی پاکستان والا کرنا ہے، پنجاب کے عوام کو حقوق سے محروم کر دیا، الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے اخراجات سے ڈراتا ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے الیکشن پر 18 ارب خرچ آئے گا، یہ رقم تو 36 اراکان اسمبلی کو دیے جانے والے ترقیاتی فنڈز کے برابر ہے، یہ عوام کا پیسہ ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مردم شماری کا مسئلہ ہے تو دوبارہ کروالیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ نئی مردم شماری پر فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل میں ہوگا۔ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے، چیزیں بہتری کی طرف جا رہی ہیں، جس پر جسٹس عیسیٰ نے پوچھا کہ جنگ کیا جاری ہے، ’اٹارنی جنرل صاحب؟‘ ایک شخص بندوق کی نوک پر شہری کو لوٹ لیتا ہے آپ اس کو، حالت جنگ کہہ دیتے ہیں، آئین و قانون پر عمل درآمد یقینی بنائیں، گناہ گاروں کو جیل میں ڈالیں۔ عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر چیز بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہوتی، میں مانتا ہوں اب بھی کچھ گرے ایریاز موجود ہیں، اس پر جسٹس عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ آپ یہاں رک جائیں، میرے ہاتھ میں آئین کی کتاب ہے اور یہ کتاب بلیک اینڈ وائٹ ہے، آئین میں کچھ گرے نہیں ہوتا، عین ممکن ہے کہ آئین کی چند شقیں مجھے ذاتی طور پر نا پسند ہوں، مگر آئین ہم سب پر مقدم ہے، چاہے ہمیں پسند ہو یا نا پسند، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آپ سے متفق ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button