جسٹس یحیی آفریدی کو اگلا چیف جسٹس سپریم کورٹ لگانے کا امکان

اگر اتحادی حکومت اپنا مجوزہ آئینی ترمیمی پیکج منظور کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو سپریم کورٹ کے ججز کی سینیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر موجود جسٹس یحیی آفریدی کو سپریم کورٹ کا اگلا چیف جسٹس تعینات کیا جا سکتا ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے جمعہ کو متفقہ طور پر منظور کیا جانے والا آئینی پیکیج پارلیمنٹ سے منظور ہو جانے کی صورت میں جسٹس یحییٰ آفریدی کو ممکنہ طور پر سپریم کورٹ کا اگلا چیف جسٹس مقرر کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ مجوزہ آئینی ترمیمی پیکج کے مطابق اب چیف جسٹس آٹومیٹک طریقے سے سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا۔ اس وقت سینیارٹی لسٹ میں جسٹس منصور علی شاہ پہلے نمبر پر ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اگر قانون بدل گیا تو وہ چیف جسٹس نہیں لگ پائیں گے۔ اسی لیے وہ اس وقت کھل کر تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں اور الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو الاٹ کرنے کے لیے دو دھمکی آمیز خطوط لکھ چکے ہیں۔ آئینی ترامیم منظور ہو جانے کی صورت میں 26 اکتوبر 2024 کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کے عہدے کیلئے جن تین سینئر ترین ججز کے ناموں پر غور کیا جائے گا اُن میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس مُنیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں۔ ان میں سے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کو عمراندار جج قرار دیا جاتا ہے چونکہ یہ اپنے فیصلوں کے ذریعے کھل کر پی ٹی آئی کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔

منصور علی شاہ کے چیف جسٹس بننے کے امکانات معدوم کیوں ہو گئے؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر سیاسی طور پر بہت زیادہ متنازعہ ہو چکے ہیں لہذا ان میں سے کسی کو چیف جسٹس بنائے جانے کا امکان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سینیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر موجود جسٹس یحیی آفریدی ججز کی جنگ میں غیر متنازعہ اور غیر جانبدار رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں سپریم کورٹ کا اگلا چیف جسٹس بنائے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔

 یاد رہے کہ مجوزہ ترامیم میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز میں سے کیا جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے جسٹس منیب اختر کے ساتھ مل کر عدالتی ادھم مچا رکھا ہے۔ ان کی کوشش تھی کہ نہ تو حکومت آئینی ترامیم کروا سکے اور نہ ہی چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ کار بدلے لہذا انہوں نے مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو الاٹ کرنے کا حکم جاری کر کے پارلیمنٹ میں اتحادی حکومت کی دو تہائی اکثریت ختم کر دی تھی۔

یاد رہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم کے تحت چیف جسٹس اف پاکستان کی تعیناتی کےلیے تشکیل دی گئی کمیٹی نامزد جج کا نام وزیر اعظم کو بھیجے گی جس کی منظوری صدر مملکت سے لی جائے گی۔ اگر نامزد کردہ جج کا نام مسترد کیا جائے گا تو اُس صورت میں کمیٹی کے ذریعہ اگلے سینئر ترین جج کے نام پر غور کیا جائے تا وقت یہ کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر نہ ہو جائے۔  مجوزہ پیکیج میں نئے چیف جسٹس کا نام پیش کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔ آئینی پیکج کے مطابق، کمیٹی میں حکومتی ارکان کی تعداد زیادہ ہوگی۔ مجوزہ آئینی پیکج کے مطابق، خصوصی پارلیمانی کمیٹی 12ارکان پر مشتمل ہوگی جن میں قومی اسمبلی سے 8 جبکہ سینیٹ سے چار ارکان ہوں گے۔

اگر قومی اسمبلی تحلیل ہوجائے تو کمیٹی کے تمام ارکان سینیٹ سے ہوں گے۔ اس کمیٹی میں ارکان کی نمائندگی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہر پارلیمانی پارٹی کو کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہوگی اور پارلیمنٹ میں جماعتوں کے تناسب سے ارکان کو پارلیمانی قائدین نامزد کریں گے۔ رکنیت کے لحاظ سے ارکان کا اعلان چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کریں گے۔ آئینی پیکج میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی کل رکنیت کی اکثریت سے، چیف جسٹس آف پاکستان کی ریٹائرمنٹ سے 14 روز قبل نئے نامزد کردہ جج کا نام وزیر اعظم کو بھیجے گی۔

تاہم، 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پہلی نامزدگی چیف جسٹس آف پاکستان کی ریٹائرمنٹ سے قبل تین دن میں بھیجی جائے گی۔ پیکج میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن یا کمیٹی میں کسی رکنیت کے خالی ہونے یا پھر کسی رکن کے غیر حاضر ہونے کی وجہ سے اس کمیشن یا کمیٹی کے کسی فیصلے یا اقدام پر سوال اٹھایا جائے گا نہ اسے غیر قانونی سمجھا جائے گا۔

Back to top button