جعلی لائسنس والے پائلٹس، ملوث افسران کیخلاف کاروائی کا حکم

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی سول ایویشن اتھارٹی سے استعفا مانگ لیا، انہوں نے ریمارکس دیے کہ تمام برائیاں ایئرپورٹ سے آتی اور جاتی ہیں،جعلی لائسنس والے پائلٹ اور ملوث افسران کیخلاف کاروائی کی جائے،پی آئی اے کا کوئی اثاثہ فروخت نہیں کرنے دیں گے،آپ استعفا دیتے ہیں یا کاروائی کریں؟سپریم کورٹ میں پی آئی اے میں جعلی لائسنس کیس کی سماعت ہوئی۔
اس موقع پر چیف جسٹس گلز اراحمد نے ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مکالمہ کیا کہ ہمارے لیے شرم کا مقام ہے پائلٹس کے لائسنس جعلی نکلے۔پوری دنیا میں ہمارا جعلی لائسنس والا اسکینڈل مشہور ہوا، پاکستان کے پہلے بھی اور اسکینڈل مشہور ہوئے ہیں۔ کیا کسی افسر کے خلاف کاروائی کی گئی ، پاکستان میں تمام برائیاں ایئرپورٹ سے آتی اور جاتی ہیں۔ آپ کے تمام ایئرپورٹس پر کرپشن کا راج ہے۔
آپ کے سارے کمپیوٹرکمپرومائز ہوگئے۔لگتا ہے آپ پر آج یہ انکشاف ہورہا ہے۔سی اے اے نے عوام کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں۔شرم کی بات ہے کہ بھیانک جرائم میں ملوث اور جرائم کرانے والے آرا م سے تنخواہیں لے رہے ہیں۔تقریر نہیں سنیں گے اگر کوئی کام کیا ہے تو وہ بتائیں۔ڈی جی نے عدالت کوبتایا کہ ہم محکمے میں اصلاحات لا رہے ہیں۔جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ اس عہدے کے اہل نہیں، سی اے اے چلانا آپ کے بس کی بات نہیں۔
آپ استعفا دے رہے ہیں یا ہم کاروائی کریں؟چیف جسٹس نے حکم دیا کہ روزویلٹ ہوٹل سمیت پی آئی اے کا کوئی اثاثہ بھی فروخت نہیں کرسکیں گے۔سپریم کورٹ نے جعلی لائسنس والے پائلٹس کے خلاف فوری کاروائی کا حکم دے دیا۔ ملوث افسران کیخلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔چیف جسٹس نے سی اے اے اور پی آئی اے سے دوہفتے میں جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔ مزید برآں چیف جسٹس نے کورونا کیس میں این ڈی ایم اے پر بھی برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے ریمارکس دیے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ این ڈی ایم اے اربوں روپے کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں؟ لگتا ہے این ڈی ایم اے کو ہی ختم کرنا پڑے گا۔ سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے سے جامع جواب مانگ لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button