جسٹس منصور علی شاہ نے تحریک انصاف کو انوکھا انصاف کیوں دیا؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ الیکشن سے پہلے اگر جسٹس قاضی فائز عیسی کے ایک فیصلے نے تحریک انصاف سے بلا چھین لیا تھا تو اب جسٹس منصور علی شاہ کے ایک فیصلے نے تحریک انصاف کو وہ سب کچھ دلوا دیا ہے جو اس نے مانگا بھی نہیں تھا۔

اپنی تازہ سیاسی تجزیہ میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ عدلیہ کے حالیہ فیصلوں سے عمران خان اور تحریک انصاف کو مسلسل بڑی سیاسی کامیابیاں مل رہی ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کی پٹیشن میں کونسل کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی نشستیں دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں تحریک انصاف کو ہی بحال کر دیا۔ سپریم کورٹ نے نہ صرف سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے تحریک انصاف کے تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو یہ موقع دیا کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں بلکہ خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کو بھی تحریک انصاف کو دینے کا حکم جاری کر دیا۔ یعنی سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو وہ کچھ دے دیا جو اُس نے نہ تو مانگا تھا اور نہ ہی سوچا تھا۔ سیاسی لحاظ سے اگر انتخابات سے پہلے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی عدالت کے ایک فیصلے کے نتیجے میں تحریک انصاف بحیثیت سیاسی جماعت الیکشن لڑنے سے محروم ہو گئی تھی تو جسٹس منصور علی شاہ کے اکثریتی فیصلے نے تحریک انصاف کو اسمبلیوں میں بحال کر دیا۔ سیاسی طور پر اگر یہ کہا جائے کہ جسٹس منصور علی شاہ سمیت سپریم کورٹ کے آٹھ ججوں نے دراصل قاضی فائز عیسٰی کی عدالت کے فیصلے کو ریورس کر دیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس منصور علی شاہ کی آپسی چپقلش کا نتیجہ ہے کیونکہ منصور علی شاہ کو شک تھا کہ فائز عیسی حکومت کی دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر ایک آئینی ترمیم کے ذریعے اپنی مدت ملازمت بڑھانے سکتے ہیں۔ چنانچہ منصور علی شاہ نے 7 ججوں کے ساتھ مل کر حکومت کی دو تہائی اکثریت ہی ختم کر دی۔

انصار عباسی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ آئینی ہے یا آئین سے بالاتر، سیاسی ہے یا قانونی اس پر بحث جاری رہے گی لیکن جو حقیقت ہے وہ یہی ہے کہ یہ فیصلہ ہی فائنل ہے، اسی پر عمل درآمد ہو گا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے دوسرے ہی روزعمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدت کیس میں بری کر دیا گیا لیکن چند ہی گھنٹوں میںاُن کی توشہ خانہ کے ایک نئے کیس میں نیب نے گرفتاری ڈال دی اور یوں وہ رہائی سے محروم رہے۔ عدت کیس میں بریت بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے بڑی کامیابی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی ان سیاسی کامیابیوں سے زمینی حقائق اور سیاسی صورتحال میں کیا تبدیلی آ سکتی ہے۔ تحریک انصاف کی اسمبلیوں میں بحالی اور مخصوص نشستوں کے حصول کے بعد حکومتی اتحاد اگرچہ دو تہائی اکثریت سے محروم ہو چکا لیکن شہباز شریف حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں اور اُن دونوں کے درمیان ایکے اور حکومت کی مضبوطی کی سب سے بڑی وجہ عمران خان اور تحریک انصاف کا طرز سیاست ہے۔جب تک عمران خان فوجی قیادت کے ساتھ لڑائی میں الجھے رہیں گے، جب تک وہ پاکستان کی معیشت کو ناکام بنانے کا کھیل کھیلتے رہیں گے تب تک حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی دراڑ کا کوئی خطرہ نہیں۔

انصار عباسی کہتے ہیں کہ عمران خان بریت کے باوجود اب بھی جیل میں ہیں اور جو حالات نظر آ رہے ہیں وہ تب تک جیل میں ہی رہیں گے جب تک کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے اپنی لڑائی ختم نہیں کرتے اور معیشت کے لیے خطرہ بننے سے باز نہیں آتے۔ عدالتیں عمران کو ریلیف دیتی رہیں گی لیکن حکومت اور ریاست اُنہیں جیل میں رکھنے کے جواز پیدا کرتی رہیں گی۔ عمران کو موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ بڑے بڑے جلسے جلوس کریں، دھرنے دیں ریلیاں نکالیں۔ یہ کھیل ایسے ہی جاری رہے گا۔اس صورتحال میں شہباز شریف حکومت کو اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ اپنی کارکردگی سے خصوصاً معاشی پرفارمنس سے۔ آئی ایم ایف کی ڈیل ہو چکی، بجٹ پاس ہو گیا، اب اگر شہباز شریف حکومت معیشت کی بہتری کیلئے بڑے فیصلے اور اُن پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو پھر اس حکومت کو کوئی نہیں بچا سکتا۔ شہباز شریف حکومت کی ناکامی کو فوج کی ناکامی بھی سمجھا جائے گا۔ یہ صورتحال، عمران کے لیے بھی اچھی نہیں ہو گی بلکہ ملک ایک بحران کا شکار ہو جائے گا۔ایسی صورتحال سے ملک کو بچانے کے لیے سب ایک ایک قدم پیچھے ہٹیں اور ایسے مذاکرات کا راستہ نکالیں جس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان اور عوام کی خوشحالی ہو۔ سیاسی جماعتوں، مقتدرہ، حکومت کے ساتھ ساتھ عدلیہ کو بھی اپنے رویوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Back to top button